مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
35. من قال: لا تجوز وصية الصبي حتى يحتلم
ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ بچے کی وصیت جائزنہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے
ترقیم عوامۃ: 31505 ترقیم الشثری: -- 32902
٣٢٩٠٢ - حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: لا يجوز عتق الصبي، ولا وصيته، ولا بيعه، ولا شراؤه، ولا طلاقه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.
حضرت عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ بچے غلام کا آزاد کرنا، اس کی وصیت اور اس کی خریدو فروخت اور اس کی طلاق درست نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32902]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32902، ترقيم محمد عوامة 31505)
ترقیم عوامۃ: 31506 ترقیم الشثری: -- 32903
٣٢٩٠٣ - حدثنا ابو اسامة عن هشام (١) عن الحسن قال: لا تجوز وصية غلام حتى يحتلم، ولا جارية حتى تحيض.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن يونس).
ہشام روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن نے فرمایا کسی لڑکے کی وصیت بالغ ہونے سے پہلے درست نہیں اور کسی لڑکی کی وصیت اس کو حیض آنے سے پہلے درست نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32903]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32903، ترقيم محمد عوامة 31506)
ترقیم عوامۃ: 31507 ترقیم الشثری: -- 32904
٣٢٩٠٤ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري قال: وصيته ليست بجائزة إلا ما ليس [بذي (بال) (١) ] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (مال).
(٢) في [ب]: (لذي مال).
زھری فرماتے ہیں کہ بچے کی وصیت جائز نہیں، سوائے اس مال کے جس کی بہت اہمیت نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32904]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32904، ترقيم محمد عوامة 31507)
ترقیم عوامۃ: 31508 ترقیم الشثری: -- 32905
٣٢٩٠٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن ابي بكر بن عبد الله عن مكحول قال: سمعته يقول: إذا بلغ الغلام خمسة عشر جازت وصيته.
مکحول فرماتے ہیں کہ جب بچہ پندرہ سال کا ہوجائے تو اس کے لئے وصیت کرنا جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32905]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32905، ترقيم محمد عوامة 31508)
ترقیم عوامۃ: 31509 ترقیم الشثری: -- 32906
٣٢٩٠٦ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن (١) الحسن قال: لا تجوز وصيته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (يونس عن).
حضرت حسن سے منقول ہے کہ نابالغ بچے کی وصیت جائز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32906]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32906، ترقيم محمد عوامة 31509)
ترقیم عوامۃ: 31510 ترقیم الشثری: -- 32907
٣٢٩٠٧ - حدثنا ابو داود عن (المستمر) (١) بن الريان قال: حضرت (جابر) (٢) بن زيد في المسجد الجامع، وقال له زرارة بن اوفى -وهو يومئذ على القضاء-: إنه (رفع) (٣) إلي غلام اعتق عبدا (٤) ، فانكر ذلك الاولياء، (فرايت) (٥) ان ارد ذلك، ثم يودي الغلام حتى يشب الغلام ويحب المال، فإن شاء ان يمضي امضى، وإن شاء ان يرد رد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (المعتمر).
(٢) في [هـ]: (جعفر).
(٣) في [هـ]: (دفع).
(٤) في [م]: زيادة (له).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فأردت).
مستمر بن ریّان سے روایت ہے فرمایا کہ میں جامع مسجد میں حضرت جابر بن زید کے پاس تھا جبکہ ان کو حضرت زرارہ بن اوفی نے جو اس وقت قاضی تھے فرمایا کہ میرے پاس ایک نابالغ بچے کا مقدمہ آیا ہے جس نے اپنے غلام کو آزاد کردیا تھا اور اولیاء نے اس کو ماننے سے انکار کردیا تھا، میری رائے یہ ہوئی کہ اس آزادی کو ردّ کر دوں پھر بعد میں لڑکا جب بالغ ہوجائے گا اور اس کے دل میں مال کی محبت آنے لگے گی اس وقت اگر وہ لڑکا غلام کی آزادی کو نافذ کرنا چاہے تو کرلے اور اگر آزادی سے دستبردار ہونا چاہے تو ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32907]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32907، ترقيم محمد عوامة 31510)