صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب وُجُوبِ الإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ:
باب: سوگ واجب ہے اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1486 ترقیم شاملہ: -- 3725
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، قَالَ: قَالَت زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَت: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان (حمید) کو یہ تین حدیثیں بیان کیں، کہا: زینب نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں ان کے ہاں گئی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ ملی مخلوط یا کوئی اور خوشبو منگوائی، اس میں سے (پہلے) ایک بچی کو لگائی (تاکہ ہاتھ پر اس کی مقدار بہت کم ہو جائے)، پھر اپنے رخساروں پر ہاتھ مل لیا، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر خاوند پر، چار ماہ دس دن (سوگ منائے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3725]
حمید بن نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ تین احادیث بیان کیں، حضرت زینب رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں ان کے پاس گئی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی، وہ خلوق تھی یا کوئی اور، اور اسے ایک بچی کو لگایا، پھر اسے اپنے رخساروں پر مل لیا، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مگر بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3725]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1487 ترقیم شاملہ: -- 3726
(حديث موقوف) قَالَت قَالَت زَيْنَبُ : ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَت: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
زینب (بنت ابی سلمہ) نے کہا: پھر میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی (عبیداللہ بن جحش) فوت ہوئے، تو انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور لگائی، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، حلال نہیں کہ وہ کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر پر، چار مہینے دس دن (سوگ کرے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3726]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، پھر جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی فوت ہوئے، تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگوا کر ملی، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے، کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ جائز نہیں ہے، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3726]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3727
(حديث موقوف) قَالَت قَالَت زَيْنَبُ : سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا، أَفَنَكْحُلُهَا؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا "، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ: " لَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ "،
زینب نے کہا: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں، ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ دو یا تین بار (پوچھا گیا) ہر بار آپ فرماتے: ”نہیں۔“ پھر فرمایا: ”یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ایک عورت (پورا) ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3727]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اپنی والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہو گئی ہے، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ دو یا تین مرتبہ فرمایا: ”نہیں“، پھر فرمایا: ”یہ تو بس چار ماہ دس دن ہیں، اور تم میں سے ہر ایک جاہلیت کے دور میں سال گزرنے پر مینگنی پھینکا کرتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3727]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1489 ترقیم شاملہ: -- 3728
قَالَ حُمَيْدٌ: قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فقَالَت زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا، حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً، فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ.
حمید نے کہا: میں نے زینب سے پوچھا: ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکنا کیا ہے؟ زینب نے ہواب دیا: (جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک (دڑبہ نما) انتہائی تنگ جھونپڑی میں چلی جاتی، اپنے بدترین کپڑے پہن لیتی اور کوئی خوشبو وغیرہ استعمال نہ کرتی حتیٰ کہ (اسی حالت میں) سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی جانور گدھا، بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا، تو وہ اسے اپنی شرمگاہ سے ملتی، کم ہی ہوتا کہ وہ کسی کو ملتی تو وہ زندہ رہتا (سخت تعفن اور جراثیم وغیرہ کی بنا پر بیمار ہو کر مر جاتا) پھر وہ باہر نکلتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ (اپنے آگے یا پیچھے) پھینکتی، پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ جو وہ چاہتی استعمال کرتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3728]
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”سال گزرنے پر مینگنی پھینکنے“ سے کیا مراد ہے؟ تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا: جب عورت کا شوہر فوت ہو جاتا، تو وہ ایک کٹیا میں داخل ہو جاتی اور اپنے بدترین کپڑے پہن لیتی اور خوشبو یا اس قسم کی کوئی چیز استعمال نہ کرتی، حتیٰ کہ اس پر سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی جاندار، گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا، اور وہ اسے اپنی شرمگاہ سے ملتی، اور جس جانور کو بھی ملتی وہ کم ہی زندہ رہتا، پھر وہ کٹیا سے نکلتی، تو اسے ایک مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی (کہ اتنا حق بھی ادا نہیں ہوا)، اس کے بعد جو خوشبو وغیرہ استعمال کرنا چاہتی، کر لیتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3728]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1489
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1486 ترقیم شاملہ: -- 3729
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت: تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ ، فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا، وَقَالَت: إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا "،
حمید بن نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، انہوں نے کہا: ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا کوئی انتہائی قریبی عزیز فوت ہو گیا۔ انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے ہلکا سا اپنے (رخسار اور) بازوؤں پر لگایا، اور کہا: میں اس لیے ایسا کر رہی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ (کسی مرنے والے پر) تین دن سے زیادہ سوگ منائے، مگر خاوند پر چار مہینے دس دن (سوگ منائے)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3729]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا کوئی عزیز فوت ہو گیا، تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر ملا، اور فرمایا: میں یہ اس کے لیے کر رہی ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور روزِ آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زائد سوگ منائے، مگر شوہر پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3729]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1487 ترقیم شاملہ: -- 3730
وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ ، عَنْ أُمِّهَا ، وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
زینب نے انہیں (حمید کو) اپنی والدہ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3730]
حمید بن نافع رحمہ اللہ کو حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے اپنی والدہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے یا ازواجِ مطہرات میں سے کسی بیوی سے روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3730]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3731
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا : أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ، أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا "،
حمید بن نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا وہ اپنی والدہ سے حدیث بیان کر رہی تھیں کہ ایک عورت کا شوہر فوت ہو گیا، انہیں اس کی آنکھ کے بارے میں (بیماری لاحق ہونے کا) خطرہ محسوس ہوا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے گھر کے بدترین حصے میں اپنے ٹاٹوں میں۔۔ یا فرمایا: اپنے بدترین ٹاٹوں میں اپنے گھر کے اندر۔۔ سال بھر رہتی، اس کے بعد جب کوئی کتا گزرتا تو وہ ایک لید پھینکتی اور باہر نکلتی تو کیا (اب) چار مہینے دس دن (صبر) نہیں (کر سکتی)؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3731]
حمید بن نافع کو حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ سے روایت سنائی کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، تو اس کے گھر والوں کو اس کی آنکھوں کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرمہ لگانے کی اجازت طلب کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک بدترین گھر میں، ٹاٹ یا جھل پہن کر، یا بدترین کپڑا پہن کر اپنے گھر میں ایک سال رہتی تھی، اور جب اس کے سامنے سے کتا گزرتا (ایک سال کے بعد) تو مینگنی پھینک کر (کٹیا سے) نکلتی تھی۔ تو کیا اب چار ماہ اور دس دن (گزارنا مشکل ہے)؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3731]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3732
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكُحْلِ، وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن نافع سے اکٹھی دو حدیثیں بیان کیں، سرمہ لگانے کے بارے میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک اور بیوی کی حدیث، البتہ انہوں نے ان کا نام، زینب، نہیں لیا۔۔ (باقی حدیث) محمد بن جعفر کی (سابقہ) حدیث کی طرح (بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3732]
حمید بن نافع رحمہ اللہ نے دونوں حدیثیں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی سرمہ لگانے والی حدیث اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری بیوی کی حدیث سنائی، لیکن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3732]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1488 ترقیم شاملہ: -- 3733
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ : تَذْكُرَانِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ بِنْتًا لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحُلَهَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ".
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے سنا، وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہی تھیں، وہ دونوں یہ بتا رہی تھیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کی ایک بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے، اس کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی ہے وہ چاہتی ہے کہ اس میں سرمہ لگائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تم میں سے کوئی عورت (پورا) سال گزرنے پر لید پھینکا کرتی تھی، اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3733]
حمید بن نافع کو زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث سنائی کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اس کی بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھ درد کرتی ہے، تو وہ چاہتی ہے اسے سرمہ ڈال دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3733]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1486 ترقیم شاملہ: -- 3734
وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَت: لَمَّا أَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِيُّ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَت: كُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس (ان کے والد) ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ہلکا سا لگایا اور کہا: مجھے اس کی ضرورت نہ تھی، (مگر) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ (کسی مرنے والے پر) تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3734]
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ملا اور فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے (کیونکہ خاوند فوت ہو چکا ہے، جس کے لیے زینت کرنی ہوتی ہے)۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے تین دن سے زائد سوگ کرنا جائز نہیں ہے، مگر خاوند پر وہ چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3734]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة