مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
23. ما جاء في الحسن والحسين ﵄
ان روایات کا بیان جو سیدنا جعفررضی اللہ عنہ بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
ترقیم عوامۃ: 32848 ترقیم الشثری: -- 34357
٣٤٣٥٧ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: لما اراد رسول الله ﷺ ان يلاعن اهل نجران اخذ بيد الحسن والحسين، وكانت فاطمة تمشي خلفه] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٢) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن جرير ٣/ ٢٩٩، وابن أبي حاتم (٣٦١٦)، وسعيد بن منصور ق/ ١ (٥٥٠)، وورد عن الشعبي عن جابر، أخرجه الحاكم ٢/ ٥٩٣، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢٤٤)، والآجري في الشريعة (١٦٩٠).
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے مباھلہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے چل رہی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34357، ترقيم محمد عوامة 32848)
ترقیم عوامۃ: 32849 ترقیم الشثری: -- 34358
٣٤٣٥٨ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن سالم قال: قال رسول الله ﷺ:"إني سميت ابني هذين باسم ابني هارون شبر (وشبير) (١) " (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (شبرا).
(٢) مرسل؛ سالم تايعي، أخرجه أحمد في الفضائل (١٣٦٧)، وقد ورد من حديث علي، أخرجه الطبراني (٢٧٧٧).
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے ان دو بیٹوں کا نام شَبِّرْ اور شبیر حضرت ہارون علیہ السلام کے دو بیٹوں کے ناموں پر رکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34358، ترقيم محمد عوامة 32849)
ترقیم عوامۃ: 32850 ترقیم الشثری: -- 34359
٣٤٣٥٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير ان النبي ﷺ سمع بكاء الحسن (او) (١) الحسين فقام فزعا فقال:"إن الولد لفتنة، لقد قمت إليه وما اعقل" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ح، ط، هـ]: (و).
(٢) مرسل؛ يحيى بن أبي كثير تابعي، أخرجه ابن أبي الدنيا في العيال (١٨٠).
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوگئے۔ پھر ارشاد فرمایا: بیشک اولاد بھی فتنہ ہے تحقیق میں ان کے لیے کھڑا ہوا اور مجھے سمجھ بھی نہیں آئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34359، ترقيم محمد عوامة 32850)
ترقیم عوامۃ: 32851 ترقیم الشثری: -- 34360
٣٤٣٦٠ - حدثنا هوذة بن خليفة عن التيمي عن ابي عثمان عن اسامة (١) قال: كان رسول الله ﷺ ياخذني والحسن فيقول:"اللهم إني احبهما فاحبهما" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (بن زيد).
(٢) حسن؛ هوذة صدوق، أخرجه البخاري (٦٠٠٣)، وأحمد (٢١٨٢٨).
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34360]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34360، ترقيم محمد عوامة 32851)
ترقیم عوامۃ: 32852 ترقیم الشثری: -- 34361
٣٤٣٦١ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن الحارث عن ⦗٩٦⦘ زهير بن الاقمر قال: بينما الحسن (بن علي) (١) (٢) يخطب إذ قام رجل من (الاسد) (٣) آدم طوال فقال: (لقد) (٤) رايت رسول الله ﷺ واضعه في حقويه يقول:"من احبني فليحبه، فليبلغ الشاهد الغائب" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ]: زيادة ﵁.
(٣) في [هـ]: (الأزد)، وهما لهجتان في اسم القبيلة.
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣١٠٦)، والحاكم ٣/ ١٧٣، والبخاري في التاريخ ٣/ ٤٢٨.
حضرت زہیر بن اقمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک شخص بہت لمبے قد والا تھا کھڑا ہوکر کہنے لگا: تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اس شخص کی کوکھ میں رکھ کر ارشاد فرما رہے تھے: جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے پس چاہیے کہ وہ اس سے محبت کرے اور چاہیے کہ حاضر شخص اس بات کو غائب شخص تک پہنچا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34361]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34361، ترقيم محمد عوامة 32852)
ترقیم عوامۃ: 32853 ترقیم الشثری: -- 34362
٣٤٣٦٢ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني حسين بن واقد قال: حدثني عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ يخطبنا، فاقبل حسن وحسين عليهما قميصان احمران يمشيان ويعثران ويقومان، فنزل رسول الله ﷺ فاخذهما فوضعهما بين يديه ثم قال:"صدق الله ورسوله: ﴿واعلموا انما اموالكم واولادكم فتنة﴾ [الانفال: ٢٨] ، رايت هذين فلم اصبر ثم اخذ في خطبته" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ حسين بن واقد صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٩٥)، وأبو داود (١١٠٩)، وابن ماجة (٣٦٠٠)، والنسائي ٣/ ١٠٨، والترمذي (٣٧٧٤)، وابن خزيمة (١٨٠١)، وابن حبان (٦٠٣٩)، والحاكم ١/ ٢٨٧، وابن أبي الدنيا في العيال (١٧٩)، وابن جرير في التفسير ٢٨/ ١٢٥، والبيهقي ٦/ ١٦٥، والواحدي في التفسير ٤/ ٣٠٨، والبغوي في معالم التنزيل ٤/ ٣٥٤، وابن الأثير ٢/ ١٢.
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سامنے سے تشریف لائے اس حال میں کہ ان دونوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ دونوں چلتے پھر ٹھوکر کھا کر گرجاتے پھر کھڑے ہوتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور ان دونوں کو پکڑ کر اپنے سامنے بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسول 5 نے سچ ارشاد فرمایا: یقینا تمہارے اموال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں۔ میں نے ان دو ونوں کو دیکھا پس مجھ سے صبر نہیں ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34362]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34362، ترقيم محمد عوامة 32853)
ترقیم عوامۃ: 32854 ترقیم الشثری: -- 34363
٣٤٣٦٣ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثني مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن ابن ابي نعم قال: كنت جالسا عند ابن عمر فاتاه رجل (فساله عن دم البعوض؟ فقال له ابن عمر: ممن انت؟ قال: رجل) (١) من اهل ⦗٩٧⦘ العراق، فقال ابن عمر: ها انظروا هذا يسالني عن دم البعوض وهم قتلوا ابن رسول الله ﷺ، و (٢) سمعت رسول الله ﷺ يقول:"هما ريحانتي من الدنيا" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (قد).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩٩٤)، وأحمد (٥٦٧٥).
حضرت ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے مچھر کے خون سے متعلق سوال کیا۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے ارشاد فرمایا: تم کہاں کے ہو؟ اس نے کہا: کہ میں اہل عراق میں سے ہوں۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اوہ! لوگو اس کی طرف دیکھو یہ ایک مچھر کے خون کے متعلق مجھ سے سوال کر رہا ہے حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کو قتل کردیا! اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: وہ دونوں میری دنیا کی بہاریں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34363]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34363، ترقيم محمد عوامة 32854)
ترقیم عوامۃ: 32855 ترقیم الشثری: -- 34364
٣٤٣٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرني جرير بن حازم عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن عبد الله بن شداد عن ابيه قال: دعي رسول الله ﷺ لصلاة فخرج وهو حامل حسنا (او) (١) حسينا، فوضعه إلى جنبه فسجد بين ظهراني صلاته سجدة اطال فيها، قال ابي: فرفعت راسي من بين الناس فإذا الغلام على ظهر رسول الله ﷺ فاعدت راسي فسجدت، فلما سلم رسول الله ﷺ قال له القوم: يا رسول الله لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها، افكان يوحي إليك؟ قال:"لا، ولكن ابني ارتحلني فكرهت ان اعجله حتى يقضي حاجته" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (و).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٠٣٣)، والنسائي ٢/ ٢٢٩، والحاكم ٣/ ٦٢٦، والطبراني (٧١٠٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٣٤).
حضرت عبد اللہ بن شداد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پہلو میں بٹھایا ہوا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی پیٹھوں کے درمیان اپنی نماز کا سجدہ ادا کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا۔ میرے والد نے کہا: کہ میں نے تمام لوگوں کے درمیان سے سر اٹھایا۔ تو دیکھا ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے دوبارہ اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول 5! آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں ایسا سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی زندگی بھر نہیں کیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی کی جار ہی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا۔ تو میں نے ناپسند کیا کہ میں جلدی سے اٹھ جاؤں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34364]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34364، ترقيم محمد عوامة 32855)
ترقیم عوامۃ: 32856 ترقیم الشثری: -- 34365
٣٤٣٦٥ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن عدي بن ثابت عن (البراء) (١) قال: رايت النبي ﷺ حمل الحسن بن علي على عاتقه وقال:"اللهم إني احبه فاحبه"، قال شعبة: فقلت لعدي: حسن؟ (قال) (٢) : نعم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (البراق).
(٢) في [أ، ب]: (فقال).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٤٩)، ومسلم (٢٤٢٢).
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔ اور فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: حضرت حسن رحمہ اللہ سے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: جی ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34365]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34365، ترقيم محمد عوامة 32856)
ترقیم عوامۃ: 32857 ترقیم الشثری: -- 34366
٣٤٣٦٦ - حدثنا جعفر بن عون قال: اخبرنا معاوية بن ابي مزرد المديني عن ابيه عن ابي هريرة قال: بصر عيناي هاتان وسمع اذناي النبي ﷺ وهو آخذ بيد ⦗٩٨⦘ حسن او حسين وهو يقول:" (ترق) (١) عين بقة"، قال: فيضع الغلام قدمه على قدم النبي ﷺ، ثم يرفعه فيضعه على صدره ثم يقول:"افتح فاك"، قال: ثم يقبله، ثم يقول:"اللهم إني احبه فاحبه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: تصعد، وفي [أ، ب]: (برق)، قيل: شبهه بعين البعوض لصغره؛ وقيل: عين بقة أعلى قصر أو حصن بهذا الاسم.
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي مزرد، أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٢٤٩)، وأحمد في فضائل الصحابة (١٤٠٥)، والحارث (٩٩٣/ بغية)، والطبراني (٢٦٥٣)، وابن عساكر ١٣/ ١٩٤، والآجري في الشريعة (١٦٥٤)، وابن أبي الدنيا في العيال (٢٠٩)، والرامهرمزي في أمثال الحديث (٩٩).
حضرت ابو مزَرَّد مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے نبی 5 کو سنا۔ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہو اتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ آنکھ کی طرح پتلا ہوجا۔ راوی کہتے ہیں۔ کہ پس بچے نے اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر اپنے سینہ پر بٹھا لیا۔ اور پھر ارشاد فرمایا: اپنا منہ کھولو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بوسہ لیا اور ارشاد فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34366، ترقيم محمد عوامة 32857)