مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
88. ما يدعو به الرجل إذا صعد على الصفا والمروة
جب کوئی شخص صفا اور مروہ پر چڑھے تو یوں دعا کرے
ترقیم عوامۃ: 30252 ترقیم الشثری: -- 31615
٣١٦١٥ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه عن جابر عن النبي ﷺ انه بدا بالصفا (فرقى) (١) عليه حتى راى البيت ووحد الله وكبره وقال:"لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله (وحده) (٢) انجز وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب (وحده) (٣) "، ثم دعا دعاء بين ذلك فقال مثل هذا ثلاث مرات، ثم اتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (فرقا).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [جـ]: (وعده).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢١٨)، وأبو داود (١٩٠٥).
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا پہاڑی سے ابتدا کی اور اس پر چڑھ گئے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لیا۔ اور اللہ کی وحدانیت بیان کی اور تکبیر کہی۔ اور یہ کلمات پڑھے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، ا س کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی، اور اس اکیلے نے تمام گروہوں کو شکست دی، پھر ان دونوں کے درمیان دعا کی اور اسی طرح تین مرتبہ یہ کلمات پڑھے، پھر مروہ پہاڑی پر تشریف لائے، اور مروہ پر بھی ویسا ہی کیا جیسا کہ صفاء پر کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31615]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31615، ترقيم محمد عوامة 30252)
ترقیم عوامۃ: 30253 ترقیم الشثری: -- 31616
٣١٦١٦ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن فراس عن الشعبي (عن وهب بن الاجدع) (١) قال: سمعت عمر يقول: إذا قمتم (على) (٢) الصفا فكبروا سبع تكبيرات، بين كل تكبيرتين حمد الله، و (ثناء) (٣) عليه، و (صلاة) (٤) على النبي ⦗٢٩٦⦘ ﷺ (٥) ودعاء لنفسك، وعلى المروة مثل ذلك (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [ك]: (إلى).
(٣) في [ط]: (أثني)، وفي [هـ]: (الثناء).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (صلوات اللَّه).
(٥) سقط من: [ك].
(٦) حسن؛ وهب صدوق، أخرجه البيهقي ٥/ ٩٤، والفاكهي (١٣٩٧).
حضرت وھب بن الاجدع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: جب تم لوگ صفا پہاڑی پر کھڑے ہو، تو سات مرتبہ تکبیرکہو اور ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد و ثنا بیان کرو، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو، اور اپنی ذات کے لیے دعا مانگو اور مروہ پہاڑی پر بھی ایسا ہی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31616]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31616، ترقيم محمد عوامة 30253)
ترقیم عوامۃ: 30254 ترقیم الشثری: -- 31617
٣١٦١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن زكريا عن الشعبي عن وهب بن الاجدع انه سمع عمر يقول: يبدا بالصفا ويستقبل (القبلة) (١) البيت ثم يكبر سبع تكبيرات بين كل تكبيرتين: حمد الله (وثناء عليه) (٢) وصلاة على النبي ﷺ ومسالة لنفسه وعلى المروة مثل ذلك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٣) حسن؛ وهب صدوق.
حضرت وھب بن الاجدع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صفا پہاڑی سے ابتدا کی جائے گی، اور پہلے بیت اللہ کی طرف استقبال کرو، پھر سات مرتبہ تکبیر کہو، اور ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمدو ثنا بیان ہو، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود ہو، اور اپنی ذات کے لیے سوال ہو، اور مروہ پہاڑی پر بھی ایسے ہی کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31617]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31617، ترقيم محمد عوامة 30254)
ترقیم عوامۃ: 30255 ترقیم الشثری: -- 31618
٣١٦١٨ - حدثنا عبد الله بن نمير عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر انه كان إذا صعد (على) (١) الصفا استقبل البيت ثم كبر ثلاثا ثم قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، يرفع بها صوته ثم يدعو قليلا ثم يفعل ذلك على المروة حتى (يفعل) (٢) ذلك سبع مرات، فيكون التكبير (واحدا) (٣) وعشرين تكبيرة، فما يكاد يفرغ حتى يشق علينا ونحن شباب (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ]: (يفعلن).
(٣) في [هـ]: (إحدى).
(٤) صحيح.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا پہاڑی پر چڑھتے تو بیت اللہ کی طرف رخ کرتے پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر یہ کلمات پڑھتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اور ان کلمات میں اپنی آواز کو بلند فرماتے۔ پھر تھوڑی دیر دعا کرتے، پھر یہی عمل مروہ پہاڑی پر بھی فرماتے یہاں تک کہ سات مرتبہ ایسے چکر لگاتے، تو تکبیر کی تعداد اکیس بن جاتی، ہم نوجوان ہونے کے باوجود فارغ ہونے کے قریب بہت زیادہ تھک جاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31618]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31618، ترقيم محمد عوامة 30255)
ترقیم عوامۃ: 30256 ترقیم الشثری: -- 31619
٣١٦١٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن الاصبغ بن (زيد) (١) عن القاسم بن ابي ⦗٢٩٧⦘ ايوب عن (سعيد) (٢) بن جبير انه كان (يقول) (٣) : يقوم (الرجل) (٤) على الصفا والمروة قدر قراءة سورة النبي ﷺ (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (يزيد).
(٢) في [ب]: (شعبة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [ك].
حضرت قاسم بن ابی ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرمایا کرتے تھے: آدمی صفا اور مروہ پہاڑی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سورت پڑھنے کی مقدار کے بقدر کھڑا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31619]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31619، ترقيم محمد عوامة 30256)
ترقیم عوامۃ: 30257 ترقیم الشثری: -- 31620
٣١٦٢٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة قال: قال الحكم لإبراهيم: رايت ابا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث يقوم على الصفا قدر ما يقرا الرجل عشرين ومائة آية فقال: إنه لفقيه.
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے حضرت ابراہیم سے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث کو صفا پہاڑی پر دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کے ایک سو بیس آیات پڑھنے کے بقدر قیام فرمایا: تو حضرت ابراہیم نے فرمایا! یقینا وہ تو فقیہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31620]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31620، ترقيم محمد عوامة 30257)