مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. ما ذكر في عائشة ﵂
ان روایات کا بیان جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مذکور ہیں
ترقیم عوامۃ: 32941 ترقیم الشثری: -- 34450
٣٤٤٥٠ - حدثنا ابو معاوية عن إسماعيل بن سميع عن مسلم البطين قال: قال رسول الله ﷺ:"عائشة (زوجي) (١) في الجنة" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (زوجتي).
(٢) مرسل؛ مسلم البطين تابعي، أخرجه ابن سعد ٨/ ٦٦.
حضرت مسلم بطین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عا رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ جنت میں بھی میری بیوی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34450، ترقيم محمد عوامة 32941)
ترقیم عوامۃ: 32942 ترقیم الشثری: -- 34451
٣٤٤٥١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن ابي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"كمل من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء إلا آسية امراة فرعون، ومريم ابنة عمران، وفضل عائشة على النساء كفضل الثريد على الطعام" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤١١)، ومسلم (٢٤٣١).
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہت سے آدمی کامل ہوئے اور عورتوں میں کامل نہیں ہوئیں مگر آسیہ فرعون کی بیوی، اور مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت سب کھانوں پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34451، ترقيم محمد عوامة 32942)
ترقیم عوامۃ: 32943 ترقیم الشثری: -- 34452
٣٤٤٥٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن زهير عن ابي إسحاق عن مصعب بن سعد قال: قال رسول الله ﷺ:"عائشة تفضل النساء كما تفضل الثريد (على) (١) سائر الطعام" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، م].
(٢) مرسل؛ مصعب تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (١٦٤٣)، وورد من حديث مصعب عن أبيه، أخرجه أبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٥، والطبراني في الأوسط (١٩٧٨)، وابن حيان في جزئه (٥٤).
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں پر ایسی ہی فضیلت رکھتی ہیں جیسا کہ ثرید کھانوں پر فضیلت رکھتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34452، ترقيم محمد عوامة 32943)
ترقیم عوامۃ: 32944 ترقیم الشثری: -- 34453
٣٤٤٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد عن عبد الرحمن بن ابي الضحاك عن عبد الرحمن بن محمد بن زيد بن جدعان قال: حدثنا ان عبد الله، بن صفوان وآخر معه، اتيا عائشة فقالت عائشة: يا فلان هل سمعت حديث حفصة؟ فقال: نعنم يا ام المؤمنين، فقال لها عبد الله بن صفوان: وما ذاك يا ام المؤمنين؟ قالت: خلال في (تسع) (١) لم تكن في احد من الناس إلا ما آتى الله مريم ابنة عمران، والله ما اقول هذا اني افتخر على (صواحبي) (٢) قال: عبد الله بن صفوان: وما هي يا ام المؤمنين؟ قالت: نزل المك بصورتي، وتزوجني رسول الله ﷺ لسبع سنين، واهديت إليه لتسع سنين، وتزوجني بكرا لم يشركه في ⦗١٢٦⦘ احد من الناس، واتاه الوحي وانا وإياه في لحاف واحد، وكنت من احب الناس إليه، ونزل في آيات من القرآن كادت الامة تهلك فيهن، ورايت جبريل ولم يره احد من نسائه غيري، وقبض في بيتي لم يله احد غير الملك وانا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م]: (سبع).
(٢) في [هـ]: (صواحباتي).
(٣) منقطع فيه جهالة؛ عبد الرحمن بن جدعان لم يدرك عائشة، وعبد الرحمن بن أبي الضحاك فيه جهالة، فيه جهالة، أخرجه الطبراني ٢٣/ (٧٧)، والحاكم ٤/ ١٠، وأبو القاسم الأصبهاني في الحجة (٣٦٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠٣٦)، وابن جرير الطبري في التاريخ ٢/ ٩، والبخاري في التاريخ ٥/ ٣٤٥، والمؤلف في المسند كما في المطالب العالية (٤١٠٦).
حضرت عبد الرحمن بن محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ ایک دوسرا آدمی یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے فلاں! کیا تو نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! ام المؤمنین، اس پر حضرت عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: اے ام المؤمنین! وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھ میں نو خصلتیں ایسی ہیں جو لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔ سوائے ان کے جو اللہ نے حضرت مریم بنت عمران کو عطا فرمائیں۔ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کہتی کہ میں اپنی ساتھیوں پر فخر کرتی ہوں عبداللہ بن صفوان نے پوچھا: اے ام المؤمنین! وہ خصلتیں کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی جب کہ میں سات سال کی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نو سال کی عمر میں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ باکرہ سے شادی کی۔ اور اس میں میرا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور میرے بارے میں قرآن کی چند آیات اتریں۔ اور قریب تھا کہ امت ان کے بارے میں ہلاک کردی جاتی۔ اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا اور میرے علاوہ کسی عورت نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں ہوا جہاں میرے اور فرشتہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34453]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34453، ترقيم محمد عوامة 32944)
ترقیم عوامۃ: 32945 ترقیم الشثری: -- 34454
٣٤٤٥٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن مسروق قال: اخبرتني عائشة قالت: بينا رسول الله ﷺ جالس في البيت إذ دخل الحجرة علينا رجل على فرس فقام إليه رسول الله ﷺ فوضع يده على معرفة الفرس فجعل يكلمه، قالت: ثم رجع رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله من هذا الذي كنت تناجي؟ قال:"وهل رايت احدا؟"، قالت: قلت: نعم، رايت رجلا على فرس، قال:"بمن (شبهته) (٢) ؟، قالت: بدحية الكلبي، قال:"ذاك جبريل"، قال:"قد رايت خيرا"، قال: ثم (لبثت) (٣) ما شاء الله ان (البث) (٤) فدخل جبريل ورسول الله ﷺ في الحجرة، فقال رسول الله ﷺ:"يا عائشة"، قلت: لبيك وسعديك يا رسول الله، قال:"هذا جبريل وقد امرني ان اقرئك (منه السلام) (٥) "، قالت: قلت ارجع إليه مني السلام ورحمة الله وبركاته، جزاك الله من دخيل خير ما يجزئ الدخلاء، ⦗١٢٧⦘ قالت: وكان ينزل الوحي على رسول الله ﷺ وانا وهو في لحاف واحد (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م، هـ]: (غالب).
(٢) في [أ، ب]: (شبهتيه).
(٣) في [أ، ب]: (لبث)
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (يلبث).
(٥) في [أ، ب]: (السلام منه).
(٦) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (٢٤٤٦٢)، والحاكم ٤/ ٧، والحميدي (٢٧٧)، والطبراني ٢٣/ (٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٤٦، والخطيب ٧/ ١٤٠، وابن سعد ٨/ ٦٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠١٣)، وسبق ٨/ ٤٢٨ بسند صحيح وسبق ٨/ ٤٢٥ برقم [٢٧٣٥٣].
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ اس درمیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ایک گھوڑے پر سوار آدمی حجرے میں ہم پر داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کی طرف گئے اور اپنا ہاتھ گھوڑے کی گردن پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے بات کرنا شروع کردی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے۔ تو میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول 5! یہ کون شخص تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرگوشی فرما رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے کسی کو دیکھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے ایک آدمی کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے اس شخص کو کس کے مشابہہ پایا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے تحقیق تو نے خیر کی بات دیکھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ پھر وہ ٹھہرے جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ ٹھہریں۔ پس حضرت جبرائیل علیہ السلام داخل ہوئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ! میں نے کہا: میں حاضر ہوں: اے اللہ کے رسول 5! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تحقیق انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان کی طرف سے سلام کہوں۔ میں نے کہا: آپ بھی میری طرف سے ان کو کہہ دیں، اللہ کی سلامتی، رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔ اللہ مہمان کو جو تمام داخل ہونے والے مہمانوں میں سب سے بہتر مہمان ہے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تھی۔ اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34454]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34454، ترقيم محمد عوامة 32945)
ترقیم عوامۃ: 32946 ترقیم الشثری: -- 34455
٣٤٤٥٥ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل قال: حدثني مصعب بن إسحاق بن طلحة ان رسول الله ﷺ قال:"قد اريت عائشة في الجنة (ليهون) (١) علي (بذلك) (٢) موتي كاني ارى كفها" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (لهون).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (بذاك).
(٣) مرسل؛ مصعب مجهول وليس صحابيًا، وأخرجه ابن سعد ٨/ ٦٥، ورواه أحمد في المسند (٢٥١٢٠) من حديث مصعب عن عائشة وبين في فضائل الصحابة (١٦٣٣) أن وكيعًا رواه مرة مرسلًا ومرة متصلًا، وورد من حديث الأسود عن عائشة، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠٠٨)، والطبراني ٢٣/ (٩٨)، وابن المبارك في الزهد (١٠٧٨).
حضرت مصعب بن اسحاق بن طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تحقیق جنت میں مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا دکھلائی گئی، تاکہ اس کی وجہ سے مجھ پر میری موت آسان ہوجائے۔ گویا کہ میں نے اس کا ہاتھ دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34455]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34455، ترقيم محمد عوامة 32946)
ترقیم عوامۃ: 32947 ترقیم الشثری: -- 34456
٣٤٤٥٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الله بن عبد الرحمن عن انس (ابن مالك) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٧٠)، ومسلم (٢٤٤٦).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسا کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34456]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34456، ترقيم محمد عوامة 32947)
ترقیم عوامۃ: 32948 ترقیم الشثری: -- 34457
٣٤٤٥٧ - حدثنا جعفر بن عون قال: ثنا محمد بن شريك عن (ابن) (١) ابي مليكة قال: قالت عائشة: توفي رسول الله ﷺ في بيتي وبين سحري ونحري (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٥٠)، وأحمد (٢٤٢٦٢)، وابن حبان (٦٦١٦)، والحاكم ٤/ ٦.
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں میرے سینہ اور پیٹ کے درمیان وفات پائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34457]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34457، ترقيم محمد عوامة 32948)
ترقیم عوامۃ: 32949 ترقیم الشثری: -- 34458
٣٤٤٥٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن ابي وائل ان عليا بعث عمارا والحسن يستنفران الناس، فقام رجل فوقع في عائشة، فقال عمار: انها لزوجة نبينا ﷺ في (الدنيا) (١) والآخرة، ولكن الله ابتلانا بها ليعلم إياه نطيع او إياها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الدنى).
(٢) صحيح.
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ یہ دونوں لوگوں سے مدد طلب کریں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا میں عیب نکالنے لگا، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ لیکن اللہ نے ہمیں ان کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا ہے کہ ہم اس کی (حضرت علی رضی اللہ عنہ) فرمانبرداری کرتے ہیں یا ان کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34458، ترقيم محمد عوامة 32949)
ترقیم عوامۃ: 32950 ترقیم الشثری: -- 34459
٣٤٤٥٩ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا إسماعيل بن ابي خالد عن رجل عن عمار قال: إن عائشة زوجة النبي ﷺ في الجنة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الراوي عن عمار.
حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ یقینا عائشہ رضی اللہ عنہا جنت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34459، ترقيم محمد عوامة 32950)