مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. في قتال أبي عبيد (مهران) وكيف كان (أمره)
سیدنا ابو عبید(ابن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ)کی مہران میں جنگ اور اس کی تفصیلات کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34424 ترقیم الشثری: -- 35991
٣٥٩٩١ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل بن ابي خالد (١) سمعت ابا عمرو الشيباني يقول: كان (مهران) (٢) اول السنة، وكانت القادسية (٣) ، فجاء رستم ⦗١٤⦘ فقال: إنما كان (مهران) (٤) يعمل عمل الصبيان.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب]: (مهرام).
(٣) في [هـ]: زيادة (في آخر السنة).
(٤) في [أ، ب]: (مهرام).
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ مہران سے جنگ سال کے شروع میں اور جنگ قادسیہ سال کے آخر میں ہوئی۔ رستم نے کہا تھا کہ مہران بچوں والا کام کیا کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35991، ترقيم محمد عوامة 34424)
ترقیم عوامۃ: 34425 ترقیم الشثری: -- 35992
٣٥٩٩٢ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل عن قيس قال: كان ابو عبيد بن مسعود عبر الفرات إلى (مهران) (١) فقطعوا الجسر خلفه فقتلوه هو واصحابه، قال: فاوصى إلى عمر بن الخطاب قال: فرثاه ابو محجن الثقفي فقال: امسى ابو (خير) (٢) خلاء بيوته … بما كان يغشاه الجياع الارامل (٣) امسى ابو عمرو لدى (الجسر) (٤) منهم … إلى جانب الابيات حرم ونابل (٥) فما زلت حتى كنت آخر رائح … (وقتل) (٦) حولي الصالحون الاماثل (وقد كنت في نحر خيارهم) (٧) … لدى (الفيل) (٨) يدمي نحرها والشواكل (٩)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (مهرام).
(٢) في الاكتفاء ٤/ ١٣٣، والأغاني ١٩/ ١٣: (جبر).
(٣) في [ب، جـ]: زيادة (و).
(٤) في [أ، ب]: (الجيش).
(٥) في الاكتفاء: (حزم ونابل)، وفي الأغاني: (جود ونائل).
(٦) في [أ، ب]: (فقتل).
(٧) في الاكتفاء:
(وأمسى على سيفي نزيف ومهرتي)
وفي الأغاني:
(وحتى رأيت مهرتي مزوئرة)
وهي كذلك في معجم البلدان ١/ ٢٤٨.
(٨) في [أ، ب، هـ]: (القتل).
(٩) صحيح.
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ابو عبید بن مسعود نے مہران کی طرف جانے کے لئے دریائے فرات کو عبور کیا، دشمنوں نے ان کے گذرنے کے بعد پل کو توڑ دیا اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ابو محجن کو ان کی یاد میں اشعار کہنے کا حکم دیا اور انہوں نے اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے:”ابوجبر کا گھر ویران ہوگیا اور وہاں بھوکی بیوائیں ہیں۔ پل کے پاس بنو عمرو کناروں پر بےسروسامان پڑے ہیں۔ میں زندہ بچ جانے والوں میں سے آخری ہوں اور میرے پاس نیک لوگوں کو شہید کیا گیا۔ میرے گھوڑے کا خون بہا اور ایسابہا کہ ہر خاص وعام راستے پر اس کا خون تھا“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35992، ترقيم محمد عوامة 34425)
ترقیم عوامۃ: 34426 ترقیم الشثری: -- 35993
٣٥٩٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل عن قيس قال: عبر ابو عبيد بن مسعود يوم مهران في اناس فقطع بهم (الجسر) (١) ، فاصيبوا، قال: قال قيس: فلما كان يوم مهران قال اناس فيهم خالد بن عرفطة لجرير: يا جرير، لا والله لا (نريم) (٢) عن عرصتنا هذه، فقال: اعبريا جرير بنا إليهم، فقلت: اتريدون ان تفعلوا بنا ما فعلوا بابي عبيد إنا قوم لسنا (بسباح) (٣) ان نبرح او ان نريم العرصة حتى يحكم الله بيننا وبينهم، فعبره المشركون فاصيب يومئذ مهران (وهو) (٤) (عند) (٥) النخيلة (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الجيش).
(٢) في [أ، ب]: (نرلم).
(٣) أي: لا نعرف السباحة، وفي [أ، ب]: (بساح)، وفي [هـ]: (لساح).
(٤) في [هـ]: (هم).
(٥) في [أ، ب]: (عبد).
(٦) صحيح.
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبید بن مسعود مہران کی جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ ان کے گزرنے کے بعد پل کو کاٹ دیا گیا اور وہ شہید کردیئے گئے۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ مہران کی جنگ میں کچھ لوگوں نے جن میں حضرت خالد بن عرفطہ بھی شامل تھے۔ حضرت جریر سے کہا کہ اے جریر! ہم تو اپنی جگہ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے جریر! ہمیں یہ دریا عبور کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ کریں جو انہوں نے ابو عبید کے ساتھ کیا ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو تیراکی نہیں جانتی۔ ہم اپنا علاقہ اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ فرمادے۔ پس مشرکین نے اسے عبور کیا اور اس دن مہران مارا گیا اس وقت وہ نخیلہ نامی مقام میں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35993، ترقيم محمد عوامة 34426)
ترقیم عوامۃ: 34427 ترقیم الشثری: -- 35994
٣٥٩٩٤ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل عن قيس قال: قال لي جرير: انطلق بنا إلى مهران، فانطلقت معه حيث (اقتتلوا) (١) ، فقال لي: لقد رايتني فيما هاهنا في مثل حريق النار، يطعنوني من كل جانب (بنيازكهم) (٢) ، فلما رايت الهلكة جعلت اقول: يافرسي الا يا جرير، فسمعوا صوتي فجاءت قيس، ما يردهم (شيء) (٣) حتى (تخلصوني) (٤) ، قلت: (فلقد) (٥) عبرت شهرا ما ارفع لي ⦗١٦⦘ (جنبا) (٦) من اثر (النيازك) (٧) قال: قال قيس: لقد رايتنا نخوض دجلة وإن ابواب المدائن لمغلقة (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أقبلوا).
(٢) في [أ، ب]: (بنازلهم).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (مني).
(٤) في [أ، هـ]: (يخلصوني).
(٥) في [هـ]: (قد).
(٦) في [أ، هـ]: (حبًا).
(٧) في [أ، ب]: (الينازلة)، وفي [جـ]: (التبازكه).
(٨) صحيح.
! اس اثر کا مضمون واضح نہیں ہوا۔ محققِ مصنف ابن ابی شیبہ محمد عوامہ اس حدیث کے حاشیہ میں لکھتے ہیں: وفی الخبر کلمات لم اتبینھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35994، ترقيم محمد عوامة 34427)
ترقیم عوامۃ: 34428 ترقیم الشثری: -- 35995
٣٥٩٩٥ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: ثنا التيمي عن ابي عثمان قال: لما قتل ابو عبيد وهزم اصحابه قال عمر: انا فئتكم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبید شہید کردیئے گئے اور ان کے ساتھی شکست کھا گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں تمہاری طرف سے بدلہ لوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35995، ترقيم محمد عوامة 34428)
ترقیم عوامۃ: 34429 ترقیم الشثری: -- 35996
٣٥٩٩٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: لما بلغ عمر قتل ابي عبيد الثقفي قال: إن كنت له فئة لو انحاز إلي (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عمر.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابو عبید ثقفی کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں ان کا بدلہ لوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35996]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35996، ترقيم محمد عوامة 34429)
ترقیم عوامۃ: 34430 ترقیم الشثری: -- 35997
٣٥٩٩٧ - حدثنا محبوب القواريري عن حنش بن الحارث النخعي قال: ثنا اشياخ النخع ان جريرا لما قتل مهران نصب او رفع راسه على رمح (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة الأشياخ.
حضرت حنش بن حارث نخعی قبیلہ کے بزرگوں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت جریر نے جب مہران کو قتل کیا تو اس کے سر کو ایک نیزے پر نصب کردیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35997]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35997، ترقيم محمد عوامة 34430)
ترقیم عوامۃ: 34431 ترقیم الشثری: -- 35998
٣٥٩٩٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم انه مر برجل يوم ابي عبيد وقد قطعت يداه ورجلاه وهو يقول: ﴿مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقا﴾ [النساء: ٦٩] ، فقال (له) (١) بعض من مر عليه: من انت؟ قال: امرؤ من الانصار (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع، سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف لم يدرك الوقعة.
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ حضرت ابو عبید کی شہادت کے دن ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے تھے۔ وہ قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے: { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } ان کے پاس سے گزرنے والے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں ایک انصاری ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 35998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35998، ترقيم محمد عوامة 34431)