🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ فِي الْعَرَايَا:
باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1534 ترقیم شاملہ: -- 3875
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ "،
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے خبر دی، نیز ہمیں ابن نمیر اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ انہی دونوں کے ہیں۔۔ دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہ ہمیں زہری نے سالم سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے (پکنے کی) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھل کی بیع سے اور پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3875]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ ان کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور تازہ کھجور، خشک کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3875]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3876
قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا "، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: أَنْ تُبَاعَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: (اجازت دی) کہ اسے بیچا (یا خریدا) جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3876]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَيْعِ الْعَرَايَا» بیع عرایا کی رخصت دی ہے، یعنی فروخت کرنے کی؛ عرایا کی تفسیر اگلے باب میں آ رہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3876]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1538 ترقیم شاملہ: -- 3877
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
ابن شہاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل (پکنے) کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت خریدو اور نہ خشک کھجور کے عوض (درخت پر لگا) پھل خریدو۔ ابن شہاب نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، بالکل اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3877]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل پکنے کی صلاحیت کے ظاہر ہونے سے پہلے نہ خریدو اور نہ تازہ کھجور، خشک کھجور سے خریدو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3877]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3878
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ "، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ ثَمَرُ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يُبَاعَ الزَّرْعُ بِالْقَمْحِ، وَاسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْقَمْحِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ". وقَالَ سَالِمٌ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ ".
ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ کی بیع سے منع فرمایا۔ مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر لگے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جائے، اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کو (کٹنے سے پہلے) گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دیا جائے۔ (ابن شہاب نے) کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا: صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھل نہ خریدو، اور نہ (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجور کے عوض خریدو۔ سالم نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس (ممانعت کے عام حکم) کے بعد عَرِیہ کی بیع میں تروتازہ یا خشک کھجور کے عوض بیع کی رخصت دی، اور اس کے سوا کسی بیع میں رخصت نہیں دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3878]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَيْعُ الْمُزَابَنَةِ» (بیعِ مزابنہ) اور «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) سے منع فرمایا ہے، «الْمُزَابَنَةُ» (مزابنہ) یہ ہے کہ درختوں کا پھل، خشک کھجوروں کے عوض بیچا جائے اور «الْمُحَاقَلَةُ» (محاقلہ) یہ ہے کہ کھیتی، گندم کے عوض فروخت کی جائے یا زمین گندم کے عوض بٹائی پر دی جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3879
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ ".
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کو اجازت دی کہ وہ اسے (اس پر موجود پھل کو) مقدار کا اندازہ کرتے ہوئے خشک کھجور کے عوض بیچ لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3879]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے مالک کو اجازت دی کہ وہ اسے اندازہ کر کے چھواروں کے عوض بیچ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3879]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3880
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يُحَدِّثُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا ".
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا: مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی (عریہ یہ ہے) کہ گھر والے (اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3880]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں اجازت دی ہے کہ کوئی گھرانہ اس کو اندازہ لگا کر چھواروں کے عوض لے لے اور تازہ کھجوریں کھا لیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3880]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3881
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
عبدالوہاب نے ہمیں کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: مجھے نافع نے اسی سند سے اسی کے مانند خبر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3881]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3881]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3882
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ، فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
ہشیم نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، البتہ انہوں نے کہا: عریہ سے وہ کھجور کا درخت مراد ہے جو لوگوں کو (بطور عطیہ) دیا جاتا ہے۔ وہ (درخت پر لگے پھل کو) اندازے کے بقدر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3882]
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اسی سند سے بیان کرتے ہیں، ہاں اس میں یہ ہے کہ «الْعَرِيَّةُ» عریہ وہ کھجور ہے، جو کسی قوم کو دی جاتی ہے تو وہ اسے اندازہ کر کے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3883
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا ". قَالَ يَحْيَى: الْعَرِيَّةُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلَاتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی۔ یحییٰ نے کہا: عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل (اس سے حاصل ہونے والی) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے۔ (یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے۔ مفہوم ایک ہی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3883]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عریہ کے فروخت کرنے کی رخصت دی ہے کہ اس کو اندازہ کر کے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیا جائے، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: «الْعَرِيَّةُ» یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے درختوں کا پھل اپنے گھر والوں کے لیے تازہ کھانے کے لیے خرید لے اور اندازہ کر کے اس کے عوض خشک کھجوریں دے دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3884
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا ".
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس (کے پھل) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3884]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعَرَايَا» (عرایا) کو، ان کے پھل کا اندازہ کر کے چھوہاروں کے ناپ کے عوض بیچنے کی رخصت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں