🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما ذكر في سعة رحمة الله (تعالى)
اﷲ کی رحمت کی وسعت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35349 ترقیم الشثری: -- 36923
٣٦٩٢٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن جامع بن شداد عن مغيث بن سمي قال: كان رجل فيمن كان قبلكم يعمل بالمعاصي فادكر يوما فقال: اللهم غفرانك فغفر له.
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جو گناہ کرتا تھا پھر ایک دن اس نے یاد کیا اور کہا اے اللہ! مجھے معاف فرما دے تو معاف فرمانے والا ہے پس اس کو معاف فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36923]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36923، ترقيم محمد عوامة 35349)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35350 ترقیم الشثری: -- 36924
٣٦٩٢٤ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الاعمش عن عبد الله بن عبد الله عن سعد مولى طلحة عن ابن عمر قال: بينا رجل يقال له: الكفل يعمل بالمعاصي، فاعجبته امراة فاعطاها (خمسين) (١) دينارا، فلما قعد منها مقعد (الرجل) (٢) ارتعدت، فقال لها: مالك؛ قالت: هذا عمل ما عملته قط، قال: انت تجزعين من هذه الخطيئة، وانا اعمله مذ كذا وكذا، والله لا اعصي الله ابدا، قال: فمات من ليلته فلما اصبح بنو إسرائيل (قال) (٣) : من يصلي على فلان؟ قال ابن عمر: فوجد مكتوبا على بابه قد غفر الله للكفل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ستين).
(٢) في [هـ]: (الرجال).
(٣) في [أ، ب]: (وقالوا).
(٤) مجهول؛ لجهالة سعد مولى طلحة، وورد مرفوعًا، أخرجه أحمد (٤٧٤٧)، والترمذي (٢٤٩٦)، والحاكم ٤/ ٢٥٤، وأبو يعلى (٥٧٢٦)، وابن عساكر ١٧/ ٣٨٠، والمزي ١٠/ ٣١٩، وابن فضيل في الدعاء (١٤٦)، والبيهقي في الشعب (٧١٠٨)، وابن الجوزي في الهوى (٢٤٧)، وابن حبان (٣٨٧).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا گنہگار جس کا نام الکفل تھا۔ اس کو ایک خاتون اچھی لگی تو اس نے اس کو پچاس دینار دئیے جب وہ اس سے غلط کام کا ارادہ کرنے لگا تو وہ خاتون کانپنے لگی الکفل نے پوچھا تجھے کیا ہوا ہے؟ خاتون نے کہا کہ یہ وہ عمل ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں کیا کفل نے کہا کہ تو اس گناہ کو کرنے سے عاجز ہے جب کہ میں اتنی اتنی مدت سے یہ کر رہا ہوں! خدا کی قسم میں آج کے بعد کبھی گناہ نہ کروں گا پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا جب صبح ہوئی تو بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے کہ فلاں کا جنازہ کون پڑھے گا؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا پایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کفل کی مغفرت فرما دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36924]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36924، ترقيم محمد عوامة 35350)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35351 ترقیم الشثری: -- 36925
٣٦٩٢٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ابي سفيان عن مغيث بن سمي قال: كان رجل يتعبد في (صومعته) (١) نحوا من ستين سنة، قال: فمطر الناس فاطلع من صومعته، فراى (الغدر) (٢) والخضرة فقال: لو نزلت فمشيت ونظرت، ففعل فبينما هو يمشي إذ (لقيته) (٣) امراة فكلمها، فلم (تزل) (٤) تكلمه حتى واقعها، ⦗٢١٢⦘ قال: فوضع كيسا كان عليه، فيه رغيف، ونزل الماء يغتسل، فحضر اجله، فمر سائل فاوما إلى الرغيف فاخذه، ومات الرجل، فوزن عمله (لستين) (١) سنة فرجحت (خطيئته) (٢) بعمله، ثم وضع الرغيف فرجح، فغفر له.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (صومعه).
(٢) في [أ]: (الغرد).
(٣) في [هـ]: (لقيه).
(٤) في [هـ]: (يزل).

حضرت مغیث سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جو ساٹھ سال سے اپنے گر جا گھر میں عبادت کر رہا تھا ایک دن زور دار بارش ہوئی اس نے اپنے گر جا گھر سے جھانکا تو اس نے پانی تالاب اور سبزہ اور ترکاری وغیرہ دیکھیں اس نے کہا اگر میں نیچے اترا تو میں چلوں گا اور دیکھوں گا پھر اس نے اس طرح کیا اس دوران اس کی ملاقات ایک خاتون سے ہوگئی اس نے اس کے ساتھ گفتگو شروع کردی وہ خاتون اس کے ساتھ مسلسل گفتگو کر رہی تھی یہاں تک کہ وہ غلط کام کر بیٹھا پھر اس نے اپنا تھیلا رکھا جس میں روٹی تھی، بارش آئی جس سے اس نے غسل کیا پھر اس کا مقررہ وقت آن پہنچا وہاں سے ایک سائل گزرا جس کو اس کی روٹی کی سخت ضرورت پڑی تو اس نے وہاں سے روٹی اٹھالی، اور یہ شخص فوت ہوگیا اس کے ساٹھ سال کے اعمال کا وزن کیا گیا تو اس کے گناہوں والا پکڑا جھک گیا پھر وہ روٹی اس میں رکھی گئی تو وہ وزنی ہوگیا تو اس کی مغفرت فرما دی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36925]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36925، ترقيم محمد عوامة 35351)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35352 ترقیم الشثری: -- 36926
٣٦٩٢٦ - حدثنا عمر بن سعد عن سفيان عن (٣) سلمة عن ابي الزعراء عن عبد الله ان راهبا عبد الله في (صومعته) (٤) ستين سنة، فجاءت امراة فنزلت إلى جنبه فنزل إليها فواقعها ست ليال، ثم سقط في يده فهرب فاتى مسجدا فاوى إليه فمكث ثلاثا لا يطعم شيئا، فاتى برغيف فكسر نصفه فاعطى نصفه (رجلا) (٥) عن يمينه، واعطى آخر عن يساره، فبعث الله إليه ملك الموت فقبض روحه، فوضع عمل الستين سنة في كفة ووضع السيئة في كفة، فرجحت السيئة، ثم جيء بالرغيف فرجح بالسيئة (٦) .
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ نامی ایک راہب تھا جو ساٹھ سال تک اپنے گرجے میں عبادت کرتا رہا، ایک خاتون اس کے پڑوس میں آئی اس راہب نے اس کے ساتھ چھ راتیں بدکاری کی پھر وہ بھاگ کر مسجد چلا گیا اور وہاں پر ٹھکانہ پکڑ لیا تین دن گزر گئے اس نے کچھ نہ کھایا اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی اس نے اس کو دو حصے کر کے آدھی روٹی اپنے دائیں شخص کو دے دی اور آدھی بائیں شخص کو دے دی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا جس نے اس کی روح قبض کرلی اس کا ساٹھ سالوں کا عمل ایک ترازو میں رکھا گیا اور اس کے گناہوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا تو گناہوں والا پکڑا جھک گیا پھر وہ روٹی رکھی گئی تو وہ پلڑا گناہوں والے پلڑے سے بھاری ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36926]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36926، ترقيم محمد عوامة 35352)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35353 ترقیم الشثری: -- 36927
٣٦٩٢٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ابيه قال: حدثنا ابو عثمان عن ابي بردة قال: لما حضر ابا موسى الوفاة قال: يا بني اذكروا صاحب الرغيف قال: كان رجل يتعبد في (صومعة) ( (١) عليه اثنا عشر مسكينا، (فادركه) (٢) الإعياء فرمى بنفسه بين رجلين منهم. وكان ثم (راهب) (٣) يبعث إليهم كل ليلة بارغفة، فيعطي كل إنسان رغيفا، فجاء صاحب الرغيف فاعطى كل إنسان رغيفا، (ومر) (٤) على ذلك الذي خرج تائبا، فظن انه مسكين فاعطاه رغيفا، فقال (المتروك) (٥) لصاحب الرغيف: مالك، لم تعطني رغيفي؟ ما كان (لك) (٦) (عنه) (٧) غنى، قال: تراني امسكه عنك، سل: هل اعطيت احدا منكم رغيفين؟ قالوا: لا، قال: إني امسك عنك، والله لا اعطيك شيئا الليلة، قال: فعمد التائب إلى الرغيف الذي دفعه إليه، فدفعه إلى الرجل الذي ترك، فاصبح التائب ميتا، قال: فوزنت السبعون سنة بالسبع الليالي فلم (تزن) (٨) ، قال: فوزن الرغيف بالسبع الليالي، قال: فرجح الرغيف، فقال ابو موسى: يا بني اذكروا صاحب الرغيف (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ٧) أراه قال: سبعين سنة، لا ينزل إلا في يوم أحد، قال: فنزل في يوم أحد، قال: فشبه أو شب الشيطان في عينه امرأة، فكان معها سبعة أيام (و) (٨) سبع ليال، قال: ثم كشف عن الرجل غطاؤه فخرج تائبا، فكان كلما خطا
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ کا وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا اے میرے بیٹو! روٹی والے شخص کو یاد کرو ایک شخص تھا جو اپنے گرجے میں ستر سال سے عبادت کرتا رہا پھر وہ ایک دن اترا تو شیطان اس کی آنکھوں میں عورت کے مشابہ بن کر آیا وہ اس کے ساتھ سات دن اور سات راتیں بدکاری کرتا رہا پھر اس پر اس کی غلطی ظاہر ہوئی تو وہ توبہ کرنے کیلئے نکل پڑا جب بھی قدم اٹھاتا تو نماز پڑھتا اور سجدہ کرتا اور رات کو ایک دکان میں ٹھکا نہ پکڑا جس میں بارہ مسکین تھے وہ بہت زیادہ تھک گیا تھا اس نے اپنے آپ کو دو شخصوں کے درمیان ڈال دیا۔ وہاں ایک راہب تھا جو ہر روز ان کی طرف ایک روٹی بھیجتا تھا اور ہر شخص کو ایک روٹی دیتا تھا پھر وہ روٹی والا آیا اور اس نے ہر شخص کو ایک روٹی دی اور اس شخص کے پاس سے بھی گزرا جو توبہ کرنے کیلئے گرجا سے نکلا تھا اس نے خیال کیا کہ وہ بھی مسکین ہے اس کو بھی روٹی دے دی ان میں سے ایک شخص نے جس کو چھوڑ دیا گیا تھا روٹی والے سے کہا کیا ہوا کہ تم نے میری روٹی مجھے نہ دی؟ اس نے کہا کہ پوچھو کیا میں نے تم میں سے کسی کو دو روٹیاں دی ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں اس نے کہا کہ میں نے تجھ سے روک لیا ہے خدا کی قسم آج رات تجھے کچھ نہ دوں گا، توبہ کرنے والے شخص نے روٹی کی طرف ارادہ کیا جو اس کو دی گئی تھی وہ اس نے اس کو دے دی جس کو چھوڑ دیا گیا تھا، صبح کو وہ توبہ کرنے والا شخص مردہ پایا گیا، اس کے ستر سالوں کی نیکیوں کو ان سات راتوں کے گناہ کے ساتھ تولا گیا تو وہ نہ وزن ہوئیں، پھر اس روٹی کو ان سات راتوں کے ساتھ وزن کیا گیا تو روٹی والا پلڑا جھک گیا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اس روٹی والے کو یاد کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36927]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36927، ترقيم محمد عوامة 35353)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35354 ترقیم الشثری: -- 36928
٣٦٩٢٨ - حدثنا ابو معاوية ويعلى عن الاعمش عن ابي سعيد عن ابي (الكنود) (١) قال: مر عبد الله على (قاص) (٢) وهو يذكر النار فقال: يا مذكر لا ⦗٢١٤⦘ تقنط الناس: ﴿ياعبادي الذين اسرفوا على انفسهم﴾ [الزمر: ٥٣] (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (للكنود).
(٢) في [أ، ب]: (قاض).
(٣) مجهول؛ أبو سعيد هو أبو سعد الأزدي مجهول.

حضرت عبد اللہ ایک واعظ کے پاس سے گزرے جو جہنم کو یاد کر رہا تھا حضرت عبد اللہ نے فرمایا اے یاد کرنے والے لوگوں کو ناامید مت کر اللہ کا ارشاد ہے { یَا عِبَادِی الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللہِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36928]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36928، ترقيم محمد عوامة 35354)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35355 ترقیم الشثری: -- 36929
٣٦٩٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن موسى بن عقبة عن سالم عن ابن عمر عن كعب قال: لما رات الملائكة بني آدم وما يذنبون؟ قالوا: يا رب يذنبون؟ قال: لو كنتم مثلهم فعلتم كما يفعلون، فاختاروا منكم ملكين، قال: فاختاروا هاروت وماروت، فقال لهما ﵎: إن بيني وبين الناس رسولا، فليس بيني و (بينكما) (١) احد، لا تشركا بي شيئا و (لا تسرقا) (٢) ولا تزنيا، قال عبد الله: قال كعب: فما استكملا ذلك اليوم حتى وقعا فيما حرم عليهما (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (بينكم).
(٢) في [أ، ب]: (تسرقان).
(٣) من الإسرائيليات، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ٥٣، وابن جرير ١/ ٤٥٦، وابن أبي حاتم (١٠٠٦)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٢٤٨، والبيهقي في الشعب (٦٦٩٥)، وورد موقوفًا على ابن عمر، أخرجه الحاكم ٤/ ٦٠٧، وورد بإسناد معلول عن ابن عمر مرفوعًا، أخرجه أحمد (٦١٧٨)، وابن حبان (٦١٨٦)، والبيهقي ١٠/ ٤، والخطيب ٨/ ٢٤، وعبد بن حميد (٧٨٧)، والبزار (٢٩٣٨/ كشف)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٦٦٢).

حضرت کعب سے مروی ہے کہ جب ملائکہ نے انسانوں کے گناہوں کو دیکھا تو عرض کیا اے اللہ! وہ گناہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم ان کی طرح ہوتے تو وہی کرتے جو وہ کر رہے ہیں پس تم اپنے درمیان میں سے دو فرشتوں کو منتخب کرلو، انہوں نے ہاروت اور ماروت کو منتخب کرلیا اللہ تعالیٰ نے ان دو نوں فرشتوں سے فرمایا: تم میرے اور لوگوں کے درمیان پیغامبر ہو، میرے اور تمہارے درمیان کوئی نہیں ہے میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا، چوری مت کرنا، زنا مت کرنا حضرت عبد اللہ نے فرمایا: حضرت کعب نے ارشاد فرمایا پس انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا یہاں تک کہ جو ان پر حرام کیا گیا تھا اس میں پڑگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36929]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36929، ترقيم محمد عوامة 35355)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35356 ترقیم الشثری: -- 36930
٣٦٩٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابي سنان عن يعقوب بن (سفيان) (١) (اليشكري) (٢) عن عبد الله بن مسعود قال: اتاه رجل قد الم بذنب فساله عنه فلهى عنه، [واقبل على القوم (يحدثهم) (٣) فحانت (إليه) (٤) نظرة من عبد الله فإذا عين ⦗٢١٥⦘ الرجل تهراق، فقال: هذا (اوان همك) (٥) ما جئت تسالني عنه] (٦) ، إن للجنة سبعة ابواب كلها يفتح ويغلق غير باب التوبة، موكل به ملك فاعمل ولا تياس (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وصوابه: (غضبان)، كما في الدعاء لابن الفضيل (١٣٩)، وزوائد الزهد للمروزي (١٠٤٢)، والتاريخ للبخاري ٨/ ٤٠٠، والثقات ٥/ ٥٥٤.
(٢) في [أ، ب]: (السكري).
(٣) في [ط، هـ]: (بحديثهم).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٥) في [هـ]: (وإنك أهمني)، في [أ]: (أو إنك).
(٦) سقط في [ب]: ما بين المعكوفين.
(٧) مجهول؛ لجهالة يعقوب.

حضرت ابن مسعود کے پاس ایک شخص اپنے گناہوں کی شکایت لے کر حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا حضرت ابن مسعود نے اس کی طرف توجہ نہ فرمائی اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرمانے لگے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ رو رہا تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ جس مقصد کے لیے تو آیا تھا اب اس کا وقت آگیا ہے۔ جنت کے سات دروازے ہیں جن میں ہر ایک دروازہ بند ہوتا اور کھلتا ہے، سوائے توبہ کے دروازے کے۔ اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔ تو عمل کرتا رہ اور مایوس نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36930، ترقيم محمد عوامة 35356)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35357 ترقیم الشثری: -- 36931
٣٦٩٣١ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن علي بن مسعدة قال: حدثنا قتادة عن انس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"كل ابن آدم خطاء وخير الخطائين التوابون" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) ضعيف؛ لحمال علي بن مسعدة، أخرجه أحمد (١٣٠٤٩)، والترمذي (٢٤٩٩)، وابن ماجه (٤٢٥١)، وعبد بن حميد (١١٩٧)، وأبو يعلى (٢٩٢٢)، والحاكم ٤/ ٢٤٤، والدارمي (٢٧٢٧)، وابن عدي ٥/ ١٨٥٠، والبيهقي في الشعب (٧١٢٧)، وابن حبان في المجروحين ٢/ ١١١، والمزي ٢١/ ١٣١.

حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب انسان گنہگار ہیں اور بہترین گنہگار توبہ کرنے والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36931، ترقيم محمد عوامة 35357)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35358 ترقیم الشثری: -- 36932
٣٦٩٣٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن ابي قلابة قال: إن الله تعالى لما لعن إبليس ساله النظرة، فانظره إلى يوم الدين، قال: وعزتك لا اخرج من جوف -او قلب- ابن آدم ما دام فيه الروح، قال: وعزتي لا احجب عنه التوبة ما دام فيه الروح.
حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے ابلیس کو مردود فرمایا اس نے اللہ سے مہلت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کو مہلت عطا فرما دی، شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم جب تک بنی آدم کے جسم میں روح ہے میں ان کو جہنم کی طرف نکالتا رہوں گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت و جلال کی قسم میں توبہ کے ذریعہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈالتا رہوں گا جب تک ان کے جسموں میں روح ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36932]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36932، ترقيم محمد عوامة 35358)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں