🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. ما عبره عمر ﷺ
وہ تعبیرات جو سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31141 ترقیم الشثری: -- 32522
٣٢٥٢٢ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد بن ابي عروبة عن سالم بن ابي الجعد الغطفاني عن (معدان) (١) (بن) (٢) ابي طلحة اليعمري ان عمر بن الخطاب قال يوم (جمعة) (٣) (او) (٤) خطب يوم (جمعة) (٥) فحمد الله واثنى عليه ⦗٨٦⦘ ثم قال: ايها الناس، إني (٦) رايت (كان) (٧) ديكا احمر نقرني نقرتين، ولا ارى ذلك إلا حضور اجلي (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (سعدان)، وفي [أ، ب، جـ، ط]: (سعد).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [هـ]: (الجمعة).
(٤) في [هـ]: (و).
(٥) في [هـ]: (الجمعة).
(٦) في [ك]: زيادة (قد).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٦٧)، وأحمد (٨٩).

حضرت معدان بن طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یا راوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعے کے دن خطبہ دیا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا اے لوگو! میں نے ایک سرخ مرغ خواب میں دیکھا ہے کہ اس نے مجھے دو مرتبہ چونچ ماری ہے، اور مجھے اس کی تعبیر یہی سمجھ میں آتیے کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32522]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32522، ترقيم محمد عوامة 31141)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31142 ترقیم الشثری: -- 32523
٣٢٥٢٣ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن شعبة عن ابي (جمرة) (١) عن (جارية) (٢) ابن قدامة السعدي قال: حججت العام الذي اصيب فيه عمر قال: فخطب فقال: إني رايت (كان) (٣) ديكا نقرني نقرتين او ثلاثا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (حمزة).
(٢) في [أ، ب]: (حارثة)، وفي [ط]: (الحارثة)، وفي [هـ]: (جويرية)، وانظر: الجرح والتعديل ٢/ ٥٣٠، وتهذيب الكمال ٥/ ١٧٤.
(٣) سقطت من: [ب].
(٤) صحيح.

حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی روایت کرتے ہیں فرمایا کہ جس سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا اس سال میں نے حج کیا، فرماتے ہیں کہ آپ نے خطبے میں فرمایا تھا کہ میں نے ایک مرغ دیکھا ہے جس نے مجھے دو یا تین مرتبہ چونچ ماری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32523]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32523، ترقيم محمد عوامة 31142)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31143 ترقیم الشثری: -- 32524
٣٢٥٢٤ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن الاسود بن قيس عن عبد الله بن الحارث الخزاعي قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول في خطبته: إني رايت البارحة ديكا نقرني ورايته (يجليه) (١) الناس عني، فلم يلبث إلا (ثلاثا) (٢) حتى قتله عبد المغيرة: ابو لؤلؤة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (يحليه)، وفي (ب): (يخليه).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (قليلًا).
(٣) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن حارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا کہ آپ اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے گزشتہ رات ایک مرغ کو دیکھا کہ اس نے مجھے ٹھونگ ماری ہے اور میں نے دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں، آپ اس کے بعد تین روز نہیں ٹھہرے کہ آپ کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو لؤلؤ نے شہید کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32524]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32524، ترقيم محمد عوامة 31143)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31144 ترقیم الشثری: -- 32525
٣٢٥٢٥ - حدثنا ابو اسامة عن (عمر) (١) بن حمزة قال: اخبرني سالم عن ابن عمر قال: قال عمر: رايت رسول الله ﷺ في المنام فرايته لا ينظرني، فقلت: يا ⦗٨٧⦘ رسول الله ما شاني؟ قال: الست الذي تقبل وانت صائم، (قلت) (٢) : (فوالذي) (٣) بعثك بالحق لا اقبل بعدها وانا صائم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عمرو).
(٢) في [ك]: (قال).
(٣) في [هـ]: (والذي).
(٤) ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة، أخرجه إسحاق كما في المطالب (١٠٦٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٤٥، والبزار (١٠١٨/ كشف) وابن عدي ٥/ ١٩، والطحاوي ٢/ ٨٨، والبيهقي ٤/ ٢٣٢.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، میں نے دیکھا کہ آپ مجھے دیکھ نہیں رہے تھے،، میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری یہ کیسی حالت ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تم وہی نہیں ہو جو روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لیتا ہے؟ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں آج کے بعد روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ نہیں لوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32525]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32525، ترقيم محمد عوامة 31144)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31145 ترقیم الشثری: -- 32526
٣٢٥٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: حدثني غير واحد ان قاضيا من قضاة اهل الشام اتى عمر بن الخطاب فقال: يا امير المؤمنين رايت رؤيا افظعتني، قال: ما هي؟ قال: رايت الشمس والقمر يقتتلان والنجوم معهما نصفين، قال: فمع ايهما كنت؟ قال: مع القمر على الشمس، (قال) (١) عمر: ﴿وجعلنا الليل والنهار آيتين فمحونا آية الليل وجعلنا آية النهار مبصرة﴾ قال: فانطلق فوالله لا تعمل لي عملا ابدا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) (فقال) في: [جـ، ك].
(٢) مجهول؛ لإبهام بعض رواته، وعطاء اختلط.

حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے بیان کیا کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضٗرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور عرض کیا اے امیر المومنین! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، آپ نے فرمایا کیا خواب ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے سورج اور چاند کو آپس میں جنگ کرتے ہوئے دیکھا جبکہ ستارے بھی آدھے آدھے ان کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ تم کس کے ساتھ تھے؟ اس نے کہا چاند کے ساتھ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً (اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے پس ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) آپ نے فرمایا: چلے جاؤ، خدا کی قسم تم کبھی میرے لیے کام نہ کرو گے!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32526]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32526، ترقيم محمد عوامة 31145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31146 ترقیم الشثری: -- 32527
٣٢٥٢٧ - حدثنا (سريج) (١) بن النعمان قال: حدثني عبد العزيز بن ابي سلمة عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: خطب عمر بن الخطاب الناس فقال: إني رايت في منامي ديكا احمر نقرني على مقعد إزاري ثلاث نقرات، فاستعبرتها اسماء بنت (عميس) (٢) فقالت: إن صدقت رؤياك قتلك رجل من العجم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، ك، هـ]: (شريح).
(٢) في [أ، هـ]: (قيس).
(٣) صحيح.

حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک سرخ مرغ کو دیکھا ہے کہ اس نے میرے ازار باندھنے کی جگہ میں تین ٹھونگیں ماری ہیں، میں نے اسماء بنت عمیس سے اس کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ کا خواب سچا ہوا تو ایک عجمی آدمی آپ کو قتل کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32527]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32527، ترقيم محمد عوامة 31146)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں