مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
128. في الطعام والعلف يؤخذ منه الشيء في أرض العدو
دشمن کی سر زمین پر موجود کھانے اور چارے کو استعمال کرنا
ترقیم عوامۃ: 34011 ترقیم الشثری: -- 35562
٣٥٥٦٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن (اسيد) (١) بن (عبد الرحمن) (٢) ⦗٤٣٥⦘ الخثعمي عن (مقبل) (٣) بن عبد الله (عن) (٤) هانئ بن كلثوم الكناني قال: كنت (صاحب) (٥) الجيش الذي فتح الشام فكتبت إلى عمر: إنا فتحنا ارضا كثيرة الطعام والعلف، فكرهت ان اتقدم إلى شيء من ذلك إلا بامرك وإذنك، فاكتب إلي بامرك في ذلك، فكتب إلي عمر: ان دع الناس ياكلون ويعلفون، فمن باع شيئا بذهب او فضة فقد وجب فيه خمس الله وسهام المسلمين (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أسد).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، ب]: (نفيل).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (بن).
(٥) في [أ، هـ]: (حاجب).
(٦) مجهول؛ لجهالة مقبل بن عبد اللَّه، أخرجه مالك كما في المدونة ٣/ ٣٦، وسعيد (٢٧٥٠)، والبيهقي ٩/ ٦٠، وابن عساكر ٦٠/ ١٤٠.
حضرت ھانی بن کلثوم الکنانی فرماتے ہیں کہ جس لشکر نے ملک شام فتح کیا میں اس لشکر کا امیر تھا، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ ہم نے ایک ملک فتح کیا ہے اس میں کھانے پینے اور چارہ کی کثرت ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ آپ کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی چیز کی طرف پہل کروں، تو آپ اپنی رائے لکھ کر ہمیں آگاہ کردیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ کر ارسال کیا کہ لوگوں کو اجازت دے دو کہ وہ کھائیں اور جانوروں کو چارہ کھلائیں، اور جو شخص سونے یا چاندی کے بدلے کچھ فروخت کرے تو اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ بھی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35562]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35562، ترقيم محمد عوامة 34011)
ترقیم عوامۃ: 34012 ترقیم الشثری: -- 35563
٣٥٥٦٣ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن اسيد بن (عبد الرحمن) (١) عن خالد بن (دريك) (٢) عن عبد الله بن محير (يز) (٣) قال: سئل فضالة بن عبيد (صاحب) (٤) رسول الله ﷺ عن بيع الطعام والعلف في ارض الروم، (فقال) (٥) فضالة: إن اقواما يريدون ان (يستزلوني) (٦) عن ديني، والله (إني) (٧) لارجو ان لا يكون ذلك حتى القى محمدا ﷺ، من باع طعاما بذهب (ا) (٨) وفضة وجب فيه خمس الله ⦗٤٣٦⦘ وسهام المسلمين (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [هـ]: (الدريك).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، هـ]: (حاجب).
(٥) في [هـ]: (قال).
(٦) في [أ، ب]: (يستنزلوني).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ب].
(٩) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٩٢٩٩)، ومسدد كما في المطالب (٢٠٦٧)، والبيهقي ٩/ ٦٠.
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی رسول 5 ہیں ان سے روم کی زمین پر موجود دشمن کے کھانے اور چارہ کے متعلق دریافت کیا گیا؟ حضرت فضالہ نے فرمایا: بیشک یہ لوگ ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتے تھے، اور خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں اس طرح نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم شہید ہو کر محمد 5 سے ملاقات کرلیں، جو شخص کھانے کو سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے تو اس میں خمس واجب ہے اور مسلمانوں کا حصہ بھی ضروری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35563، ترقيم محمد عوامة 34012)
ترقیم عوامۃ: 34013 ترقیم الشثری: -- 35564
٣٥٥٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن خالد بن (الدريك) (١) عن ابن محيريز عن فضالة بن عبيد الانصاري قال: إن قوما يريدون ان (يستزلوني) (٢) عن ديني، اما والله إني لارجو ان اموت وانا عليه، ما كان من شيء (٣) بذهب او فضة ففيه خمس الله وسهام المسلمين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (دربك).
(٢) في [أ، ب]: (يستنزلوني).
(٣) أي: بيع.
(٤) صحيح؛ وانظر: الأثر قبله.
حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک یہ قوم ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتی ہے خدا کی قسم میری خواہش ہے کہ میری موت اس حال میں آئے کہ میں اسی دین پر قائم رہوں جو بھی اس میں سے سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ لازم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35564]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35564، ترقيم محمد عوامة 34013)
ترقیم عوامۃ: 34014 ترقیم الشثری: -- 35565
٣٥٥٦٥ - حدثنا (١) فضيل بن عياض عن هشام عن الحسن قال: كان اصحاب رسول الله ﷺ ياكلون من الغنائم إذا اصابوها: (من) (٢) الجزائر والبقر، ويعلفون دوابهم (و) (٣) لا يبيعون، فإن بيع ردوه إلى المقاسم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (ابن).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح؛ الحسن أدرك عددًا من الصحابة.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب مال غنیمت میں اونٹ اور گائیں پاتے تو اس میں سے کھاتے، اور ان کے جانور چارہ کھاتے، اور اس کی بیع نہ کرتے، اگر بیع کرچکے ہوتے تو اس کو تقسیم کی جگہ کی طرف لوٹا دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35565]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35565، ترقيم محمد عوامة 34014)
ترقیم عوامۃ: 34015 ترقیم الشثری: -- 35566
٣٥٥٦٦ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن شعبة عن حميد بن هلال عن عبد الله ابن (مغفل) (١) قال: سمعته يقول: دلي في جراب من شحم يوم خيبر قال: فالتزمته وقلت: هذا لي لا اعطي (٢) منه شيئا، فالتفت إلي النبي ﷺ ⦗٤٣٧⦘ (يتبسم) (٣) (فاستحييت) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (معقل).
(٢) في [هـ]: زيادة (أحدًا).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، ب]: (فاستحيت).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٥٣)، ومسلم (١٧٧٢).
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن مجھے ایک تھیلہ دیا گیا جس میں چربی تھی، میں نے یہ کہتے ہوئے اس کو پکڑ لیا کہ میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا، میں جب پیچھے کی طرف مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے میری بات سن کر مسکرا رہے تھے، مجھے یہ منظر دیکھ کر بہت حیا آئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35566]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35566، ترقيم محمد عوامة 34015)
ترقیم عوامۃ: 34016 ترقیم الشثری: -- 35567
٣٥٥٦٧ - حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد قال: كنا نغزو فنصيب الطعام والثمار والعسل والعلف فنصيب منه من غير قسمة.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جہاد میں شریک ہوئے، کھانے، پھلوں، چارے اور شہد میں بغیر تقسیم کے ہی حصہ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35567]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35567، ترقيم محمد عوامة 34016)
ترقیم عوامۃ: 34017 ترقیم الشثری: -- 35568
٣٥٥٦٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: كانوا ياكلون (من) (١) الطعام في ارض الحرب ويعتلفون قبل ان يخمسوا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام j جنگی زمین سے کھانا وغیرہ کھاتے اور خمس نکالنے سے قبل ہی جانوروں کو چارہ کھلاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35568، ترقيم محمد عوامة 34017)
ترقیم عوامۃ: 34018 ترقیم الشثری: -- 35569
٣٥٥٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام عن الحسن قال: كان اصحاب رسول الله ﷺ إذا افتتحوا المدينة او (القصر) (١) اكلوا من السويق والدقيق والسمن والعسل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (القفر)، وفي تفسير القرطبي ٤/ ٢٥٨: (الحصن).
(٢) صحيح.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی شہر یا قلعہ فتح فرماتے تو وہاں سے آٹا، ستّو، گھی اور شہد تناول فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35569، ترقيم محمد عوامة 34018)
ترقیم عوامۃ: 34019 ترقیم الشثری: -- 35570
٣٥٥٧٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن ابي سليمان عن عطاء في القوم يكونون غزاة، (فيكونون) (١) في السرية فيصيبون (انحاء) (٢) السمن والعسل والطعام قال: ياكلون وما بقي (ردوه) (٣) إلى إمامهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يكونون).
(٢) في [ب]: (ألحا).
(٣) في [أ، ب]: (يردوه).
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک قوم جنگ میں شریک ہوئی، اور وہ ایک سریہ میں شریک ہوئی ہے اور وہاں گھی، شہد اور کھانے کے برتن (تھیلے) ان کو ملتے ہیں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: وہ اس میں سے کھائیں گے اور جو باقی بچ جائے وہ اپنے امام کے سپرد کردیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35570، ترقيم محمد عوامة 34019)
ترقیم عوامۃ: 34020 ترقیم الشثری: -- 35571
٣٥٥٧١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يرخصون في الطعام والعلف ما لم (يعتقدوا) (١) مالا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يفتقدوا).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام j مال غنیمت کو جمع کرنے سے قبل کھانے اور چارے کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے تھے۔ جب تک کہ لوگ مال کے طور پر جمع نہ کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35571، ترقيم محمد عوامة 34020)