مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. في رجل ترك (ابنتيه) وابنة ابنه وابن ابن أسفل منها
اس آدمی کا بیان جس نے اپنی دو بیٹیاں، ایک پوتی اور ایک پڑپوتا چھوڑا
ترقیم عوامۃ: 31731 ترقیم الشثری: -- 33149
٣٣١٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك ابنتيه وابنة ابن وابن ابن اسفل منها، فلابنتيه الثلثان، وما فضل لابن ابنه، يرد على من فوقه ومن معه من البنات في قول علي وزيد: للذكر مثل حظ الانثيين، ولا يرد على من اسفل منه، وفي قول عبد الله لابنتيه الثلثان ولابن ابنه ما بقي، لا يرد على (اخته) (١) شيئا ولا على من فوقه من اجل انه استكمل الثلثين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (أخيه).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك ابن مسعود.
ابراہیم اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی دو بیٹیاں اور ایک پوتی اور ایک پڑپوتا چھوڑا کہ اس کی بیٹیوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور باقی پڑپوتے کے لئے ہے، اس طرح کہ اس سے اوپر اور اس کے ساتھ کی بہنوں کی طرف بھی مال لوٹایا جائے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے میں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصّوں کے برابر حصّہ دیا جائے گا، اور اس سے نیچے کے کسی شخص کی طرف مال نہیں لوٹایا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس آدمی کی دو بیٹیوں کے لئے دو تہائی مال اور اس کے پوتے کے لئے باقی مال ہے، باقی مال اس کی بہن پر نہیں لوٹایا جائے گا اور نہ اس پوتے سے اوپر کی کسی عورت پر کچھ لوٹایا جائے گا اس وجہ سے کہ ان بہنوں نے دو تہائی پورا وصول کرلیا ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نو کے عد د سے نکلے گا، دو تہائی مال بیٹی کے لئے ہوگا، اور تین حصّے باقی بچے، ان میں سے دو حصّے پوتے کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق تین کے عدد سے نکلے گا، دو تہائی بیٹیوں کے لئے اور باقی مال جو ایک تہائی حصّہ ہے پوتے کے لئے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33149]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33149، ترقيم محمد عوامة 31731)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33150
٣٣١٥٠ - قال ابو بكر: فهذه من تسعة في قول علي وزيد فيصير للابنتين الثلثان، وتبقى ثلاثة اسهم: فلابن الابن سهمان، ولاخته سهم، وفي قول عبد الله من ثلاثة اسهم: للبنتين الثلثان سهمان، ولابن الابن ما بقي وهو سهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33150، ترقيم محمد عوامة ---)