مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
12. ما قالوا: فيمن استعان بالسلاح من الغنيمة
اس شخص کے بارے میں جو غنیمت کے اسلحہ سے مدد لیں بعض لوگوں نے یوں کہا
ترقیم عوامۃ: 33278 ترقیم الشثری: -- 34795
٣٤٧٩٥ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن (ابي) (١) الاشهب قال: قلت للحسن: يا ابا سعيد: الرجل يكون (عاريا) (٢) (يلبس) (٣) الثوب؟ او يكون اعزل يلبس من السلاح؟ قال: يفعل، فإذا حضر القسم فليحضره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (غازيًا).
(٣) في [أ، ط]: (بلبس).
حضرت ابو الاشھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو سعید! جو آدمی کپڑوں سے ننگا ہو کیا وہ غنیمت کے کپڑے پہن سکتا ہے؟ یا وہ نہتا ہو تو اسلحہ لے سکتا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ ایسا کرلے اور پھر جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگے۔ تو وہ چیز حاضر کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34795]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34795، ترقيم محمد عوامة 33278)
ترقیم عوامۃ: 33279 ترقیم الشثری: -- 34796
٣٤٧٩٦ - حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا اصاب المسلمون السلاح والدواب فارادوا ان يستعينوا به واحتاجوا فلا باس به ولم يستاذنوا الإمام.
حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا: جب مسلمان اسلحہ اور جانور پالیں غنیمت کے مال سے۔ اور وہ ان سے مدد حاصل کرنا چاہیں اور وہ اس کے محتاج بھی ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں اگرچہ انہوں نے امیر سے اجازت نہ لی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34796]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34796، ترقيم محمد عوامة 33279)
ترقیم عوامۃ: 33280 ترقیم الشثری: -- 34797
٣٤٧٩٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابي وإسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة قال: قال عبد الله: انتهيت إلى ابي جهل يوم (يدر) (١) وقد ضربت رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد لله الذي اخزاك يا عدو الله، فقال: هل هو إلا رجل قتله قومه، فجعلت اتناوله بسيف لي غير طائل فاصيبت يده فندر سيفه فاخذته فضربته (به) (٢) حتى برد (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بدر).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) منقطع؛ أبو عبيدة لا يروي عن أبيه عبد اللَّه بن مسعود، أخرجه أحمد (٤٢٤٦)، وأبو داود (٣٧٢٢)، وأبو يعلى (٥٢٣١)، والشاشي (٦٣٢)، والطبراني (٨٤٦٨)، والبيهقي ٦/ ٦٢، والطيالسي (٣٢٨)، والبزار (١٧٧٥/ كشف).
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں غزوہ بدر کے دن ابو جہل ملعون کے پاس پہنچا اس حال میں کہ اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ تھا۔ اور وہ خود کو لوگوں سے بچا رہا تھا اپنی تلوار کے ذریعے۔ پس میں نے کہا: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے ذلیل و رسوا کیا اے اللہ کے دشمن۔ وہ کہنے لگا: کوئی آدمی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی قوم نے اس کو مار ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی چھوٹی سی تلوار کے ذریعہ اس کو ٹٹولنا شروع کیا تو میں نے اس کے ہاتھ کو ہلایا اور اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑ لیا۔ اور اس کو مار دیا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34797]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34797، ترقيم محمد عوامة 33280)