🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. ما ذكر في فضل فاطمة ﵂ ابنة رسول الله ﷺ
ان روایات کا بیان جو سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مذکور ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32935 ترقیم الشثری: -- 34444
٣٤٤٤٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن محمد بن علي قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما فاطمة بضعة مني، فمن اغضبها اغضبني" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ محمد بن علي تابعي، وقد ورد من حديث ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن ابن أبي ملكية عن المسور بن مخرمة، أخرجه البخاري (٣٧٦٧)، ومسلم (٢٤٤٩).
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ پس جس نے اس کو غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34444]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34444، ترقيم محمد عوامة 32935)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32936 ترقیم الشثری: -- 34445
٣٤٤٤٥ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن عائشة قالت: قلت لفاطمة ابنة رسول الله ﷺ: رايتك حين اكببت على النبي ﷺ في مرضه فبكيت، ثم اكببت عليه ثانية فضحكت، قالت: اكببت عليه فاخبرني انه ميت فبكيت، ثم اكببت عليه الثانية فاخبرني اني اول اهله لحوقا به، واني سيدة نساء اهل الجنة إلا مريم ابنة عمران، فضحكت (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه البخاري (٣٦٢٥)، ومسلم (٣٦٢٦).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: میں نے تجھے دیکھا تھا جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں ان کے مرض وفات میں پھر رونے لگیں۔ پھر تم دوبارہ ان پر جھکیں پس دوسری مرتبہ تم ہنس پڑیں؟! آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں جب پہلے جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا کہ وہ فوت ہونے والے ہیں۔ تو میں رو پڑی۔ پھر میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا کہ میں اپنے گھر والوں میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گی۔ اور بیشک میں جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں۔ سوائے مریم بن عمران کے۔ تو اس بات پر میں ہنس پڑی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34445، ترقيم محمد عوامة 32936)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32937 ترقیم الشثری: -- 34446
٣٤٤٤٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن إسرائيل عن ميسرة النهدي عن المنهال بن عمرو عن زر بن حبيش عن حذيفة قال: اتيت رسول الله ﷺ فخرج فاتبعته، فقال:"ملك عرض لي استاذن ربه ان يسلم علي ويخبرني ان فاطمة سيدة نساء اهل الجنة" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٣٢٩)، والترمذي (٣٧٨١)، والنسائي (٨٢٩٨)، وابن حبان (٦٩٦٠)، وابن خزيمة (١١٩٤)، والحاكم ١/ ٣١٢، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٩٠، وابن نصر في قيام الليل (٢٦٧)، والطبراني (٢٦٠٧)، والخطيب ١٠/ ٢٣٠، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٨٧، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٤٠٦)، وابن عساكر ١٢/ ٢٦٨.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل گئے پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فرشتہ آیا تھا اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی تھی مجھ پر درود وسلام پڑھنے کی، اور اس نے مجھے بتلایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34446، ترقيم محمد عوامة 32937)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32938 ترقیم الشثری: -- 34447
٣٤٤٤٧ - حدثنا شاذان قال: ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن انس بن مالك ان النبي ﷺ كان يمر ببيت فاطمة ستة اشهر إذا خرج إلى الفجر فيقول:"الصلاة يا اهل البيت ﴿إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا﴾ (١) [الاحزاب: ٣٣] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٣٧٢٨)، وأبو يعلى (٣٩٧٩)، والترمذي (٣٢٠٦)، والحاكم ٣/ ١٥٨، وعبد بن حميد (١٢٢٣)، والطيالسي (٢٠٥٩)، والطبري في التفسير ٢٢/ ٦، والطحاوي في شرح المشكل (٧٧٤)، والطبراني (٢٦٧١)، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٣٤٠).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح فجر کی نماز کے لیے نکلتے تو چھ مہینے تک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے گزرتے رہے اور فرماتے! اے گھر والو! نماز کا وقت ہے۔ پس اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے گندگی کو دور کر دے۔ اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34447، ترقيم محمد عوامة 32938)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32939 ترقیم الشثری: -- 34448
٣٤٤٤٨ - حدثنا شريك عن ابي فروة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: قال رسول الله ﷺ:"فاطمة سيدة نساء العالمين بعد مريم ابنة عمران وآسية امراة فرعون وخديجة ابنة خويلد" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف؛ أبو فروة ضعيف؛ وعبد الرحمن تابعي.
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا تمام جہان کی عورتوں کی سردار ہیں۔ مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ، اور خدیجہ بنت خویلد کے بعد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34448، ترقيم محمد عوامة 32939)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32940 ترقیم الشثری: -- 34449
٣٤٤٤٩ - حدثنا محمد بن بشر عن زكريا عن عامر قال: خطب علي بنت ابي جهل إلى عمها الحارث بن هشام، فاستامر رسول الله ﷺ فيها فقال:"عن (حسبها) (١) تسالني؟" قال علي: قد اعلم ما (حسبها) (٢) ولكن تامرني بها؟ قال:"لا، فاطمة بضعة مني ولا احب ان (تجزع) " (٣) ، فقال علي: لا آتي شيئا تكرهه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حسنها).
(٢) في [أ، ب]: (حسنها).
(٣) في [أ، ب]: (تخرج).
(٤) مرسل؛ عامر تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (١٣٢٣)، وابن إسحاق (٣٥٨)، والدولابي في الذرية الطاهرة (٥٦)، وأخرجه الحاكم ٣/ ١٥٨ عن الشعبي عن سويد بن غفلة.

حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے لیے اس کے چچا حارث بن ہشام کو پیام نکاح بھیجا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس بارے میں مشورہ مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس کے حسب ونسب کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں جانتا ہوں اس کا حسب و نسب کیا ہے۔ لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ اور میں پسند نہیں کرتا کہ وہ پریشان ہو۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34449]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34449، ترقيم محمد عوامة 32940)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں