مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
172. ما أمر النبي ﷺ عائشة حين أمرها أن توجز في الدعاء
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عائشہ کو یوں حکم فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا میں اختصار کرنے کا حکم فرمایا
ترقیم عوامۃ: 30503 ترقیم الشثری: -- 31873
٣١٨٧٣ - حدثنا عبد الله بن نمير عن عبد الملك بن ابي سليمان عن رجل من اهل البصرة قال: اتى رسول الله ﷺ بهدية، وعائشة قائمة تصلي، فاعجبه ان تاكل معه فقال:"يا عائشة اجمعي واوجزي (قال) (١) : قولي: اللهم إني اسالك من الخير كله عاجله وآجله، واعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله، وما قضيت من قضاء فبارك لي فيه واجعل عاقبته إلى خير" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (و).
(٢) مرسل مجهول؛ الرجل التابعي مجهول، وتقدم بإسناد آخر رقم [٣١٣١٤].
اہل بصرہ میں سے ایک آدمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ لایا گیا۔ اس حال میں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہی تھیں۔ پس آپ نے چاہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! سمیٹ اور مختصر کر۔ فرمایا: یوں کہو! اے اللہ! میں تجھ سے تمام بھلائی کا سوال کرتی ہوں جو جلدی ملنے والی ہو اور جو دیر سے ملنے والی ہو۔ اور میں تیری پناہ لیتی ہوں تمام برائیوں سے جو جلدی آنے والی ہیں اور جو دیر سے آنے والی ہیں۔ اور تو نے جو بھی فیصلہ فرمایا، پس تو اس فیصلہ میں میرے لیے برکت پیدا فرما، اور اس کے انجام کو اچھا کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31873، ترقيم محمد عوامة 30503)