مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
65. في الرجل يفضل بعض ولده على بعض
اس آدمی کا بیان جو اپنے کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے
ترقیم عوامۃ: 31635 ترقیم الشثری: -- 33040
٣٣٠٤٠ - حدثنا ابن عليه عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: احق تسوية النحل بين الولد على كتاب الله؟ قال: نعم، وقد (بلغنا) (١) ذلك عن نبي الله ﷺ انه قال:" (سويت) (٢) بين ولدك؟" قلت: في النعمان؟ قال: وغيره زعموا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (فعلنا).
(٢) في [ط، هـ]: (أسويت).
(٣) مرسل؛ عطاء تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٦٤٩٧).
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ کی رُو سے بچوں کو مال دینے میں برابر ی ضروری ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے صحابی سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے اپنے بچوں میں برابری کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ بات حضرت نعمان کے بارے میں منقول ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ محدثین فرماتے ہیں کہ کچھ اور صحابہ کے بارے میں بھی یہی بات منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33040، ترقيم محمد عوامة 31635)
ترقیم عوامۃ: 31636 ترقیم الشثری: -- 33041
٣٣٠٤١ - حدثنا عباد عن حصين عن الشعبي قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: اعطاني ابي عطية، فقالت امي عمرة (ابنة) (١) رواحة: فلا ارضى حتى (تشهد) (٢) رسول الله ﷺ فاتى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله إني اعطيت ابن عمرة عطية، فامرتني ان اشهدك، (فقال) (٣) :"اعطيت كل ولدك مثل هذا؟" قال: لا، قال:" (اتقوا) (٤) الله، واعدلوا بين اولادكم"، قال: فرجع فرد عطيته (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (بنت).
(٢) في [م]: (يشهد).
(٣) في [م]: (قال).
(٤) في [م]: (فاتقوا).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٨٧)، ومسلم (١٦٢٣).
شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے والد محترم نے مجھے کچھ مال دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ نہ بنالیں، چناچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرہ کے بیٹے کو کچھ مال دیا ہے، وہ کہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اتنا مال اپنے ہر بچے کو دیا ہے؟ وہ فرمانے لگے کہ نہیں! آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان برابری کیا کرو“ فرماتے ہیں انہوں نے واپس آ کر اپنا مال واپس لے لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33041، ترقيم محمد عوامة 31636)
ترقیم عوامۃ: 31637 ترقیم الشثری: -- 33042
٣٣٠٤٢ - (حدثنا) (١) ابن عليه عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن، وعن محمد ابن النعمان عن ابيه ان اباه نحله غلاما وانه اتى النبي ﷺ ليشهده، فقال:"اكل ولدك اعطيته مثل هذا؟" قال: لا، قال:"فاردده" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٢٣)، وأحمد (١٨٣٨٢)، وأصله عند البخاري (٢٦٥٠).
محمد بن نعمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام ہبہ کیا، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تاکہ آپ کو اس بات پر گواہ بنادیں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے ہر بچے کو اس طرح کا غلام ہبہ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں! آپ نے فرمایا کہ اس سے وہ غلام واپس لے لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33042، ترقيم محمد عوامة 31637)
ترقیم عوامۃ: 31638 ترقیم الشثری: -- 33043
٣٣٠٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن ابي حيان عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال: انطلق بي ابي إلى النبي ﷺ ليشهده على عطية اعطانيها، قال:"لك غيره؟" قال: نعم، قال:" (كلهم) (١) (اعطيتهم) (٢) مثل (ما) (٣) اعطيته؟" قال: لا، قال:"فلا اشهد على جور" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زياد؛ (كلهم) من: [أ، ب، جـ، م].
(٢) في [ك، م]: (أعطيته).
(٣) سقط من: [ب، هـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٥٠)، ومسلم (١٦٢٣).
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میرے والد محترم، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے تاکہ آپ کو ایک ہبہ کا گواہ بنا سکیں جو انہوں نے مجھے عطا فرمایا تھا، آپ نے پوچھا ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی کچھ مال ہے؟ انہوں نے عرض کیا ”جی ہاں“ آپ نے پوچھا ”کیا تم نے ہر بچے کو اس جیسا مال دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا ”نہیں“ اس پر آپ نے فرمایا ”میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا“۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33043، ترقيم محمد عوامة 31638)
ترقیم عوامۃ: 31639 ترقیم الشثری: -- 33044
٣٣٠٤٤ - حدثنا ابن عليه عن ابن ابي نجيح قال: كان طاوس إذا سئل عنه (قرا) (١) : ﴿افحكم الجاهلية يبغون﴾.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قال).
ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ جب حضرت طاوس سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو یہ آیت تلاوت فرماتے { أَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ } (کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33044، ترقيم محمد عوامة 31639)
ترقیم عوامۃ: 31640 ترقیم الشثری: -- 33045
٣٣٠٤٥ - حدثنا ابن عليه عن معمر عن الزهري قال: قال عروة: (يرد) (١) من (حيف) (٢) الحي ما يرد من (حيف) (٣) الميت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، م]: (يرد).
(٢) في [م]: (جيف)، وفي [جـ]: (خيف)، وفي [أ، هـ]: (جنف).
(٣) في [م]: (جيف)، وفي [جـ]: (خيف)، وفي [أ، هـ]: (جنف).
زہری سے روایت ہے کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا: ”جو ظلم مرنے والے کا ناقابلِ قبول ہے وہ زندہ آدمی کا بھی ناقابلِ قبول ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33045، ترقيم محمد عوامة 31640)
ترقیم عوامۃ: 31641 ترقیم الشثری: -- 33046
٣٣٠٤٦ - حدثنا ابو داود عن مسمع بن ثابت عن عكرمة انه كان يكرهه.
مسمع بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33046]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33046، ترقيم محمد عوامة 31641)
ترقیم عوامۃ: 31642 ترقیم الشثری: -- 33047
٣٣٠٤٧ - (١) حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن ابي معشر عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون ان يعدل الرجل بين ولده حتى في (القبل) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ب]: (قبلة).
ابو معشر سے روایت ہے کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ فقہاء اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ آدمی اپنے بچوں میں برابری رکھے، یہاں تک کہ ان کا بوسہ لینے میں بھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33047]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33047، ترقيم محمد عوامة 31642)
ترقیم عوامۃ: 31643 ترقیم الشثری: -- 33048
٣٣٠٤٨ - حدثنا حفص عن اشعث عن الحكم انه كره ان يفضل الرجل بعض ولده على بعض وكان يجيزه في القضاء.
اشعث سے روایت ہے کہ حضرت حکم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے، لیکن فیصلے میں اس کی اجازت بھی دے دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33048، ترقيم محمد عوامة 31643)
ترقیم عوامۃ: 31644 ترقیم الشثری: -- 33049
٣٣٠٤٩ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا مجالد (١) عن عامر عن شريح انه قال: لا باس ان يفضل الرجل بعض ولده على بعض.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن).
عامر فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 33049]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33049، ترقيم محمد عوامة 31644)