🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

193. في إمام السرية يأمرهم بالمعصية، من قال: لا طاعة له
سریہ کا امیر اگر گناہ کے کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیں ہو گی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34395 ترقیم الشثری: -- 35959
٣٥٩٥٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن سعد بن عبيدة عن ابي عبد الرحمن السلمي عن علي قال: بعث رسول الله ﷺ سرية واستعمل عليهم رجلا من الانصار، فامرهم ان يسمعوا له ويطيعوا، قال: فاغضبوه في شيء فقال: اجمعوا لي حطبا، (فجمعوا له حطبا) (١) ، قال: اوقدوا (٢) نارا، فاوقدوا نارا، قال: الم يامركم ان تسمعوا لي وتطيعوا؟ قالوا: بلى، قال: فادخلوها، قال: فنظر بعضهم إلى بعض وقالوا: إنما فررنا إلى رسول الله ﷺ من النار، قال: فبينما هم كذلك إذ سكن غضبه وطفئت النار، قال: فلما قدموا على النبي ﷺ ذكروا ذلك له فقال:"لو دخلوها ما خرجوا منها، إنما الطاعة في المعروف" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (لي).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٤٠)، وأحمد (١٠١٨).

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ایک سریہ روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر فرمایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی بات مانیں اور اس کی اطاعت کریں امیر کو کسی معاملہ میں لشکر والوں پر غصہ آیا، اس نے حکم دیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، انہوں نے اس کیلئے لکڑیاں جمع کیں اس نے حکم دیا کہ آگ جلا دو انہوں نے آگ لگا دی، اس نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں حکم نہ دیا گیا تھا کہ تم میری بات سنو گے اور اطاعت کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ امیر نے حکم دیا کہ پھر آگ میں داخل ہوجاؤ، راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض نے بعض کی طرف دیکھا اور کہا: بیشک ہمیں آگ سے رسول اکرم 5 کی طرف بھاگنا چاہیے راوی کہتے ہیں کہ اس حالت میں تھے کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور آگ بجھ گئی فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم رسول اکرم 5 کی خدمت میں واپس آئے تو اس واقعہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو اس میں سے نکل نہ پاتے، امیر کی اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35959]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35959، ترقيم محمد عوامة 34395)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34396 ترقیم الشثری: -- 35960
٣٥٩٦٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا عبيد الله عن نافع ان عبد الله حدثه ان ⦗٥٤٢⦘ النبي ﷺ قال:"السمع والطاعة على المرء المسلم فيما احب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فمن آمر بمعصية فلا سمع له ولا طاعة" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٥٥)، ومسلم (١٨٣٩).
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی اطاعت اس میں ہے جس کو وہ پسند کرے، اور ناپسند کرے جب تک گناہ کا حکم نہ کرے، اور جو گناہ کا حکم کرے اس کی اطاعت نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35960]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35960، ترقيم محمد عوامة 34396)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34397 ترقیم الشثری: -- 35961
٣٥٩٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن عمرو عن عمر بن الحكم ابن ثوبان عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله ﷺ بعث علقمة بن (مجزز) (١) على بعث انا فيهم، فلما انتهى إلى راس (عرانة) (٢) او (كان) (٣) ببعض الطريق استاذنته طائفة من الجيش فاذن لهم وامر عليهم عبد الله بن حذافة بن قيس السهمي، فكنت فيمن غزا معه، (فلما كان ببعض الطريق) (٤) اوقد القوم نارا ليصطلوا او ليصنعوا (عليها) (٥) صنيعا، وقال عبد الله وكانت فيه دعابة: اليس لي عليكم السمع والطاعة؟ قالوا: بلى، قال: فما انا آمركم بشيء إلا صنعتموه؟ قالوا: نعم، قال: فإني اعزم عليكم إلا تواثبتم في هذه النار، فقام ناس فتحجزوا، فلما ظن انهم واثبون قال: امسكوا على انفسكم، فإنما (كنت) (٦) امزح معكم، فلما قدمنا ذكروا ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"من امركم منهم بمعصية فلا تطيعوه" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (محرز).
(٢) في [س]: (غزاته).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب، جـ]: (عليه).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٦٣٩)، وابن ماجه (٢٨٦٣)، وابن حبان (٤٥٥٨)، وأبو يعلى (١٣٤٩).

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ کا امیر بنا کر بھیجا اس لشکر میں میں بھی شریک تھا جب راستہ میں پہنچے تو لشکر میں سے ایک جماعت نے ان سے اجازت لی، انہوں نے اجازت دے دی اور ان پر حضرت عبد اللہ بن حذافہ السھمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرما دیا میں بھی اسی میں ان کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل تھا۔ جب راستہ میں تھے تو لوگوں نے کھچ بنانے کیلئے آگ جلائی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ میں مزاح کرنے کی عادت تھی آپ نے فرمایا: کیا تم پر لازم نہیں ہے کہ تم میری اطاعت کرو؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں کسی کام کا حکم کروں گا تو تم اس کو بجا لاؤ گے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہارے متعلق ارادہ کیا ہے کہ تم اس آگ میں کود جاؤ سارے لوگ کھڑے ہوگئے اور کود نے کیلئے تیار ہوگئے، جب ان کو یقین ہوگیا کہ وہ اس میں کود پڑیں گے تو فرمایا: اپنے آپ کو روک لو، میں تمہارے ساتھ مزاح کر رہا تھا، پھر جب ہم لوگ واپس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تمہیں گناہ کے کام کا حکم کریں اس کی اطاعت مت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35961]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35961، ترقيم محمد عوامة 34397)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34398 ترقیم الشثری: -- 35962
٣٥٩٦٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن زبيد عن سعد بن عبيدة عن ابي عبد الرحمن السلمي عن علي قال: قال رسول الله ﷺ:"لا طاعة لبشر في معصية الله" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد ١/ ١٢٩ (١٠٦٥)، وابن حبان (٤٥٦٩)، والطيالسي (١٠٩)، وأبو يعلى (٢٧٩)، وابن حزم في المحلى ٩/ ٣٦١.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی (انسان) اطاعت جائز نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35962]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35962، ترقيم محمد عوامة 34398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34399 ترقیم الشثری: -- 35963
٣٥٩٦٣ - [حدثنا ابن نمير قال: ثنا الاعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال: لا طاعة لبشر في معصية الله] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب].
(٢) صحيح.

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35963]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35963، ترقيم محمد عوامة 34399)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34400 ترقیم الشثری: -- 35964
٣٥٩٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن إبراهيم بن عبد الاعلى عن سويد بن غفلة قال: قال لي عمر: يا ابا امية، إني لا ادري لعلي (ان) (١) لا القاك بعد عامي هذا، فاسمع واطع وإن امر عليك عبد حبشي مجدع، إن ضربك فاصبر (وإن حرمك فاصبر) (٢) وإن اراد امرا ينتقص دينك فقل: سمع وطاعة، دمي دون ديني، فلا تفارق الجماعة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) صحيح؛ أخرجه الخلال في السنة (٥٤)، ونعيم في الفتن (٣٨٩)، والبيهقي ٨/ ١٥٩، وأبو عمر المقري في السنن الواردة في الفتن (١٤٣).

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابو امیہ رضی اللہ عنہ مجھے نہیں معلوم کہ اس سال کے بعد تمہارے ساتھ ملاقات بھی ہو کہ نہ ہو، اپنے امیر کی اطاعت کرو اگر چہ ایک کان کٹا حبشی غلام تمہارا امیر ہو، اگر وہ تمہیں مارے تو صبر کرو، اور تمہیں کسی چیز سے محروم کرے تو صبر کرو، اور اگر وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرے جس سے تمہارے دین میں نقص آرہا ہو تو اس کو کہہ دو، سننا اور اطاعت کرنا ہے، میرا خون قربان ہے میرے دین پر اور جماعت سے علیحدہ مت ہونا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35964]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35964، ترقيم محمد عوامة 34400)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34401 ترقیم الشثری: -- 35965
٣٥٩٦٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن عثمان الثقفي عن ابي صادق الازدي عن ربيعة بن ناجد عن علي قال: إن قريشا (هم) (١) ائمة العرب، ابرارها ⦗٥٤٤⦘ ائمة ابرارها، وفجارها ائمة فجارها، ولكل حق فاعطوا كل ذي حق حقه ما لم يخير احدكم بين إسلامه وضرب عنقه، فإذا خير احدكم بين إسلامه وضرب عنقه فليمد عنقه، ثكلته امه فإنه لا (دنيا) (٢) له ولا آخرة بعد إسلامه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: مكررة.
(٢) في [أ، ب]: (دني).
(٣) مجهول؛ لجهالة ربيعة بن ناجد، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١٥١٣)، والخلال في السنة (٦٣)، وورد مرفوعًا، أخرجه الحاكم ٤/ ٧٥، والبزار (٧٥٩)، والطبراني في الأوسط (٣٥٢١)، والصغير (٤٢٥)، ونعيم بن حماد في الفتن (٢٠٤)، والبيهقي ٨/ ١٤٣، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٤٢.

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: قریش عرب کے سردار ہیں، ہر شخص کا ایک حق ہے، پس ہر شخص کو اس وقت تک اس کا حق ادا کرتے رہو جب تک کہ تم میں سے کسی کو اسلام اور مرنے کے درمیان اختیار نہ دے دیا جائے، اور اگر تم میں سے کسی کو اسلام اور گردن اڑانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو اپنی گردن آگے کردو، اس کی ماں اس کو گم کرے، کیوں کہ اسلام کے بعد اس کی دنیا اور آخرت نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35965، ترقيم محمد عوامة 34401)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34402 ترقیم الشثری: -- 35966
٣٥٩٦٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن عمارة قال: قال: عتريس بن عرقوب او معضد -شك الاعمش- قال: ما ابا لي اطعت رجلا في معصية الله او سجدت لهذه الشجرة.
حضرت عتریس بن عرقوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں پروا کہ میں اللہ کی نافرمانی میں کسی شخص کی اطاعت کروں یا اس درخت کو سجدہ کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35966]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35966، ترقيم محمد عوامة 34402)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34403 ترقیم الشثری: -- 35967
٣٥٩٦٧ - حدثنا علي بن مسهر قال: ثنا الاعمش عن عمارة قال: نزل معضد إلى (جنب) (١) شجرة فقال: ما ابا لي اطعت رجلا في معصية الله او سجدت لهذه الشجرة من دون الله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (جب).
حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معضد ایک درخت کے قریب اترے اور فرمایا: مجھے نہیں پروا کہ میں اللہ کی معصیت میں کسی شخص کی اطاعت کروں یا اس درخت کو اللہ کے علاوہ سجدہ کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35967]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35967، ترقيم محمد عوامة 34403)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34404 ترقیم الشثری: -- 35968
٣٥٩٦٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا شعبة عن قتادة عن ابي (مراية) (١) عن عمران بن حصين قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا طاعة في معصية الله" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مرابة).
(٢) حسن؛ أبو مراية صدوق، أخرجه أحمد (١٩٨٣٢)، وعبد الرزاق (٢٠٧٠٠)، والطيالسي (٨٥٠)، والحاكم ٣/ ٤٤٣، والبزار (٣٥٩٩)، والقضاعي (٨٧٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠١٨)، والطبراني ١٨/ (٥٧٠)، وابن عبد البر في الاستذكار (١٩٣٢٦).

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35968]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35968، ترقيم محمد عوامة 34404)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں