مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
175. (باب السيماء)
علامات ایمان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 30506 ترقیم الشثری: -- 31876
٣١٨٧٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حميد ان سعيد بن ابي الحسن كان يقول: اللهم سومنا سيماء الإيمان، والبسنا لباس التقوى.
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابو الحسن یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! ہم پر ایمان کی علامت لگا دے۔ اور ہمیں تقوے کا لباس پہنا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31876]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31876، ترقيم محمد عوامة 30506)
ترقیم عوامۃ: 30507 ترقیم الشثری: -- 31877
٣١٨٧٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة (عن ثابت) (١) قال: كنا في مكان لا (تنفذه) (٢) الدواب فقمت وانا اقرا هؤلاء الآيات: ﴿غافر الذنب وقابل التوب شديد العقاب﴾ [غافر: ٣] ، قال: فمر شيخ على بغلة شهباء قال: قل: يا غافر الذنب اغفر ذنبي، يا قابل التوب اقبل توبتي، يا شديد العقاب اعف عن عقابي، يا ذا الطول طل علي بخير، قال: فقلتها ثم نظرت فلم اره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (تفذه)، وفي [ط]: (ينفذه).
حضرت حماد بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت نے ارشاد فرمایا: کہ ہم لوگ ایسی جگہ میں تھے جسے جانور پار نہیں کر پا رہے تھے۔ پس میں کھڑا ہوا اس حال میں کہ میں ان آیات کی تلاوت کر رہا تھا! ترجمہ! گناہ کو معاف کرنے والے، اور توبہ قبول کرنے والے، سخت پکڑ والے۔ آپ فرماتے ہیں: پس ایک بزرگ پیشانی پر بالوں والے خچر پر سوار ہو کر گزرے اور فرمایا: یوں کہو، اے گناہوں کو معاف کرنے والے، میرے گناہ کو معاف فرما، اے توبہ قبول کرنے والے، میری توبہ کو قبول فرما۔ اے سخت پکڑ والے، مجھ سے میری سزا کو معاف فرما۔ اے لمبائی والے! مجھ پر خیر کو لمبا کر دے۔ آپ فرماتے ہیں! میں نے ان کلمات کو پڑھا۔ پھر میں نے دیکھا تو مجھے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31877]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31877، ترقيم محمد عوامة 30507)
ترقیم عوامۃ: 30508 ترقیم الشثری: -- 31878
٣١٨٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن عبيد الله بن عبيد ان جبريل (موكل) (١) بالحوائج فإذا سال المؤمن ربه قال: (احبس) (٢) (احبس) (٣) (حبا) (٤) لدعائه ان يزداد، وإذا سال الكافر قال: اعطه، اعطه، بغضا لدعائه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (يوكل).
(٢) في [ط]: (حبس)، وفي [ك]: (احبسه).
(٣) في [ب]: (حبسًا)، وفي [ط]: (حبس).
(٤) في [ح]: (حبسًا)، وفي [ط، هـ]: (محبًا).
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ بن عبید نے ارشاد فرمایا: بیشک حضرت جبرائیل ضروریات کے پورا کرنے پر مامور ہیں۔ پس جب کوئی مؤمن اپنے رب سے سوال کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں! روک لو، روک لو۔ اس کی دعا کو پسند کرتے ہوئے کہ وہ زیادہ مانگے۔ اور جب کوئی کافر سوال کرتا ہے۔ تو آپ فرماتے ہیں: اس کو دے دو، اس کو دے دو۔ اس کی دعا کو ناپسند کرتے ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31878]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31878، ترقيم محمد عوامة 30508)
ترقیم عوامۃ: 30509 ترقیم الشثری: -- 31879
٣١٨٧٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد (عن) (١) ثابت قال: كان انس يقول: لقد تركت بعدي عجائز يكثرن ان يدعين الله ان يوردهن حوض محمد ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بن).
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ١/ ١٥٠، وابن أبي عاصم في السنة (٦٩٨)، والآجري في الشريعة (٨٣٨)، وابن المبارك في الزهد (١٦٠٩)، وأبو يعلى (٣٣٥٥).
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس فرمایا کرتے تھے: البتہ تحقیق میں نے چھوڑیں اپنے بعد ایسی بوڑھی عورتیں جو کثرت کے ساتھ اللہ سے دعا مانگتیں تھیں کہ اللہ انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوض پر وارد کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31879]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31879، ترقيم محمد عوامة 30509)