🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا:
باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1539 ترقیم شاملہ: -- 3882
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَالْعَرِيَّةُ: النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ، فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.
ہشیم نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، البتہ انہوں نے کہا: عریہ سے وہ کھجور کا درخت مراد ہے جو لوگوں کو (بطور عطیہ) دیا جاتا ہے۔ وہ (درخت پر لگے پھل کو) اندازے کے بقدر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3882]
یحییٰ بن سعید اسی سند سے بیان کرتے ہیں، ہاں اس میں یہ ہے کہ عریہ وہ کھجور ہے، جو کسی قوم کو دی جاتی ہے تو وہ اسے اندازہ کر کے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيدثقة ثبت
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3882 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3882
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے صراحتا فروخت کرنے کی نسبت،
ان لوگوں کی طرف کی گئی ہے،
جنہیں وہ کھجور ہبہ کی گئی ہے۔
اس کے باوجود اس کو ھبہ کی تبدیلی کی دلیل قرار دینا،
معلوم نہیں کس منطق کی رو سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
اور اس میں خریداری کی بھی تعیین نہیں ہے کہ وہ خود مالک ہے یا کوئی اور ہے،
مالک تو صرف اسی صورت میں خریدار ہو سکتا ہے جب وہ گھر والوں سمیت باغ میں رہائش پذیر ہو،
اور دوسروں کی آمد و رفت تکلیف کا باعث ہو،
اگر وہ باغ میں رہائش نہیں رکھتا یا آمد و رفت سے تکلیف نہیں ہوتی،
تو پھر اس کو خریدنے کی کیا ضرورت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3882]