مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32466 ترقیم الشثری: -- 33969
٣٣٩٦٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن سماك عن جابر بن سمرة قال: كانت في ساقي رسول الله ﷺ حموشة، وكان (لا) (١) يضحك إلا تبسما، ⦗٤٨٧⦘ وكنت إذا نظرت (إليه) (٢) قلت: اكحل العينين وليس باكحل (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) زيادة من [م]: (إليه).
(٣) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢١٠٠٤)، والترمذي (٣٦٤٥)، والحاكم ٢/ ٦٠٦، وأبو يعلى (٧٤٥٨)، والطبراني (٢٠٢٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ٢١٢، والبغوي (٣٦٤٢).
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں قدرے پتلی تھیں، آپ ہنستے تو صرف مسکراتے، اور جب آپ ان کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے کہ آپ نے سرمہ لگایا ہوا ہے حالانکہ آپ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33969]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33969، ترقيم محمد عوامة 32466)
ترقیم عوامۃ: 32467 ترقیم الشثری: -- 33970
٣٣٩٧٠ - حدثنا شريك بن عبد الله عن عبد الملك بن عمير عن نافع بن جبير عن علي انه وصف النبي ﷺ (١) (قال) (٢) : كان عظيم الهامة، ابيض مشربا حمرة، عظيم اللحية، ضخم (الكراديس) (٣) ، شثن الكفين والقدمين، طويل (المسربة) (٤) كثير شعر الراس رجله، يتكفا في مشيته كانما (ينحدر) (٥) في صبب، لا طويل (ولا قصير) (٦) ، لم ار (مثله قبله) (٧) ولا بعده (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [جـ]: (الكداديس).
(٤) في [أ، ب]: (المشربة).
(٥) في [جـ]: (يحدر).
(٦) في [ب]: (ولا كثير).
(٧) تقديم وتأخير في: [أ، ب].
(٨) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (٧٤٦)، وعبد اللَّه (٩٤٤)، والترمذي (٣٦٣٧)، وابن حبان (٦٣١١)، والطيالسي (١٧١)، وابن سعد ١/ ٤١١، والبغوي في شرح السنة (٣٦٤١)، والبيهقي في الدلائل ١/ ٢٤٤، والبخاري في الأدب (١٣١٥)، والبزار (٦٦٠)، وأبو يعلى (٣٧٠).
حضرت نافع بن جبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی 5 کی صفت بیان کی اور فرمایا کہ آپ بڑے سر والے، سرخی مائل گورے، بڑی داڑھی والے، موٹی ہڈیوں والے، موٹی ہتھیلیوں اور قدموں والے، سینے سے ناف تک لمبی بالوں کی لکیر والے، اور گھنے اور ہلکے خمدار بالوں والے تھے، اپنی چال میں مضبوطی اختیار کرتے گویا کہ ڈھلوان میں اتر رہے ہوں، کہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے قد والے تھے، میں نے آپ جیسا آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33970]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33970، ترقيم محمد عوامة 32467)
ترقیم عوامۃ: 32468 ترقیم الشثری: -- 33971
٣٣٩٧١ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن سماك انه سمع جابر بن سمرة يقول: كان رسول الله ﷺ قد (شمط) (١) مقدم راسه ولحيته، فكان إذا ادهن ⦗٤٨٨⦘ ثم مشطه لم (يبن) (٢) ، وكان كثير شعر اللحية، فقال رجل: وجهه مثل السيف، فقال: لا، بل كان مثل الشمس والقمر مستديرا، ورايت الخاتم بين كتفيه مثل بيضة الحمامة (تشبه) (٣) جسده (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (شيمط).
(٢) في [هـ]: (يبين).
(٣) في [م]: (يشبه).
(٤) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٢٣٤٤)، وأحمد (٢٠٩٩٨).
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے اگلے حصّے کے بال سفید ہوگئے تھے، جب آپ تیل لگاتے اور پھر کنگھی کرتے تو وہ نظر نہ آتے اور آپ کی داڑھی کے بال بہت زیادہ تھے، ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ کا چہرہ تلوار کی طرح تھا؟ فرمایا نہیں، بلکہ سورج اور چاند کی طرح گول تھا، اور میں نے آپ کے کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کے برابر نبوت کی مہر دیکھی، جو آپ کے جسم کے مشابہ تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33971]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33971، ترقيم محمد عوامة 32468)
ترقیم عوامۃ: 32469 ترقیم الشثری: -- 33972
٣٣٩٧٢ - حدثنا هوذة قال: (حدثنا) (١) عوف عن يزيد الفارسي قال: رايت رسول الله ﷺ في النوم زمن ابن عباس على البصرة، قال: فقلت لابن عباس: إني رايت رسول الله ﷺ في النوم، قال: فهل تستطيع (٢) تنعت هذا الرجل الذي (رايت؟) (٣) قلت: نعم، انعت لك رجلا بين الرجلين جسمه ولحمه اسمر (إلى) (٤) البياض، حسن المضحك اكحل العينين جميل دوائر الوجه، قد ملات لحيته من لدن هذه إلى هذه، واشار بيده إلى (صدغيه) (٥) -حتى كادت تملا نحره، قال: عوف ولا ادري ما كان مع هذا من النعت فقال ابن عباس: لو رايته في اليقظة ما استطعت ان تنعته فوق هذا (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (أن).
(٣) في [ب]: (رأيته).
(٤) في [هـ]: (في).
(٥) في [أ، ب]: (صدغه).
(٦) حسن؛ يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٣٤١٠)، والترمذي في الشمائل (٣٩٢)، وابن سعد ١/ ٤١٧، وابن عساكر ٣/ ٢٦٦، وابن شبه (٩٧٧)، وبنحوه ابن ماجه (٣٠٩٥)، ويزيد الفارسي قال عنه أبو حاتم: لا بأس به، انظر: الجرح والتعديل ٩/ ٢٩٤.
حضرت یزید فارسی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بصرہ پر حکومت کے زمانے میں خواب میں دیکھا، چناچہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم حضور کی صفت بیان کرسکتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں! آپ کی جسامت درمیانی، آپ گندمی رنگ کے بہترین مسکراہٹ والے، سرمگیں آنکھوں والے، خوبصورت چہرے والے ہیں، آپ کی داڑھی نے آپ کے چہرے کو یہاں سے یہاں تک بھرا ہوا ہے، اور انہوں نے کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا، یہاں تک کہ قریب ہے کہ آپ کے سینے کو بھر دے، عوف کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ صفات مجھے یاد نہیں رہیں، چناچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر تم بیداری میں حضور کو دیکھتے تو اس سے زیادہ بہتر صفت بیان نہ کرسکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33972]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33972، ترقيم محمد عوامة 32469)
ترقیم عوامۃ: 32470 ترقیم الشثری: -- 33973
٣٣٩٧٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن المنكدر سمع جابرا يقول: ما ⦗٤٨٩⦘ سئل رسول الله ﷺ شيئا قط فقال: لا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣١١)، وأحمد (١٤٢٩٤).
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کیا گیا کہ جس کے جواب میں آپ نے ”نہیں“ کہا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33973]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33973، ترقيم محمد عوامة 32470)
ترقیم عوامۃ: 32471 ترقیم الشثری: -- 33974
٣٣٩٧٤ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يعرض الكتاب على جبريل في كل رمضان فإذا اصبح رسول الله ﷺ من الليلة التي يعرض فيها ما يعرض، اصبح وهو اجود من الريح المرسلة لا يسال شيئا إلا اعطاه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، وقد توبع، أخرجه أحمد (٢٠٤٢)، وعبد بن حميد (٦٤٧)، وابن سعد ٢/ ١٩٥، وأصله في البخاري (١٩٠٢)، ومسلم (٢٣٠٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل کے ساتھ ہر رمضان میں قرآن کا دور کرتے تھے، جب اس رات کی صبح ہوتی جس میں آپ نے دور کیا ہوتا تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے، اور آپ سے جس چیز کا بھی سوال کیا جاتا وہی عطا فرما دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33974]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33974، ترقيم محمد عوامة 32471)
ترقیم عوامۃ: 32472 ترقیم الشثری: -- 33975
٣٣٩٧٥ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن انس ان ابا بكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان ابو بكر يختلف إلى الشام، قال: وكان يعرف، وكان النبي ﷺ لا يعرف فكانوا يقولون: يا ابا بكر من هذا الغلام بين يديك، قال: هذا هاد يهدي السبيل، قال: فلما دنوا من المدينة (نزلوا) (١) الحرة (وبعثوا) (٢) إلى الانصار فجاؤوا قال: فشهدته يوم دخل المدينة، فما رايت يوما كان احسن ولا اضوا من يوم دخل علينا فيه، وشهدته يوم مات، فما رايت يوما كان اقبح ولا اظلم من يوم مات فيه، -صلوات الله ورحمته ورضوانه عليه (إلى يوم الدين) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (نزلا).
(٢) في [هـ]: (بعثا).
(٣) سقط من: [م].
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٠٦٣)، وأخرج بعضه الدارمي (٨٨)، وابن ماجه (١٦٣١)، والترمذي (٣٦١٨)، وابن حبان (٦٦٣٤)، والحاكم ٣/ ٥٧، وعبد بن حميد (١٢٨٩)، وأبو يعلى (٣٢٩٦)، والبغوي (٣٨٣٤).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نبی 5 کے ساتھ مکہ سے مدینہ تک ردیف تھے، اور حضرت ابوبکر شام میں آتے جاتے تھے، اور معروف تھے، اور نبی 5 اس قدر معروف نہ تھے، چناچہ لوگ کہتے اے ا بو بکر! تمہارے ساتھ یہ لڑکا کون ہے؟ آپ فرماتے کہ یہ رہنما ہے جو مجھے راستہ بتلا رہا ہے، جب وہ مدینہ کے قریب ہوئے تو حرّہ کے مقام پر ٹھہرے اور انہوں نے انصار کے پاس پیغام بھیجا تو وہ آگئے، کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو اس دن دیکھا جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے، میں نے کوئی دن اس دن سے اچھا اور روشن نہیں پایا جس دن آپ ہمارے پاس آئے تھے، اور میں نے آپ کو اس دن دیکھا جس دن آپ فوت ہوئے، تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ برا اور تاریک نہیں پایا جس دن آپ فوت ہوئے، آپ پر اللہ کی رحمت اور رضا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33975]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33975، ترقيم محمد عوامة 32472)