مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
111. في الرجل يموت ولا يعرف له وارث
اس آمی کا بیان جو مر جائے اور اس کا کوئی وارث معلوم نہ ہو
ترقیم عوامۃ: 32244 ترقیم الشثری: -- 33746
٣٣٧٤٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الاصبهاني عن مجاهد بن وردان عن عروة بن الزبير عن عائشة ان مولى للنبي ﷺ وقع من نخلة فمات، وترك مالا ولم يدع ولدا ولا حميما، فقال النبي ﷺ:"اعطوا ميراثه رجلا من اهل قريته" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٥٠٥٤)، وأبو داود (٢٩٠٢)، وابن ماجه (٢٧٣٣)، والترمذي (٢١٠٥)، والنسائي في الكبرى (٦٣٩١)، والبيهقي ٦/ ٢٤٣، والطيالسي (١٤٦٥)، وإسحاق (٨٥٣)، والبغوي (٢٢٣٠)، وأبو الشيخ في طبقات المحدثين (٩١٧)، والطحاوي ٤/ ٤٠٤، والمزي ٢٧/ ٢٣٩.
عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مولیٰ ایک درخت سے گر کر مرگیا اور اس نے مال چھوڑا اور کوئی اولاد یا دوست نہیں چھوڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی میراث اس کے گاؤں والوں میں سے کسی کو دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33746، ترقيم محمد عوامة 32244)
ترقیم عوامۃ: 32245 ترقیم الشثری: -- 33747
٣٣٧٤٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا علي بن مبارك عن يحيى بن ابي كثير عن محمد ابن عبد الرحمن بن ثوبان ان رجلا من جرهم توفي بالسراة وترك مالا، فكتب فيه إلى عمر، فكتب عمر إلى الشام فلم يجدوا بقي من جرهم واحد، فقسم عمر ميراثه في القوم الذين توفي فيهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان لا يروي عن عمر.
محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان فرماتے ہیں کہ قبیلہ جرھم کا ایک آدمی مقام سراۃ میں فوت ہوگیا اور اس نے مال چھوڑا، اس کے بارے میں حضرت عمر کو لکھا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف خط لکھا، لیکن قبیلہ جرھم کا کوئی آدمی نہیں ملا، تو حضرت عمر نے اس کی میراث ان لوگوں میں تقسیم فرما دی جن میں وہ فوت ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33747، ترقيم محمد عوامة 32245)
ترقیم عوامۃ: 32246 ترقیم الشثری: -- 33748
٣٣٧٤٨ - حدثنا بشر بن المفضل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن ابيه عن عبد الرحمن بن عمرو بن سهل قال: مات مولى على عهد عثمان ليس له مولى، فامر عثمان بماله فادخل بيت المال (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عبد الرحمن بن إسحاق صدوق.
عبد الرحمن بن عمرو بن سہل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کے زمانے میں ایک شخص مراجس کا کوئی مولیٰ نہیں تھا، آپ نے اس کی میراث کو بیت المال میں داخل فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33748، ترقيم محمد عوامة 32246)
ترقیم عوامۃ: 32247 ترقیم الشثری: -- 33749
٣٣٧٤٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق سئل عن رجل مات ولم يترك مولى عتاقة ولا وارثا قال: ماله حيث وضعه، فإن لم يكن اوصى بشيء فماله في بيت المال.
شعبی فرماتے ہیں کہ مسروق سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو مرگیا تھا اور مرتے وقت اس نے ”مولیٰ عتاقہ“ یا کوئی وارث نہیں چھوڑا، آپ نے فرمایا کہ اس کا مال وہیں لگے گا جہاں اس نے لگایا، اگر اس نے کوئی وصیت نہیں کی تھی تو اس کا مال بیت المال میں جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33749]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33749، ترقيم محمد عوامة 32247)
ترقیم عوامۃ: 32248 ترقیم الشثری: -- 33750
٣٣٧٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن ابي بكر بن احمر عن عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: كنت عند رسول الله ﷺ (فجاءه) (١) رجل فقال: يا رسول الله، إن عندي ميراث رجل من الازد، وإني لم اجد ازديا ادفعه إليه، قال:" (فانطلق) (٢) فالتمس ازديا عاما او حولا فادفعه إليه"، قال: فانطلق ثم اتاه في (العام) (٣) (السابع) (٤) فقال: يا رسول الله ما وجدت ازديا ادفعه إليه، قال:"انطلق إلى اول خزاعي فادفعه إليه"، قال: فلما (قفى) (٥) قال:"علي به"، قال:"فاذهب فادفعه إلى اكبر خزاعة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (فجاء).
(٢) في [م]: (انطلق).
(٣) في [هـ، م]: (العالم).
(٤) في مصادر التخريج: (الثاني).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، م]، وفي [هـ]: (ولى).
(٦) حسن؛ أبو بكر بن أحمر صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٤٤)، وأبو داود (٢٩٠٤)، والنسائي في الكبرى (٦٣٩٥)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٥٣، والطيالسي (٨١٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٤٠١)، والبيهقي ٦/ ٢٤٣، وابن أبي عاصم في الأوائل (١٤٩).
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس قبیلہ ازد کے ایک شخص کی میراث ہے اور مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جس کو میں دے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور کسی ازدی کو ایک سال تک تلاش کرو اور اس کو دے دو، چناچہ وہ ساتویں سال آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جس کو دے دوں، فرمایا کہ پھر سب سے پہلے خزاعی کے پاس جاؤ جو تمہیں ملے اس کو دے دو، کہتے ہیں کہ جب وہ شخص جانے کے لئے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس لاؤ، اور فرمایا کہ اس کو قبیلہ خزاعہ کے سب سے بڑے کو دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33750]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33750، ترقيم محمد عوامة 32248)
ترقیم عوامۃ: 32249 ترقیم الشثری: -- 33751
٣٣٧٥١ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن عمرو بن دينار عن يحيى بن جعدة عن عمر ان رجلا مات ولم يترك عصبة فقال عمر: يرثه (الذي) (١) كان يغضب لغضبه وجيرانه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الذين).
(٢) منقطع؛ يحيى بن جعدة لم يسمع من عمر.
یحییٰ بن جعد ہ حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی مرگیا اور اس نے عصبہ نہیں چھوڑے، حضرت عمر نے فرمایا کہ اس کا وارث وہ شخص ہوگا جس کو اس کے غصہ آنے کے وقت غصہ آتا تھا، اور اس کے پڑوسی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33751]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33751، ترقيم محمد عوامة 32249)
ترقیم عوامۃ: 32250 ترقیم الشثری: -- 33752
٣٣٧٥٢ - حدثنا يزيد (١) قال: ثنا محمد بن إسحاق عن يعقوب بن عتبة عن سليمان بن يسار قال: توفي رجل من الحبشة فاتي رسول الله ﷺ بميراثه قال:"انظروا هل (له) (٢) وارث؟" فلم يجدوا له وارثا، فقال رسول الله ﷺ:"انظروا (من هاهنا) (٣) من مسلمي الحبشة فادفعوا إليهم ميراثه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: زيادة (بن هارون عن حماد بن سلمة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (هل هاهنا).
(٤) مرسل؛ سليمان بن يسار تابعي.
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حبشہ کا ایک آدمی فوت ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میراث لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو کیا اس کا کوئی وارث ہے؟ لوگوں کو اس کا کوئی وارث نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہاں حبشہ کے مسلمانوں میں سے کون ہے؟ اس کو اس کی میراث دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33752]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33752، ترقيم محمد عوامة 32250)