مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
37. فيمن يرث من النساء كم هن
ان عورتوں کا بیان جو وارث بنتی ہیں، اور یہ کہ وہ کتنی ہیں؟
ترقیم عوامۃ: 31846 ترقیم الشثری: -- 33293
٣٣٢٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل بن عمرو قال: قال إبراهيم: يرث من النساء ستة نسوة: الابنة وابنة الابن والام والجدة والاخت (والمراة) (١) ، ويرث النساء من الرجال سبعة نفر: (ترث) (٢) اباها، وابنها، وابن ابنها واخاها، وزوجها، وجدها، (وترث) (٣) من ابن ابنتها (سدسا) (٤) إلا ان يكون له عصبة غيرها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [م] كلمة (المرأة)، والمراد الأوجه.
(٢) في [أ، ب]: (ويرث).
(٣) في [ب]: (ويرث).
(٤) في [أ، ب]: (سدسها).
حضرت فضیل بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ چھ عورتیں وارث بنتی ہیں: بیٹی، پوتی، ماں، دادی، بہن اور بیوی، اور یہ سات آدمیوں کی وارث بنتی ہیں: باپ، بیٹا، پوتا، بھائی، شوہر، اور دادا، اور یہ اپنی بیٹی سے چھٹے حصّے کی وارث ہوتی ہے، مگر یہ کہ اس کا کوئی عصبہ موجودہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33293، ترقيم محمد عوامة 31846)
ترقیم عوامۃ: 31847 ترقیم الشثری: -- 33294
٣٣٢٩٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا مندل عن الاعمش عن إبراهيم قال: يرث الرجل ستة نسوة: ابنته، وابنة ابنه، وامه، وجدته، واخته، وزوجته، وترث المراة سبعة (نفر) (١) : ابنها، وابن ابنها، واباها، وجدها، وزوجها، واخاها، (ترث) (٢) من ابن ابنتها سدسا، ولا يرث هو منها شيئا في قولهم كلهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (يرث)
اعمش روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ مرد کی وارث بننے والی عورتیں چھ ہیں: بیٹی، پوتی، ماں، دادی، بہن اور بیوی، اور عورت سات آدمیوں کی وارث بنتی ہے: بیٹا، پوتا، باپ، دادا، شوہر اور بھائی، اور یہ اپنے پوتے سے چھٹے حصّے کی وارث بنتی ہے، اور پوتا ان سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوتا تمام حضرات کے قول کے مطابق۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33294، ترقيم محمد عوامة 31847)
ترقیم عوامۃ: 31848 ترقیم الشثری: -- 33295
٣٣٢٩٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن النعمان بن سالم قال: سالت ابن عمر عن ابن ابنة.... (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ بياض، وورد في سنن الدارمي (٢٩٨٥): (قال حدثنا سهل بن حماد ثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال: قلت لابن عمر: أرأيت رجلًا ترك ابن ابنته أيرثه؟ قال: لا).
(٢) صحيح الإسناد.
نعمان بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوتے کے بارے میں دریافت کیا کہ آپ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو اپنے بھانجے کو چھوڑ جائے؟ کیا وہ اس کا وارث ہوگا؟ فرمایا! نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33295، ترقيم محمد عوامة 31848)