مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. في الرجل يستأذن ورثته (في) أن يوصي بأكثر من الثلث
یہ باب ہے اس آدمی کے حکم کے بیان میں جو اپنے ورثاء سے ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کرنے کی اجازت طلب کرے
ترقیم عوامۃ: 31365 ترقیم الشثری: -- 32754
٣٢٧٥٤ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا اوصى الرجل (بوصية) (١) لوارث، فاجاز الورثة قبل ان يموت، (ثم رجع) (٢) الورثة بعد موته، فهم على راس امرهم، وإذا كان (لغير وارث زيادة على الثلث فمثل ذلك، وإذا كانت) (٣) لغير وارث ما بينه وبين الثلث فإنها جائزة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (الوصية).
(٢) في [أ، هـ]: (لم ترجع).
(٣) سقط من: [أ، ط، ك، هـ].
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی وارث کے لئے وصیت کرے اور اس کے مرنے سے پہلے اس کے ورثاء اس کی اجازرت دے دیں پھر اس کے مرنے کے بعد اپنے فیصلے سے رجوع کرلیں تو ان کو اس کا اختیار ہے، اور اگر کسی غیر وارث شخص کے لئے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کی گئی ہو تب بھی ایسا ہی ہے، اور اگر کسی نے غیر وارث کے لئے ایک تہائی سے کم کی وصیت کی ہو تو وہ نافذ ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32754]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32754، ترقيم محمد عوامة 31365)
ترقیم عوامۃ: 31366 ترقیم الشثری: -- 32755
٣٢٧٥٥ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي عن شريح قال: إذا استاذن الرجل ورثته في الوصية فاوصى باكثر من الثلث فطيبوا له، فإذا نفضوا ايديهم (من قبره) (١) فهم على راس امرهم، (إن شاؤا اجازوا) (٢) ، وان شاؤا لم يجيزوا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط في [ب]: ما بين القوسين.
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے ورثاء سے وصیت کی اجازت مانگ کر ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کر دے اور وہ رضا مندی کا اظہار بھی کردیں تو اس آدمی کے مرنے کے بعد ان ورثاء کو نئے سرے سے اس وصیت کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32755]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32755، ترقيم محمد عوامة 31366)
ترقیم عوامۃ: 31367 ترقیم الشثری: -- 32756
٣٢٧٥٦ - حدثنا ابن عيينة عن صالح بن مسلم عن الشعبي قال: سالته فقال: هم على راس امرهم.
صالح بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے ایسی وصیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کو نئے سرے سے اختیار مل جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32756]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32756، ترقيم محمد عوامة 31367)
ترقیم عوامۃ: 31368 ترقیم الشثری: -- 32757
٣٢٧٥٧ - (١) حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن (ابن) (٢) طاوس عن ابيه قال: يرجعون إن شاؤا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایسے ورثاء اگر چاہیں تو اپنے فیصلے سے رجوع کرسکتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32757]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32757، ترقيم محمد عوامة 31368)
ترقیم عوامۃ: 31369 ترقیم الشثری: -- 32758
٣٢٧٥٨ - حدثنا عبد الاعلى عن يونس عن الحسن في رجل اوصى باكثر من الثلث برضا (من) (١) الورثة، فلما مات انكروا ذلك، قال: هو جائز عليهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ز، ط، هـ].
یونس حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ورثاء کی رضا مندی سے ان کے لئے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کی اور جب وہ مرگیا تو ورثاء نے ایک تہائی سے زیادہ نکالنے سے انکار کردیا، آپ نے فرمایا یہ ان کے لئے جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32758]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32758، ترقيم محمد عوامة 31369)
ترقیم عوامۃ: 31370 ترقیم الشثری: -- 32759
٣٢٧٥٩ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: كان عطاء يقول: جائز، قد اذنوا.
ابن جریج فرماتے ہیں کہ عطاء فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات ورثاء کے لئے جائز ہے، علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32759]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32759، ترقيم محمد عوامة 31370)
ترقیم عوامۃ: 31371 ترقیم الشثری: -- 32760
٣٢٧٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد انه قال في الرجل يوصي باكثر من الثلث: يجيزه الورثة ثم يرجعون فيه، قال: ليس لهم ان يرجعوا.
شعبہ حماد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے، ورثاء اس کی اجازت دے دیں اور پھر بعد میں رجوع کرلیں فرمایا: ان کو اس طرح رجوع کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور حکم فرماتے ہیں کہ اگر چاہیں تو وہ رجوع کرسکتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32760]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32760، ترقيم محمد عوامة 31371)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32761
٣٢٧٦١ - وقال الحكم: إن شاؤا رجعوا فيه.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32761، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 31372 ترقیم الشثری: -- 32762
٣٢٧٦٢ - حدثنا ابن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن الحكم قال: إذا اوصى الرجل فزاد على الثلث فاستاذن ابنه في حياته فاذن له، فإذا مات فعاد إلى ابنه، إن شاء اجازه وإن شاء رده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عيينة).
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کرے اور اپنی زندگی میں اپنے بیٹے سے اس کی جازت لے اور بیٹا اس کو اجازت دے دے، تب بھی اس آدمی کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے کو اختیار ہوگا، چاہے تو اس وصیت کو نافذ کر دے اور چاہے تو ردّ کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32762]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32762، ترقيم محمد عوامة 31372)
ترقیم عوامۃ: 31373 ترقیم الشثری: -- 32763
٣٢٧٦٣ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن ابي عون عن القاسم بن عبد الرحمن ان رجلا استاذن ورثته في موضه في ان يوصي باكثر من الثلث فاذنوا له، فلما مات رجعوا، فسئل ابن مسعود عن ذلك فقال: (ذلك) (١) لهم ذلك (التكره) (٢) لا يجوز (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ط، هـ].
(٢) ورد في [أ، ب]: (الكره).
(٣) منقطع؛ القاسم لم يسمع من ابن مسعود.
قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے مرض وفات میں اپنے ورثاء سے اس بات کی اجازت مانگی کہ ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت کرے، انہوں نے اس کی اجازت دے دی، لیکن جب وہ آدمی مرا تو وہ انکاری ہوگئے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں اس بات کا اختیار ہے اور ان کو اس کے خلاف پر مجبور کرنا جائز نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32763]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32763، ترقيم محمد عوامة 31373)