مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32456 ترقیم الشثری: -- 33959
٣٣٩٥٩ - حدثنا وكيع عن بدر بن عثمان عن عكرمة قال: لما اوحي إلى النبي ﷺ قالت قريش: بتر محمد (١) فنزلت: ﴿إن شانئك هو الابتر﴾ [الكوثر: ٣] ، الذي رماك به هو الابتر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (منا).
(٢) مرسل؛ عكرمة لابعي، أخرجه ابن جرير ٣٠/ ٣٣٠.
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب نبی 5 پر وحی کی گئی تو قریش نے کہا کہ محمد ہم سے کاٹ دیے گئے، چناچہ آیت {إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ } نازل ہوئی، کہ جس نے آپ کو یہ بات کہی وھی مقطوع النسل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33959]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33959، ترقيم محمد عوامة 32456)
ترقیم عوامۃ: 32457 ترقیم الشثری: -- 33960
٣٣٩٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابيه عن ابي يعلى عن ربيع بن (خثيم) (١) قال: لا نفضل على نبينا محمد ﷺ احدا، (ولا نفضل) (٢) على إبراهيم خليل الله (احدا) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (خيثم).
(٢) في [ب]: (بفضل).
(٣) في [ب]: (أحد).
حضرت ابو یعلی رضی اللہ عنہ حضرت ربیع بن خثیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ ہم اپنے نبی محمد 5 پر کسی کو فضیلت نہیں دیتے، اور نہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر کسی کو فضیلت دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33960]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33960، ترقيم محمد عوامة 32457)
ترقیم عوامۃ: 32458 ترقیم الشثری: -- 33961
٣٣٩٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن يحيى عن ابيه عن ابي (سعيد) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تخيروا بين الانبياء" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سعد).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩١٦)، ومسلم (٢٣٧٤).
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کو ایک دوسرے سے افضل قرار نہ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33961]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33961، ترقيم محمد عوامة 32458)
ترقیم عوامۃ: 32459 ترقیم الشثری: -- 33962
٣٣٩٦٢ - حدثنا وكيع عن سلمة بن نبيط عن الضحاك قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ (فاقراه) (١) آخر البقرة حتي إذا حفظها قال: اقراها علي، فقراها النبي ﷺ فجعل جبريل يقول: ذلك لك، (ذلك لك) (٢) ﴿ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا او اخطانا﴾ (٣) [البقرة: ٢٨٦] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (فأقرأ).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) مرسل؛ الضحاك من تابعي التابعين، وأخرجه سعيد بن منصور ٢/ (٤٨٣)، وابن جرير ٣/ ١٥٩، والبيهقي في الشعب (٢٤١٠).
ضحاک فرماتے ہیں کہ جبرائیل نبی 5 کے پاس آئے اور آپ کو سورة بقرہ کی آخری آیات پڑھائیں، یہاں تک کہ جب آپ کو یاد ہوگئیں تو فرمایا کہ مجھے پڑھ کر سنائیے، چناچہ نبی 5 پڑھتے رہے اور جبرئیل کہتے رہے ”یہ آپ کے لیے ہے یہ آپ کے لئے ہے، کہ ہمارا مؤاخذہ نہ فرمائیے اگر ہمیں بھول ہوجائے یا غلطی ہوجائے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33962]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33962، ترقيم محمد عوامة 32459)
ترقیم عوامۃ: 32460 ترقیم الشثری: -- 33963
٣٣٩٦٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن خيثمة قال: قيل للنبي ﷺ: إن شئت اعطيناك مفاتح الاوض وخزائنها، لا ينقصك ذلك عندنا شيئا في الآخرة، وإن شئت جمعتها لك في الآخرة، قال:"لا، بل اجمعها لي في الآخرة"، فنزلت ﴿تبارك الذي إن شاء جعل لك خيرا من ذلك جنات تجري من تحتها الانهار ويجعل لك قصورا﴾ (١) [الفرقان: ١٠] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ خيثمة تابعي، أخرجه ابن أبي حاتم (١٤٩٩١)، وفى تفسير ابن جرير ١٨/ ١٨٦ نسبة القول لحبيب ونسبه في الدر المنثور ٦/ ٢٣٨، ولباب النقول (٦٢) إلى اين جرير من كلام خيثمة.
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ نبی 5 سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو زمین کی کنجیاں اور اس کے خزانے عطا کردیں اور آخرت میں اس سے ہمارے ہاں کوئی کمی نہ ہوگی، اور اگر آپ چاہیں تو اپنے لیے آخرت میں جمع کرلیں، آپ نے فرمایا بلکہ میں اس کو اپنے لیے آخرت میں جمع کروں گا، چناچہ آیت نازل ہوئی { تَبَارَکَ الَّذِی إنْ شَائَ جَعَلَ لَک خَیْرًا مِنْ ذَلِکَ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الأَنْہَارُ وَیَجْعَلْ لَک قُصُورًا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33963]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33963، ترقيم محمد عوامة 32460)
ترقیم عوامۃ: 32461 ترقیم الشثری: -- 33964
٣٣٩٦٤ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن (زر) (١) بن حبيش عن عبد الله بن مسعود ان قال: كنت غلاما يافعا ارعى (غنما) (٢) لعقبة بن ابي (معيط (٣) ، فجاء النبي ﷺ وابو بكر وقد فرا من المشركين فقالا:"يا غلام، هل عندك من لبن تسقينا"، قلت: إني (مؤتمن) (٤) ولست ساقيكما، فقال النبي ﷺ: ⦗٤٨٣⦘"هل عندك من جذعة لم ينز عليها الفحل؟"، قلت: نعم، فاتيتهما بها (فاعتقلها) (٥) النبي ﷺ ومسح الضرع ودعا (٦) ، ثم اتاه ابو بكر بصخرة منقعرة (او منقرة) (٧) ، فاحتلب فيها فشرب وشرب ابو بكر ثم شربت، ثم قال للضرع:"اقلص" فقلص، قال: فاتيته بعد ذلك فقلت: علمني من هذا القول، (قال) (٨) :"إنك غلام معلم" (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذر).
(٢) في [أ، ب]: (الغنم).
(٣) في [جـ]: (معتط).
(٤) في [أ، ب]: (مؤتمر).
(٥) في [جـ، م]: (فاعتلقها).
(٦) في [هـ]: زيادة (فحفل الضرع).
(٧) سقط من: [ب].
(٨) في [أ، ب]: (فقال).
(٩) ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٤٤١٢)، وابن حبان (٧٠٦١)، وأبو يعلى (٥٠٩٦)، والطبراني (٨٤٥٦)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٨٤، والطيالسي (٣٥٣)، وابن سعد ٣/ ١٥٠، والشاشي (٦٥٩)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٣٣)، والحلية ١/ ١٢٥، والبزار (١٨٢٤)، وابن عساكر ٣٣/ ٧٠، والصيداوي في معجم الشيوخ ص ٦٨، والآجري في الشريعة (١٠٦٦)، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١/ ٤٦٥.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چراتا تھا، نبی 5 اور حضرت ابوبکر آئے جبکہ وہ دونوں مشرکین سے فرار ہوئے تھے، اور فرمایا اے لڑکے! کیا تمہارے پاس ہمیں پلانے کے لیے کچھ دودھ ہے؟ میں نے کہا کہ میں امین ہوں، اور آپ کو پلا نہیں سکتا، نبی 5 نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی چھ ماہ کی بکری ہے جس پر کوئی نر نہ کو دا ہو؟ میں نے کہا جی ہاں! میں ان کے پاس لایا، نبی 5 نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور تھنوں کو ہاتھ لگایا اور دعا فرمائی، پھر حضرت ابوبکر آپ کے پاس ایک کھدا ہوا پتھر لائے، آپ نے اس میں دودھ دوہا، آپ نے دودھ پیا اور حضرت ابوبکر نے بھی پیا، پھر میں نے پیا، پھر آپ نے تھن سے فرمایا سکڑ جا، چناچہ وہ سکڑ گیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ان باتوں میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے، فرمایا کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33964]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33964، ترقيم محمد عوامة 32461)
ترقیم عوامۃ: 32462 ترقیم الشثری: -- 33965
٣٣٩٦٥ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد قال ثنا ابو (سنان) (٢) عن عبد الله بن مالك عن مكحول قال: كان لعمر على رجل من اليهود حق (فاتاه) (٣) يطلبه فلقيه، فقال له عمر: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٤) على (البشر لا) (٥) افارقك وانا اطلبك بشيء، فقال اليهودي: ما اصطفى الله محمدا على البشر، فلطمه عمر، فقال: بيني وبينك ابو القاسم، فقال: إن عمر قال: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٦) على ⦗٤٨٤⦘ البشر، (فقلت) (٧) له: ما اصطفى الله محمدا على البشر، فلطمني، فقال:"اما انت يا عمر فارضه من لطمته، بلى يا يهودي (آدم صفي الله، وإبراهيم خليل الله، وموسى نجي الله، وعيسى روح الله، وانا حبيب الله، بلى يا يهودي) (٨) (تسمى) (٩) الله باسمين سمى بهما امتي هو السلام، وسمى امتي المسلمين، وهو المؤمن وسمى امتي المؤمنين، بلى يا يهودي (طلبتم) (١٠) يوما (و) (١١) (ذخر) (١٢) لنا، اليوم لنا (وغدا) (١٣) لكم، وبعد (غد) (١٤) للنصارى، بلى، يا يهودي انتم الاولون ونحن الآخرون السابقون يوم القيامة، بلى إن الجنة محرمة على الانبياء حتى ادخلها، وهي محرمة على الامم حتى (تدخلها) (١٥) امتي" (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يحيى).
(٢) في [أ، هـ]: (سفيان).
(٣) في [أ، ب]: (فأتا).
(٤) سقط من: [م].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [م].
(٧) في [ط، هـ]: (قلت).
(٨) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٩) في [هـ]: (سمى).
(١٠) في [أ، ب]: (ضللتم).
(١١) سقط من: [أ، جـ، م].
(١٢) في [أ، ب]: (دخل).
(١٣) في [جـ، م]: (وغد).
(١٤) في [هـ]: (ذلك).
(١٥) في [هـ]: (يدخلها).
(١٦) مرسل؛ مكحول تابعي، أخرجه إسحاق كما في المطالب (٤١٧٩).
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا ایک یہودی پر حق تھا، آپ اس سے مطالبہ کرنے آئے اور اس سے ملے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد 5 کو چنا ہے میں تجھ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک تھوڑی سی چیز باقی نہ رہ جائے، یہودی نے کہا اللہ نے محمد 5 کو انسانوں پر نہیں چنا، حضرت عمر نے اس کو طمانچہ مارا، اور فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم 5 فیصلہ کریں گے، اس نے کہا عمر نے مجھ سے کہا تھا کہ ”اس ذات کی قسم جس نے محمد کو انسانوں پر فضیلت بخشی ہے، ”میں نے کہا کہ اللہ نے محمد کو انسانوں پر فضیلت نہیں بخشی، اس پر انہوں نے مجھے طمانچہ مارا، آپ نے فرمایا اے عمر! تم اس کو تھپڑ مارنے کی وجہ سے اس کو راضی کرو، اور اے یہودی! ہاں آدم صفی اللہ، ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ نجی اللہ، عیسیٰ روح اللہ، اور میں حبیب اللہ ہوں، اے یہودی! ہاں اللہ نے اپنے دو نام اختیار فرمائے اور میری امت کو بھی عطا کیے، وہ ”السلام“ ہے، اور اس نے میری امت کا نام مسلمین رکھا ہے اور وہ ”مومن“ ہے اور اس نے میری امت کا نام ”مؤمنین“ رکھا ہے، ہاں! اے یہودی تم نے اس دن کو تلاش کیا جو ہمارے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا، آج کا دن ہمارا، کل کا تمہارا اور پرسوں کا نصاریٰ کا ہے، ہاں اے یہودی! تم پہلے ہو اور ہم آخری ہیں اور جنت میں قیامت کے دن سب سے پہلے پہنچنے والے ہیں، ہاں بیشک جنت انبیاء پر حرام ہے یہاں تک کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں، اور وہ تمام امتوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میری امت اس میں داخل ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33965، ترقيم محمد عوامة 32462)
ترقیم عوامۃ: 32463 ترقیم الشثری: -- 33966
٣٣٩٦٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابن عباس ﴿ولقد رآه نزلة اخرى﴾ [النجم: ١٣] ، قال: راى ربه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمر صدوق، أخرجه الترمذي (٣٢٨٠)، وابن جرير ٢٧/ ٥٢، وابن أبي عاصم في السنة (٤٣٩)، والطبراني (١٠٧٢٧)، والدارقطني في الرؤية (١)، والآجري في الشريعة (١٠٣٢)، وابن خزيمة في التوحيد (٢٨٤)، وابن حبان (٥٧)، وورد في صحيح مسلم (١٧٦)، قال: رأى ربه بقلبه.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما { وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرَی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33966]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33966، ترقيم محمد عوامة 32463)
ترقیم عوامۃ: 32464 ترقیم الشثری: -- 33967
٣٣٩٦٧ - حدثنا محمد بن بشر قال ثنا عبد العزيز بن عمر قال: حدثني رجل من (١) سلامان بن سعد عن امه ان خالها حبيب بن (فويك) (٢) حدثها ان اباه خرج (به) (٣) إلى رسول الله ﷺ وعيناه (مبيضتان) (٤) لا يبصر بهما شيئا، فساله:"ما اصابه؟" قال: كنت (امرن) (٥) (خيلا) (٦) لي فوقعت رجلي على بيض حية فاصيب بصري، فنفث رسول الله ﷺ في عينيه فابصر، قال: فرايته يدخل الخيط في الإبرة وإنه لابن ثمانين سنة وإن (عينيه) (٧) لمبيضتان (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بني).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (يزيد)، وفي [هـ]: (أبي فديك)، وسبق الخبر ٧/ ٤٠٢ برقم [٢٥١٠٩].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٤) في [أ، ب]: (منتصبتان).
(٥) في [أ، ب]: (أمرت).
(٦) في [هـ]: (جملًا).
(٧) في [أ، ب]: (عيناه).
(٨) مجهول؛ لجهالة الرجل، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٦٣٤)، والطبراني (٣٥٤٦)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٢١٨١)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٧٣، وابن الأثير في أسد الغابة ١/ ٥٤٧.
حبیب بن فویک فرماتے ہیں کہ ان کے والد ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے جب کہ ان کی آنکھیں سفید تھیں اور وہ ان سے کوئی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے گھوڑے کو سدھا رہا تھا تو میرا پاؤں ایک سانپ کے انڈے پر پڑگیا، جس سے میری آنکھ متاثر ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں پھونکا تو وہ دیکھنے لگے، کہتے ہیں کہ میں نے ان کو دیکھا کہ اسّی سال کی عمر میں سوئی میں دھاگہ ڈال رہے تھے اور ان کی آنکھیں سفید تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33967]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33967، ترقيم محمد عوامة 32464)
ترقیم عوامۃ: 32465 ترقیم الشثری: -- 33968
٣٣٩٦٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن (عمر) (١) مولى (غفرة) (٢) قال: (ثنا) (٣) إبراهيم بن محمد من ولد علي قال: كان علي إذا نعت رسول الله ﷺ قال: لم يكن بالطويل (الممغط) (٤) ولا بالقصير المتردد، كان ربعة من الرجال، كان جعد ⦗٤٨٦⦘ الشعر، ولم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط، كان جعدا رجلا، ولم يكن بالمطهم ولا المكلثم، كان (في الوجه) (٥) تدوير ابيض مشربا حمرة، ادعج العينين، اهدب الاشفار، (جليل) (٦) (المشاش) (٧) (والكتد) (٨) ، اجرد ذا (مسربة) (٩) شثن الكفين والقدمين، إذا مشى تقلع كانما يمشي في صبب (١٠) ، إذا التفت التفت معا، بين كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين، اجود الناس كفا (واجرؤ) (١١) الناس صدرا، واصدق الناس لهجة، واوفى الناس (بذمة) (١٢) ، والينهم عريكة واكرمهم عشرة، من رآه بديهة هابه، ومن خالطه معرفة احبه، يقول ناعته: لم ار (مثله قبله) (١٣) ولا بعده (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م، هـ]: (عمرو).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (صفرة).
(٣) في [جـ، م]: (حدثني).
(٤) في [أ، ب، م]: (الممعَّط).
(٥) في [أ، ب]: (بالوجه).
(٦) في [أ، ب]: (حليل).
(٧) في [جـ]: (المساقس).
(٨) في [أ، ب]: (والكبد).
(٩) في [أ، ب]: (مشربة).
(١٠) زاد في [هـ]: (و).
(١١) في [أ، ب]: (وأحر).
(١٢) في [أ، ب]: (ذمة).
(١٣) تقديم وتأخير في: [أ، ب].
(١٤) ضعيف منقطع، عمر مولى غفرة ضعيف، وإبراهيم لم يدرك عليًا، أخرجه الترمذي (٣٦٣٨)، وابن سعد ١/ ٤١١، والبيهقي في الدلائل ١/ ٢٦٩، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ٢٩، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٠٢، والخطيب في تاريخ بغداد ١١/ ٣٠، وابن عساكر ٣/ ٢٦١، وابن شبه في تاريخ المدينة (٩٦٨).
حضرت ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان فرماتے تو فرماتے کہ آپ نہ لمبے تھے اور نہ بہت چھوٹے قد والے، آپ متوسط قد کے مالک تھے، اور آپ ہلکے گھنگریالے بالوں والے تھے اور بہت گھنگریالے بالوں والے تھے نہ بالکل سیدھے بالوں والے تھے، بلکہ آپ ہلکے خمدار بالوں والے تھے، آپ بہت گوشت والے تھے نہ گول چہرے والے، بلکہ آپ کے چہرے میں ہلکی گولائی تھی، آپ گوری رنگت والے تھے جس میں سرخی ملی ہوئی تھی، آپ کی آنکھ کی سیاہی شدید سیاہ تھی اور پلکیں لمبی تھیں۔ کندھوں کا بالائی اور درمیانی حصّہ مضبوط تھا، بغیر بالوں کے تھے اور آپ کے سینے پر ناف تک بالوں کی لڑی تھی، موٹی ہتھیلی اور قدموں والے تھے جب چلتے تو مضبوطی سے چلتے گویا ڈھلوان کی طرف جا رہے ہوں، جب کسی طرف مڑتے تو پورے مڑتے، آپ کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر تھی، اور آپ خاتم النبیین تھے، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ جری تھے، اور سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والے تھے، اور سب سے زیادہ عمدہ معاشرت والے تھے، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو ہیبت زدہ ہوجاتا، اور جو مل جل کر معرفت کے ساتھ رہتا آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی صفت بیان کرنے والا کہتا ہے کہ میں نے آپ جیسا آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33968]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33968، ترقيم محمد عوامة 32465)