🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. الرجل يوصي بالوصية ويقول: اشهدوا على ما فيها
اس آدمی کا بیان جو کوئی وصیت کرے اور کہے اس وصیت نامے کے اندر جو کچھ لکھا ہوا ہے تم لوگ اس کے گواہ ہو جائو!
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31488 ترقیم الشثری: -- 32885
٣٢٨٨٥ - حدثنا ابن علية عن يونس قال: جاء رجل إلى الحسن بوصية مختومة ليشهد عليها، فقال: ما تجد في هؤلاء الناس رجلين (تثقهما) (١) تشهدهما على كتابك هذا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ثقتهما).
یونس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت حسن کے پاس ایک وصیت نامہ لے کر آیا جو مہر بند تھا، تاکہ حضرت حسن رحمہ اللہ کو اس پر گواہ بنا لے، حضرت حسن نے فرمایا کیا تمہیں ان لوگوں میں کوئی دو با اعتماد نہیں ملتے جن کو تم اس تحریر پر گواہ بنا سکو؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32885]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32885، ترقيم محمد عوامة 31488)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31489 ترقیم الشثری: -- 32886
٣٢٨٨٦ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: اراه عن إبراهيم في الرجل يختم وصيته ويقول للقوم: اشهدوا على ما فيها، قال: لا (تجوز) (١) إلا إن يقراها عليهم، او تقرا عليه فيقر بما فيها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يجوز).
جریر نے مغیرہ سے روایت کیا، اور فرمایا کہ میرے خیال میں انہوں نے یہ بات حضرت ابراہیم سے نقل کی ہے، کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے وصیت نامے کو مہر بند کیا اور لوگوں سے کہتا ہے کہ اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اس پر گواہ ہو جاؤ! کہ یہ جائز نہیں ہے یہاں تک کہ ان کو وہ وصیت پڑھ کر سنائے، یا اس آدمی کے سامنے وہ وصیت نامہ پڑھا جائے اور وہ اس تحریر کا اقرار کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32886]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32886، ترقيم محمد عوامة 31489)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31490 ترقیم الشثری: -- 32887
٣٢٨٨٧ - حدثنا (زيد بن الحباب) (١) عن حماد بن زيد عن ايوب عن ابي قلابة في الرجل يقول: اشهدوا على ما في هذه الصحيفة، قال: لا، حتى يعلم ما فيها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (أبو أسامة).
ایوب حضرت قلابہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے وصیت نامہ لکھا اور کہتا ہے: گواہ ہو جاؤ اس وصیت نامے کی تحریر پر، فرمایا کہ جائز نہیں جب تک وہ لوگوں کو اس میں لکھی ہوئی وصیت بتا نہ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32887، ترقيم محمد عوامة 31490)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31491 ترقیم الشثری: -- 32888
٣٢٨٨٨ - حدثنا ابن مهدي عن عبد الله بن عمر عن سعيد بن زيد قال: ذهبت مع حفص بن عاصم إلى سالم وقد ختم وصيته فقال: إن حدث (بي) (١) (حادث) (٢) فاشهدوا عليها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (في).
(٢) في [م]: (حدث).

سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں حفص بن عاصم کے ساتھ حضرت سالم کے پاس گیا جبکہ انہوں نے اپنے وصیت نامے کو مہر بند کردیا تھا، فرمایا اگر مجھے موت آجائے تو تم اس وصیت نامے پر گواہ ہوجانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32888، ترقيم محمد عوامة 31491)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31492 ترقیم الشثری: -- 32889
٣٢٨٨٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن حماد بن سلمة عن قتادة عن عبد الملك ابن يعلى قاضي البصرة في الرجل يكتب وصيته ثم يختمها ثم يقول: اشهدوا على ما فيها، قال: جائز (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (حباب).
(٢) في [هـ]: زيادة (باب: من قال: تجوز وصية الصبي).

قتادہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے قاضی عبد الملک بن یعلیٰ نے فرمایا ا س آدمی کے بارے میں جو وصیت نامے کو لکھ کر مہر لگا دے اور پھر لوگوں سے کہے کہ اس میں جو لکھا ہوا ہے اس پر گواہ ہو جاؤ! کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32889، ترقيم محمد عوامة 31492)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31493 ترقیم الشثری: -- 32890
٣٢٨٩٠ - حدثنا (عباد) (١) عن روح بن القاسم عن عبد الله بن ابي بكر بن عمرو ابن حزم عن ابيه قال: كان غلام من غسان بالمدينة، وكان له ورثة بالشام، وكانت له عمة بالمدينة، فلما حضر اتت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له وقالت: افيوصي قال (احتلم بعد) (٢) ، قال: قلت: لا، (قال: فليوص) (٣) قال: فاوصى لها بنخل، فبعته انا لها بثلاثين الف درهم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]:) معاذ)، وفي [ط]: بياض.
(٢) بياض في: [هـ] ثم: (اللَّه)، وفي [أ، ب]: (أختكم بعد).
(٣) في [هـ]: بياض.
(٤) منقطع؛ أبو بكر بن حزم لم يدرك عمر.

ابوبکر بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک نوجوان لڑکا مدینہ میں رہتا تھا جس کے ورثاء شام میں رہتے تھے اور اس کی ایک پھوپھی مدینہ منورہ میں تھی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس کی پھوپھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اور اس کی حالت کا ذکر کر کے پوچھا کہ کیا وہ لڑکا کوئی وصیت کرسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا وہ بالغ ہوگیا ہے؟ کہتے ہیں میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر وہ وصیت کرسکتا ہے، کہتے ہیں اس لڑکے نے اپنی پھوپھی کے لئے ایک نخلستان کی وصیت کی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے وہ نخلستان اس عورت کے لئے تیس ہزار درہم میں بیچا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32890، ترقيم محمد عوامة 31493)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31494 ترقیم الشثری: -- 32891
٣٢٨٩١ - حدثنا ابو عاصم عن الاوزاعي عن الزهري ان عثمان اجاز وصية ابن إحدى عشرة سنة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الزهري لم يدرك عثمان.
زہری سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سالہ لڑکے کی وصیت کو نافذ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32891، ترقيم محمد عوامة 31494)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31495 ترقیم الشثری: -- 32892
٣٢٨٩٢ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري ان عمر بن عبد العزيز اجاز وصية الصبي.
زہری ہی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بچے کی وصیت کو نافذ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32892، ترقيم محمد عوامة 31495)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31496 ترقیم الشثری: -- 32893
٣٢٨٩٣ - حدثنا عبد الوهاب عن ايوب عن محمد (ان) (١) عبد الله بن عتبة (٢) ⦗٢٠٢⦘ سئل عن وصية جارية صغروها وحقروها فقال: من اصاب الحق (اجزناه) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (بن)، وفي [ط، هـ]: (عن).
(٢) في [هـ]: زيادة (أنه).
(٣) في [أ، جـ، م]: (أجزأ)، وفي [ب]: (أجر)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٦٤١٥)، وسنن سعيد بن منصور ١/ (٤٣٢)، وسنن الدارمي (٣٢٨٩)، وسنن البيهقي ٦/ ٢٨٢.

محمد سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عتبہ سے ایک بچی کی وصیت کے بارے میں سوا ل کیا گیا جس کو لوگوں نے کم عمر اور حقارت کے انداز میں بیان کیا تھا آپ نے فرمایا: جس شخص نے حق کے مطا بق وصیت کی اس کو اجر دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32893]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32893، ترقيم محمد عوامة 31496)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31497 ترقیم الشثری: -- 32894
٣٢٨٩٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن ابي بكر بن ابي موسى قال: اوصى ابن لابي موسى غلام صغير بوصية، فاراد إخوته ان يردوا وصيته، فارتفعوا إلى شريح فاجاز وصية الغلام.
ابوبکر بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ایک کم عمر بیٹے نے وصیت کردی، اس کے بھائیوں نے چاہا کہ اس کی وصیت کو ختم کردیں، اس کے لئے قاضی شریح کی عدالت میں مرافعہ کیا تو انہوں نے اس بچے کی وصیت کو نافذ فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32894، ترقيم محمد عوامة 31497)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں