مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
149. ما يدعى به للميت بعد ما يدفن
میت کو دفنانے کے بعد اس کے لیے یوں دعا کی جائے
ترقیم عوامۃ: 30471 ترقیم الشثری: -- 31841
٣١٨٤١ - حدثنا إسماعيل بن علية عن (عبد الله) (١) بن ابي بكر قال: كان انس ابن مالك إذا سوى على الميت قبره قام عليه ثم قال: اللهم عبدك رد (إليك) (٢) (فاراف) (٣) به وارحمه، اللهم جاف الارض عن (جنبيه) (٤) وافتح ابواب السماء لروحه وتقبله منك بقبول حسن، اللهم إن كان محسنا فضاعف له في إحسانه، وإن كان مسيئا فتجاوز عنه سيئاته (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في كتاب الجنائز، وفي [ب]، وفي [أ، جـ، ح، ص، ز، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (عليك).
(٣) في [ك]: (فرف)، وفي [جـ]: (فأرف).
(٤) في [جـ، ك]: (جنبه).
(٥) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ جب میت کو قبر پر مٹی ڈال کر اسے برابر کردیا جاتا تو حضرت انس قبر پر کھڑے ہو کر یوں دعا فرماتے: اے اللہ! تیرا بندہ تیری طرف لوٹا دیا گیا ہے پس تو اس پر شفقت فرما اور اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! زمین کو اس کے پہلو کی جانب سے کشادہ کر دے۔ اور اس کی روح کے لیے آسمان کے دروازے کھول دے۔ اور اس کے اعمال کو اچھے طریقہ سے قبول فرما، اے اللہ! اگر یہ نیکو کار تھا تو اس کی نیکیوں کو دو چند فرما دے، اور اگر خطا کار تھا تو اس کی خطاؤں سے درگزرفرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31841، ترقيم محمد عوامة 30471)
ترقیم عوامۃ: 30472 ترقیم الشثری: -- 31842
٣١٨٤٢ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حجاج عن عمير بن سعيد ان عليا كبر على يزيد بن المكفف اربعا ثم قام على القبر فقال: اللهم عبدك وابن عبدك (٢) نزل ⦗٣٦٧⦘ بك اليوم وانت خير منزول به، اللهم وسع له (مدخله) (٣) واغفر له ذنبه، فإنا لا نعلم إلا خيرا وانت اعلم به (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (عوام).
(٢) في [ب، ط، هـ]: زيادة (و).
(٣) في [ك]: (مداخلة).
(٤) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.
حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یزید بن مکفف کے جنازہ پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر یوں دعا فرمائی! اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے۔ آج یہ تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نواز ہے۔ اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے، اور اس کے گناہ کو معاف فرما دے۔ پس بیشک ہم نہیں جانتے مگر بھلائی اور تو اس بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31842، ترقيم محمد عوامة 30472)
ترقیم عوامۃ: 30473 ترقیم الشثری: -- 31843
٣١٨٤٣ - حدثنا ابن نمير عن (ابن) (١) جريج عن ابن ابي مليكة قال: لما فرغ من قبر عبد الله بن السائب قام ابن عباس على القبر فوقف عليه ثم دعا ثم انصرف (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيد في: [ك، هـ].
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.
حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن سائب کی قبر برابر کر کے فارغ ہوئے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر پر کھڑے ہوئے۔ پس آپ اس پر کافی دیر کھڑے رہے، پھر آپ نے دعا کی اور واپس لوٹ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31843، ترقيم محمد عوامة 30473)
ترقیم عوامۃ: 30474 ترقیم الشثری: -- 31844
٣١٨٤٤ - حدثنا ابن علية قال: رايت ايوب يقوم على القبر فيدعو للميت وربما رايته يدعو له وهو في القبر قبل ان يخرج.
حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ایوب کو ایک قبر پر کھڑے ہوئے دیکھا پھر آپ نے میت کے لیے دعا کی، اور کئی مرتبہ میں نے ان کو دیکھا کہ دفنانے والا ابھی قبر میں ہوتا اور ا س کے نکلنے سے پہلے آپ میت کے لیے دعا فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31844، ترقيم محمد عوامة 30474)