مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
137. من كره أن يعطى في الأمان ذمة الله
جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ امان میں اﷲ کا ذمہ دیا جائے
ترقیم عوامۃ: 34088 ترقیم الشثری: -- 35642
٣٥٦٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن ابيه ان النبي ﷺ كان إذا بعث اميرا على جيش او سرية اوصاه فقال:"إذا حاصرتم اهل حصن فارادوكم على ان (تجعلوا) (١) لهم ذمة الله وذمة (رسول الله) (٢) ﷺ فلا تجعلوا لهم ذمه الله ولا ذمة رسوله، ولكن اجعلوا لهم ذمتكم وذمة ابائكم، فإنكم إن (تخفروا) (٣) ذممكم وذمم آبائكم اهون من ان (تخفروا) (٤) ذمة الله وذمة رسوله ﷺ" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يجعلوا).
(٢) في [جـ]: (رسوله).
(٣) في [ط، هـ]: (تحقروا).
(٤) في [أ، هـ]: (تحقروا)، وفي [س]: (تحفروا).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد ٥/ ٣٥٢ (٢٣٠٢٨).
حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو اس کے امیر کو یہ وصیت فرماتے کہ: جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو، پھر تم ان کو اللہ اور اس کے رسول 5 کے ذمہ دینے کا ارادہ کرو تو ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول 5 کا ذمہ مت بناؤ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے ذمہ توڑ دو یہ زیادہ آسان ہے اس بات سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کو توڑو۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن مقرن المزنی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35642]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35642، ترقيم محمد عوامة 34088)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35643
٣٥٦٤٣ - قال سفيان: قال علقمة: فحدثت بحديث سليمان بن بريدة مقاتل ابن حيان فقال مقاتل بن حيان: حدثنا مسلم بن (هيصم) (١) العبدي عن النعمان بن المقرن المزني عن النبي ﷺ بمثله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (جهضم).
(٢) حسن؛ مسلم بن هيصم صدوق، أخرجه مسلم (١٧٣١) (٢)، وابن ماجه (٢٨٥٨)، وأبو داود (٢٦١٢)، وابن حبان (٤٧٣٩).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35643، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 34089 ترقیم الشثری: -- 35644
٣٥٦٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن ابي وائل قال: اتانا كتاب عمر ونحن بخانقين: إذا حاصرتم قصرا فارادوكم على ان ينزلوا على حكم الله فلا تنزلوهم، فإنكم لا تدرون تصيبون فيهم (حكم الله) (١) ام لا، ولكن انزلوهم على حكمكم، ثم اقضوا فيهم (٢) بعد ما شئتم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (حكمه).
(٢) في [جـ]: زيادة (هم) في الحاشية.
(٣) صحيح.
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ خانقین میں تھے ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب گرامی آیا، جس میں تحریر تھا کہ: جب تم لوگ کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور پھر ان کو اللہ کے حکم پر (امان دے کر) اتارنا چاہو تو ایسا مت کرو، کیوں کہ تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اس میں اللہ کا حکم پاتے بھی ہو کہ نہیں، بلکہ ان کو اپنے حکم اور امان میں اتا رو، پھر اس کے بعد جو چاہو ان کے ساتھ معاملہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35644]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35644، ترقيم محمد عوامة 34089)