🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

161. ما ذكر في الغلول
خیانت کے متعلق جو وارد ہوا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34212 ترقیم الشثری: -- 35772
٣٥٧٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن سالم بن ابي الجعد عن ابن عمر قال: كان على (ثقل) (١) النبي ﷺ رجل يقال له: كركرة فمات، فقال رسول ⦗٤٨٩⦘ الله ﷺ:"هو في النار"، فذهبوا ينظرون فوجدوا عليه عباءة قد غلها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (نعل).
(٢) رجاله ثقات، وقد نسبه السيوطي في الدر المنثور ٢/ ٣٦٣ للمؤلف وحده من حديث ابن عمر، والمشهور من حديث ابن عيينة عن عمرو عن سالم عن عبد اللَّه بن عمرو بن العاص، أخرجه البخاري (٣٠٧٤)، وأحمد ٢/ ١٦٠ (٦٤٩٣)، وابن ماجه (٢٨٤٩)، وسعيد بن منصور (٢٧٢٠)، والذهبي في السيرة ١٥/ ٤١١، والبيهقي ٩/ ١٠٠، والخطيب في الأسماء المبهمة ٤/ ٢٨٠، وابن عساكر ٤/ ٢٧٩.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جس کا نام کر کرہ تھا وہ فوت ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ جہنمی ہے لوگ اس کا سامان دیکھنے گئے تو انہوں نے ایک عبا پائی جس کو اس نے بطور خیانت لیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35772]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35772، ترقيم محمد عوامة 34212)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34213 ترقیم الشثری: -- 35773
٣٥٧٧٣ - حدثنا عبد الله بن نمير عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابي عمرة انه سمع زيد بن خالد الجهني يحدث ان رجلا من المسلمين توفي بخيبر وانه ذكر لرسول الله ﷺ امره، فقال:"صلوا على صاحبكم"، فتغيرت وجوه القوم لذلك، فلما راى ذلك قال: إنه غل في سبيل الله ففتشنا متاعه فوجدنا خرزا من خرز اليهود ما يساوي درهمين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أبي عمرة، أخرجه أحمد (١٧٠٣١)، وأبو داود (٢٧١٠)، والنسائي ٤/ ٦٤، وابن ماجه (٢٨٤٨)، وابن حبان (٤٨٥٣)، والحاكم ٢/ ١٢٧، ومالك ٢/ ٤٥٨، والشافعي في السنة (٦٣٦)، وعبد بن حميد (٢٧٢)، وابن الجارود (١٠٨١)، وعبد الرزاق (٩٥٠٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٧٨)، والحميدي (٨١٥)، والطبراني (٥١٧٤)، والبيهقي ٩/ ١٠١، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٢٦٢، والبغوي (٢٧٢٩).
حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص خیبر میں فوت ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے ساتھی کا نماز جنازہ خود پڑھ لو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو فرمایا: اس نے اللہ کے راستہ میں خیانت کی تھی، جب ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہودیوں کے موتیوں میں سے ایک موتی پایا جس کی دو درھم قیمت تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35773]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35773، ترقيم محمد عوامة 34213)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34214 ترقیم الشثری: -- 35774
٣٥٧٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابي عمرة عن زيد بن خالد عن النبي ﷺ مثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أبي عمرة، أخرجه أحمد (٢١٦٧٥)، وانظر: ما قبله.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35774]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35774، ترقيم محمد عوامة 34214)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34215 ترقیم الشثری: -- 35775
٣٥٧٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا الحكم بن عطية عن (ابي) (١) (المخيس) (٢) ⦗٤٩٠⦘ اليشكري قال: سمعت انس بن مالك يقول: قيل يا رسول الله استشهد فلان مولاك، قال:"كلا إني رايت عليه عباءة قد غلها" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (اليحلس)، وفي [س]: (التحيس).
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي المخيس، أخرجه أحمد (٣٥٥٢٨)، وأبو يعلى (٤٣٢٨).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ فلاں آپ کا غلام شہید ہوگیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں میں نے اس پر ایک چادر دیکھی تھی جو اس نے بطور خیانت لی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35775]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35775، ترقيم محمد عوامة 34215)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34216 ترقیم الشثری: -- 35776
٣٥٧٧٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن ابي (حيان) (١) عن ابي زرعة عن ابي هريرة قال: قام فينا رسول الله ﷺ خطيبا فذكر الغلول فعظمه وعظم امره ثم قال:" (٢) ايها الناس لا الفين احدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بعير له رغاء يقول: يا رسول الله اغثني، فاقول: لا املك لك (شيئا، قد بلغتك، ولا الفين احدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بقرة لها خوار يقول: يا رسول الله اغثني، فاقول لا املك لك) (٣) شيئا، قد بلغتك، ولا الفين احدكم يجيء يوم القيامة على رقبته فرس له حمحمة يقول: يا رسول الله اغثني، فاقول لا املك لك شيئا، قد بلغتك، ولا الفين احدكم يجيء يوم القيامة وعلى رقبته صامت، يقول: يا رسول الله اغثني، فاقول: لا املك لك شيئا، قد بلغتك، ولا الفين احدكم يجيء يوم القيامة على رقبته نفس لها صياح، فيقول: يا رسول الله اغثني، فاقول: لا املك لك شيئا قد بلغتك" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (حبان).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (أنها).
(٣) سقط ما بين القوسين من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٧٣)، ومسلم (١٨٣١).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کا ذکر فرمایا اور اس گناہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر ایک اونٹ ہو اور وہ اونٹ آواز نکال رہا ہو اور وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے تو میں اس کو کہوں میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تجھے اپنا پیغام پہنچا دیا تھا، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن میں گائے ہو اور اس کیلئے گائے کی آواز ہو اور وہ کہے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے، میں اس کو کہوں میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے پیغام پہنچا چکا تھا، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑے کی خیانت کا بوجھ ہو اور اس کی آواز اور وہ مجھ سے کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے میں کہوں کہ میں تیرے متعلق کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے اپنا پیغام پہنچا چکا تھا اور تم میں سے کوئی شخص میرے پاس قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر سونے یا چاندی کی خیانت کا بوجھ ہو اور وہ کہے اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں تجھے پپغام پہنچا چکا ہوں، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر کسی انسان کی خیانت کا بوجھ ہو اور اس کیلئے اس کی آواز ہو وہ مجھ سے کہے اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں اپنا پیغام پہنچا چکا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35776]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35776، ترقيم محمد عوامة 34216)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34217 ترقیم الشثری: -- 35777
٣٥٧٧٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا بعث اميرا على سرية او جيش قال:"لا تغلوا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد ٥/ ٣٥٨ (٢٣٠٨٠).
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سریہ یا لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے تو اس سے فرماتے خیانت مت کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35777]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35777، ترقيم محمد عوامة 34217)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34218 ترقیم الشثری: -- 35778
٣٥٧٧٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن ابيه ان ابا (حميد) (١) الساعدي صاحب رسول الله ﷺ اخا بني ساعدة حدثه ان رسول الله ﷺ استعمل (ابن) (٢) (اللتبية) (٣) فقال:"والذي نفسي بيده، لا ياخذ احدكم منها شيئا بغير حقه إلا جاء الله يحمله يوم القيامة، فلا اعرفن احدا جاء الله يحمل بعيرا له رغاء، او بقرة لها خوار او شاة (تيعر) (٤) "، ثم رفع يديه حتى إني انظر إلى بياض ابطيه، ثم قال:" (اللهم هل بلغت) (٥) "، ثم قال ابو حميد: بصر عيني وسمع اذني (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سعيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (الليثية)، وفي [جـ]: (اللثبية).
(٤) في [جـ]: (بيعر).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٧٤)، ومسلم (١٨٣٢).

حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو امیر بنایا تو ان سے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز ناحق وصول نہیں کرے گا مگر قیامت کے دن اس کے دربار میں لے کر حاضر ہوگا میں اس شخص کو ضرور جانتا ہوں جو اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا، اور اونٹ کا بوجھ اٹھایا ہوگا اس کیلئے اونٹ کی آواز ہوگی یا گائے کو اٹھایا ہوگا اور اس کیلئے گائے کی آواز ہوگی یا بکری کا بوجھ لا دے ہوگا اور اس کی آواز ہوگی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک مہمان کی طرف اٹھائے آپ نے اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کیا کہ میں آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے حضرت ابو حمید فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور میری کانوں نے یہ پیغام سنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35778]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35778، ترقيم محمد عوامة 34218)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34219 ترقیم الشثری: -- 35779
٣٥٧٧٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن ابي حميد الساعدي عن النبي ﷺ بنحو منه إلا انه قال: (عفرتي) (١) ابطيه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، هـ]: (عفرة).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٩٧)، ومسلم (١٨٣٢).

حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35779]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35779، ترقيم محمد عوامة 34219)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34220 ترقیم الشثری: -- 35780
٣٥٧٨٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس ابن ابي حازم عن عدي بن عميرة الكندي قال: قال رسول الله ﷺ:"ايها الناس من عمل لنا منكم على عمل فكتمنا (١) مخيطا فما فوقه فهو غل ياتي به يوم القيامة"، قال: فقام إليه رجل من الانصار اسود كاني اراه فقال: اقبل عني ⦗٤٩٢⦘ عملك يا رسول الله، قال:"ما ذاك؟"، قال: سمعتك تقول الذي قلت، قال:"وانا اقوله الآن من استعملناه على عمل فليجئنا بقليله وكثيره، فما اوتي منه اخذ، وما نهي عنه انتهى" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (منه).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٧).

حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! جو تم میں سے ہمارے لیے کسی معاملہ میں حاکم یا عامل بنے، پھر وہ ہم سے کوئی سوئی یا اس سے بڑی چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے وہ قیامت کے دن اس کو لے کر حاضر ہوگا ایک سیاہ انصاری شخص کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں اور کہا اے اللہ کے رسول! مجھے اپنا عامل بنانا واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کس وجہ سے؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ سے وہ سنا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی فرمایا ہے اس وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ جو تم میں سے کسی معاملہ پر عامل بنایا گیا تو اس کو چاہئے کہ جو تھوڑا یا زیادہ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے، جو اس کو دیا جائے وہ وصول کرے جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35780]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35780، ترقيم محمد عوامة 34220)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34221 ترقیم الشثری: -- 35781
٣٥٧٨١ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن ابي خالد عن قيس عن عدي (بن عميرة) (١) الكندي قال: سمعت رسول الله ﷺ فذكر مثله إلا انه قال:"فإنه غلول ياتي به يوم القيامة" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن عمارة)، وفي [جـ]: (بن عمارة).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٩).

حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ خیانت اور دھوکا ہے قیامت کے دن اس کے ساتھ حاضر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35781]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35781، ترقيم محمد عوامة 34221)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں