مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
50. في أول ما نزل من القرآن وآخر ما نزل
قرآن کے سب سے پہلے حصہ اور سب سے آخری حصہ کے نازل ہونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 30839 ترقیم الشثری: -- 32215
٣٢٢١٥ - حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن البراء قال: آخر سورة نزلت كاملة براءة وآخر آية نزلت في القرآن: ﴿يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة﴾ (٢) [النساء: ١٧٦] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (عن).
(٢) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند البخاري (٤٦٠٥)، أخرجه البخاري (٤٣٦٤)، ومسلم (١٦١٨).
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت براء نے ارشاد فرمایا: سب سے آخری مکمل نازل ہونے والی سورة برائت ہے، اور قرآن میں سب سے آخری نازل ہونے والی آیت یہ ہے (آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، کہو اللہ فتوی دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32215، ترقيم محمد عوامة 30839)
ترقیم عوامۃ: 30840 ترقیم الشثری: -- 32216
٣٢٢١٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن السدي قال: آخر آية نزلت: ﴿واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله (ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون) (١) ﴾ [البقرة: ٢٨١] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت سدّی نے ارشاد فرمایا: سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی (اور ڈرو اس دن سے کہ جب لوٹ کر جاؤ گے تم اس دن اللہ کے حضور پھر پورا پورا دیا جائے گا ہر شخص کو (بدلہ) اس کے کمائے ہوئے عملوں کا اور ان پر ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32216، ترقيم محمد عوامة 30840)
ترقیم عوامۃ: 30841 ترقیم الشثری: -- 32217
٣٢٢١٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: (انا) (١) مالك بن معول عن عطية العوفي قال: آخر آية نزلت: ﴿واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون﴾.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (حدثنا).
حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ حضرت عطیہ عوفی نے ارشاد فرمایا: آخری آیت یہ نازل ہوئی تھی (اور ڈرو اس دن سے کہ جب لوٹ کر جاؤ گے تم اس دن اللہ کے حضور پھر پورا پورا دیا جائے گا ہر شخص کو (بدلہ) اس کے کمائے ہوئے عملوں کا اور ان پر ہرگز ظلم نہ ہوگا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32217، ترقيم محمد عوامة 30841)
ترقیم عوامۃ: 30842 ترقیم الشثری: -- 32218
٣٢٢١٨ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (ابن) (١) بشير قال: حدثنا مالك عن ابي السفر عن البراء قال: آخر آية نزلت: ﴿يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة﴾ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) حسن؛ سعدان بن بشير صدوق، أخرجه البخاري (٦٧٤٤)، ومسلم (١٦١٨).
حضرت ابو السفر فرماتے ہیں کہ حضرت براء نے ارشاد فرمایا: سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی (آپ سے فتوی پوچھتے ہیں ِ، کہو اللہ فتویٰ دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32218، ترقيم محمد عوامة 30842)
ترقیم عوامۃ: 30843 ترقیم الشثری: -- 32219
٣٢٢١٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد قال: هي اول سورة نزلت: ﴿اقرا باسم ربك الذي خلق﴾ [العلق: ١] ، ثم نون.
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے فرمایا: یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی (پڑھو (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب نام لے کر جس نے پیدا کیا۔ پھر سورة ن نازل ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32219، ترقيم محمد عوامة 30843)
ترقیم عوامۃ: 30844 ترقیم الشثری: -- 32220
٣٢٢٢٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن ابي إسحاق عن البراء قال: آخر آية في القرآن: ﴿يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة﴾ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند البخاري (٦٤٠٥)، وأخرجه البخاري (٤٦٥٤)، ومسلم (١٦١٨).
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت براء نے ارشاد فرمایا: قرآن میں سب سے آخری آیت یہ نازل ہوئی (آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ فتویٰ دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں۔) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32220، ترقيم محمد عوامة 30844)
ترقیم عوامۃ: 30845 ترقیم الشثری: -- 32221
٣٢٢٢١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن (دينار) (١) قال: سمعت عبيد بن عمير يقول: (اول) (٢) ما نزل من القرآن: ﴿اقرا باسم ربك الذي خلق﴾ ثم نون (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (دنير).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) صحيح.
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبید بن عمیر کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قرآن میں سب سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی (پڑھو (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا پھر سورت ن نازل ہوئی۔) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32221، ترقيم محمد عوامة 30845)
ترقیم عوامۃ: 30846 ترقیم الشثری: -- 32222
٣٢٢٢٢ - حدثنا وكيع عن قرة عن ابي رجاء قال: اخذت من ابي موسى: ﴿اقرا باسم ربك الذي خلق﴾ وهي اول سورة انزلت على محمد ﷺ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابو رجائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو موسیٰ سے یہ سورت سیکھی (پڑھو (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا) یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی پہلی سورت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32222]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32222، ترقيم محمد عوامة 30846)