🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. ما يدعو به الرجل إذا فرغ من طعامه
جب کوئی شخص کھانے سے فارغ ہو جائے تو یوں دعا مانگے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30176 ترقیم الشثری: -- 31538
٣١٥٣٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن عمرو بن مرة قال: كان النبي ﷺ إذا فرغ من طعامه قال:"الحمد لله الذي من علينا فهدانا، والحمد لله الذي اشبعنا و (اروانا) (١) ، وكل بلاء حسن او صالح (ابلانا) (٢) " (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أردانا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (إبتلانا).
(٣) مرسل؛ عمرو بن مرة تابعي.

حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا کرتے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم پر احسان فرمایا پس ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔ اور سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر کیا اور ہمیں سیراب کیا۔ اور ہر وہ اچھی نعمت جو اس نے ہمیں عطا کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31538]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31538، ترقيم محمد عوامة 30176)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30177 ترقیم الشثری: -- 31539
٣١٥٣٩ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن (رياح) (١) بن عبيدة (عن) (٢) مولى ابي سعيد (عن ابي سعيد) (٣) قال: كان رسول الله ﷺ (إذا اكل طعاما) (٤) قال:"الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (رباح).
(٢) سقط من: [أ، ب، ك، هـ]، ولم تتضح في [جـ]، وأثبتها مما ورد في ٨/ ١٢١.
(٣) سقط من: [ط].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ط].
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (١١٢٧٦)، وأبو داود (٣٨٥٠)، والترمذي (٣٤٥٧)، والنسائي في الكبرى (١٠١٢١)، وابن السني (٤٦٦)، والطبراني في الدعاء (٨٩٨)، وابن ماجه (٣٢٨٣)، والبخاري في التاريخ الكبير ١/ ٣٥٤، وعبد بن حميد (٩٠٧).

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانا کھالیتے تو یوں دعا فرماتے: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31539]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31539، ترقيم محمد عوامة 30177)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30178 ترقیم الشثری: -- 31540
٣١٥٤٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال: كان سلمان إذا طعم (قال) (١) : الحمد لله الذي كفانا (المؤنة) (٢) ⦗٢٦٨⦘ واوسع لنا الرزق (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (يقول).
(٢) في [جـ، ك]: (المؤونة).
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٥٧٨)، والطبراني (٦٠٥٥)، وابن سعد ٤/ ٨٩، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٠٤٣).

حضرت حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان جب کھانا کھالیتے تو یوں دعا فرماتے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے خرچ کی کفایت کی۔ اور ہمارے رزق میں وسعت بخشی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31540]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31540، ترقيم محمد عوامة 30178)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30179 ترقیم الشثری: -- 31541
٣١٥٤١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن إسماعيل (عن) (١) ابي سعيد قال: كان ابو سعيد إذا وضع (له) (٢) الطعام قال: الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا (وجعلنا) (٣) مسلمين (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في: [ز]، وفي بقية النسخ: (بن).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٣) في [ب]: (واجعلنا).
(٤) مجهول؛ لجهالة إسماعيل بن أبي إدريس، أخرجه النسائي (١٠١٢٢)، وأخرجه مرفوعًا في الكبرى (١٠١٢٠)، وعمل اليوم والليلة (٢٩٠)، وأبو داود (٣٨٥٠)، وابن ماجه (٣٢٨٣)، والطبراني في الدعاء (٨٩٨)، وانظر: ما تقدم برقم [٣١٥٣٩]، وانظر: تهذيب الكمال.

حضرت اسماعیل بن ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کھانا رکھ دیا جاتا تو حضرت ابو سعید یوں فرماتے: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔ اور ہمیں مسلمان بنایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31541]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31541، ترقيم محمد عوامة 30179)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30180 ترقیم الشثری: -- 31542
٣١٥٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عن ابي (الورد) (١) عن ابن (اعبد) (٢) او ابن معبد قال: قال علي: تدري ما حق الطعام؟ قال: قلت: وما حقه؟ قال: تقول: بسم الله، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا، (٣) قال: تدري ما شكره؟ قلت: وما شكره؟ قال: تقول: الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الدرداء).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عبد).
(٣) كذا في: [أ، ب، جـ، ط، ك]، في [هـ]: زيادة (ثم).
(٤) مجهول؛ لجهالة ابن معبد، أخرجه عبد اللَّه في زوائد المسند (١٣١٣)، والطبراني في الدعاء (٢٣٥)، والمزني ٢٠/ ٣٢٢، والبيهقي في الشعب (٦٠٤٠)، والطبراني في الدعاء (٢٣٥)، وسبق ٨/ ١٢٢ برقم [٢٦١٠٣] و [٢٦١٠٤].

حضرت ابن اعبد یا ابن معبد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کھانے کا حق کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا! کہ کھانے کا حق کیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تو یہ کلمات کہے: اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اللہ! جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ پھر فرمایا: تم جانتے ہو کہ کھانے کا شکر کیا ہے؟ میں نے پوچھا: کھانے کا شکر کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: کہ تم یہ کلمات کہو: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31542]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31542، ترقيم محمد عوامة 30180)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30181 ترقیم الشثری: -- 31543
٣١٥٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن ابي النجود عن ذكوان ابي صالح عن عائشة انه قدم إليها طعام فقالت: ائدموه، فقالوا: (و) (١) ما إدامه؟ قالت: تحمدون الله عليه إذا فرغتم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٦١٠).

حضرت ذکوان بن ابی صالح فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: کھانے کو اس کا حق دو اور اس کا حق فارغ ہو کر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31543، ترقيم محمد عوامة 30181)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30182 ترقیم الشثری: -- 31544
٣١٥٤٤ - حدثنا محمد بن بشر وابو اسامة عن زكريا بن ابي زائدة عن سعيد بن ابي بردة عن انس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الله ليرضى عن العبد ان ياكل الاكلة (فيحمده عليها) (١) (او) (٢) يشرب الشربة فيحمده عليها" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٢) في [ط]: (و).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٣٤)، وأحمد (١٢١٦٨).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ راضی ہوتے ہیں اپنے اس بندے سے جو ایک لقمہ کھاتا ہے پھر اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے پھر اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31544، ترقيم محمد عوامة 30182)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30183 ترقیم الشثری: -- 31545
٣١٥٤٥ - (١) (حدثنا) (٢) ابو اسامة (عن) (٣) عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثنا بشر ابن زياد عن سليمان بن عبد الله عن (عتريس) (٤) بن عرقوب قال: قال عبد الله: من قال حين يوضع طعامه: بسم الله خير الاسماء (٥) في الارض (وفي) (٦) السماء لا يضر مع اسمه داء، اللهم اجعل فيه بركة وعافية وشفاء فيضره ذلك الطعام ما كان (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (حدثنا أبو بكر).
(٢) في [ك]: (أخبرنا).
(٣) في [ك]: (أخبرنا).
(٤) في [أ، ب، ط]: (عبريس).
(٥) في [ط، هـ]: زيادة (للَّه).
(٦) في [أ، ب]: (و)، وفي [جـ، ط]: (ولا في).
(٧) مجهول؛ لجهالة بشر بن زياد وسليمان بن عبد اللَّه.

حضرت عتریس بن عرقوب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص کھانا رکھے جانے کے وقت یہ کلمات پڑھے: اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو ناموں میں سب سے بہتر ہے، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے۔ اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اے اللہ! اس کھانے میں برکت اور عافیت اور شفا رکھ دے۔ پس یہ کھانا کسی کو بھی نقصان نہیں دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31545، ترقيم محمد عوامة 30183)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30184 ترقیم الشثری: -- 31546
٣١٥٤٦ - حدثنا ابو اسامة عن هشام قال: كان ابي لا يؤتى بطعام ولا شراب حتى الشربة من الدواء فيشربه او يطعمه حتى يقول: الحمد لله الذي هدانا واطعمنا (وسقانا) (١) ونعمنا، (٢) الله اكبر، اللهم (الفتنا) (٣) نعمتك بكل (شر) (٤) ، (فاصبحنا) (٥) وامسينا منها بكل خير، (نسالك) (٦) تمامها وشكرها، لا خير إلا خيرك ولا إله غيرك، إله الصالحين ورب العالمين، الحمد لله رب العالمين، لا إله إلا الله ما شاء الله (٧) لا قوة إلا بالله، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا وقنا عذاب النار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٣) في [أ، ب، ط]: (أكفينا).
(٤) في [ب]: (شيء).
(٥) في [جـ، ك]: (وأصبحنا).
(٦) في [ط]: (نسمالك)، وفي [ك]: (نسلك).
(٧) في [هـ]: زيادة (و).

حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد کوئی بھی کھانا یا پینے کی چیز یہاں تک دوائی کا قطرہ بھی نہیں پیتے یا کھاتے تھے یہاں تک کہ یہ کلمات پڑھ لیا کرتے تھے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت بخشی اور ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمیں نعمتیں عطا فرمائیں اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ! تیری نعمت نے ہمیں ہر شر سے مانوس بنا لیا ہے پس ہم نے صبح کی اور ہم نے شام کی تمام بھلائی کے ساتھ اس نعمت کی وجہ سے۔ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں نعمت کے تمام ہونے کا اور اس کے شکر کا۔ تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ نیکو کاروں کے معبود! اور تمام جہانوں کے پرور دگار، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو اللہ چاہے۔ اس کی مدد کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اے اللہ! جو رزق تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے تو ہمارے لیے اس میں برکت فرما دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31546]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31546، ترقيم محمد عوامة 30184)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30185 ترقیم الشثری: -- 31547
٣١٥٤٧ - حدثنا محمد (بن) (١) بشر (حدثنا) (٢) مسعر عن هلال عن عروة انه كان إذا وضع الطعام قال: سبحانك ما احسن ما (تبلينا) (٣) ، سبحانك ما احسن ما تعطينا، ربنا ورب آبائنا الاولين، ثم يسمي الله ويضع يده.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: سقط.
(٢) في [ك]: (أخبرنا)، وفي [ط، هـ]: (عن).
(٣) في [ط]: (تعطينا)، وفي [هـ]: (تبتلينا).

حضرت ھلال فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ کے سامنے جب کھانا رکھ دیا جاتا تو یہ کلمات پڑھتے: تو تمام عیوب سے پاک ہے کیا اچھی نعمتوں سے تو نے ہمیں سرفراز فرمایا تو تمام عیوب سے پاک ہے کیا اچھی نعمتیں تو نے ہمیں عطا فرمائیں۔ اے ہمارے پروردگار، رب اور ہمارے آباؤ اجداد کے پروردگار، پھر آپ تسمیہ پڑھتے اور اپنا ہاتھ رکھتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31547، ترقيم محمد عوامة 30185)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں