مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
100. الرجل يدعو وهو قائم من كرهه؟
جو اس بات کو مکروہ سمجھے کہ آدمی کھڑا ہو کر دعا کرے
ترقیم عوامۃ: 30314 ترقیم الشثری: -- 31678
٣١٦٧٨ - (١) حدثنا وكيع بن الجراح عن ابن ابي ليلى عن عطاء عن ابن عباس انه قال: لا تقوموا تدعون كما تصنع اليهود في كنائسهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (بقي بن مخلد قال: أخبرنا أبو بكر قال).
(٢) ضعيف؛ لضعف ابن أبي ليلى.
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: تم لوگ کھڑے ہو کر دعا مت کرو جیسا کہ یہود اپنے گرجاؤں میں کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31678]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31678، ترقيم محمد عوامة 30314)
ترقیم عوامۃ: 30315 ترقیم الشثری: -- 31679
٣١٦٧٩ - (١) حدثنا وكيع عن مسعر عن ابن الاصبهاني عن ابي عبد الرحمن انه راى رجلا يدعو قائما بعد ما انصرف فسبه او شتمه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (حدثنا أبو بكر قال).
حضرت ابن الاصبھانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد کھڑا ہو کر دعا کر رہا تھا۔ تو آپ نے اس کو بُرا بھلا کہا یا اس کو گالی دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31679، ترقيم محمد عوامة 30315)
ترقیم عوامۃ: 30316 ترقیم الشثری: -- 31680
٣١٦٨٠ - (حدثنا) (١) وكيع عن مسعر عن الحكم عن (عبدة) (٢) بن ابي لبابة عن عبد الرحمن بن يزيد انه كرهه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) في [ك]: (عبيدة).
حضرت عبدہ بن ابو لبابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید کھڑے ہو کر دعا کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31680]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31680، ترقيم محمد عوامة 30316)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31727
(٣١٧٢٧) [*] (١) حدثنا (ابو) (٢) معاوية عن حجاج عن الحكم عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله قال: اثنتان بدعة: ان يقوم الرجل بعد ما يفرغ من صلاته مستقبل القبلة يدعو، وان يسجد السجدة الثانية فيرى ان حقا عليه ان يلزق إليتيه بالارض قبل ان (ينهض) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [طـ]: (رُقِيَهُ).
(٤) منقطع؛ الحكم لم يسمع من عبد الرحمن بن يزيد.
[*] قال مُعِدُّ الكتاب للشاملة: كذا الرقم بالمطبوع، وهو غلط
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري -31727، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 30318 ترقیم الشثری: -- 31681
٣١٦٨١ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد انه كره القيام بعدها (تشبها) (١) باليهود.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (تشبه).
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نماز کے بعد کھڑے ہو کر دعا مانگنے کو ناپسند کرتے تھے یہود کی مشابہت کی وجہ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31681، ترقيم محمد عوامة 30318)
ترقیم عوامۃ: 30319 ترقیم الشثری: -- 31682
٣١٦٨٢ - حدثنا عبد الله بن نمير عن جويبر عن الضحاك عن عبد الله انه بلغه ان قوما يذكرون الله قياما قال: فاتاهم، فقال: ما هذا (النكراء) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (الكبرا)، وفي [ط، هـ]: (النكر).
(٢) ضعيف جدًّا؛ جويبر متروك.
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی: کہ ایک قوم کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے۔ ضحاک فرماتے ہیں۔ پس آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کیا بُرا کام ہے؟!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31682]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31682، ترقيم محمد عوامة 30319)
ترقیم عوامۃ: 30320 ترقیم الشثری: -- 31683
٣١٦٨٣ - حدثنا عباد بن العوام عن جميل بن زيد قال: رايت ابن عمر دخل البيت وصلى ركعتين ثم خرجت وتركته قائما يدعو ويكبر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لحال جميل بن زيد.
حضرت جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر میں نکل آیا اس حال میں کہ میں نے ان کو چھوڑا کہ وہ کھڑے ہو کر دعا کر رہے تھے اور تکبیر کہہ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31683]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31683، ترقيم محمد عوامة 30320)
ترقیم عوامۃ: 30321 ترقیم الشثری: -- 31684
٣١٦٨٤ - حدثنا غندر عن شعبة قال: قلت لمغيرة كان إبراهيم يكره إذا انصرف ان يقوم مستقبل القبلة يرفع يديه قال: نعم.
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ سے پوچھا؛ کیا حضرت ابراہیم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نماز سے فارغ ہو کر کوئی شخص قبلہ رو کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو بلند کرے؟ تو آپ نے فرمایا! جی ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31684]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31684، ترقيم محمد عوامة 30321)