مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في سعة رحمة الله (تعالى)
اﷲ کی رحمت کی وسعت کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35359 ترقیم الشثری: -- 36933
٣٦٩٣٣ - حدثنا عبد الله بن نمير عن مالك بن مغول قال: كان في زبور في داود مكتوبا: إني انا الله لا إله إلا انا ملك الملوك، قلوب الملوك بيدي، فايما قوم كانوا على طاعة جعلت الملوك عليهم رحمة، وايما قوم كانوا على معصية جعلت الملوك عليهم نقمة، (١) لا تشغلوا انفسكم (بسب) (٢) الملوك ولا تتوبوا إليهم، توبوا إلي اعطف قلوبهم عليكم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (و).
(٢) في [هـ]: (تسبب).
حضرت مالک سے مروی ہے کہ زبور میں لکھا تھا کہ: میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہوں تمام بادشاہوں کا دل میرے قبضہ میں ہے پس جو قوم نیک کام کرتی ہے میں ان پر مہربان بادشاہ مقرر کرتا ہوں اور جو قوم میری نافرمانی کرتی ہے میں بادشاہوں کو ان پر آزمائش بنا دیتا ہوں اپنے آپ کو بادشاہوں کو برا بھلا کہنے میں مشغول مت رکھو، ان کی طرف رجوع مت کرو میری طرف رجوع اور توبہ کرو میں ان کو تم پر مہربان کر دوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36933]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36933، ترقيم محمد عوامة 35359)
ترقیم عوامۃ: 35360 ترقیم الشثری: -- 36934
٣٦٩٣٤ - حدثنا عبد الله بن نمير وابو اسامة عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس عن عبد الله قال: بينما رجل ممن كان قبلكم كان في قوم كفار، وكان فيما بينهم قوم صالحون، قال: (فطالما) (١) كنت في كفري (هذا) (٢) (لآتين) (٣) هذه القرية الصالحة، فاكونن رجلا من اهلها، فانطلق فادركه الموت فاحتج فيه الملك والشيطان، يقول: هذا انا اولى به، ويقول: هذا انا اولى به، إذ (قيض) (٤) الله (لهما) (٥) بعض جنوده فقال لهما: قيسوا ما بين القريتين، فايتهما كان اقرب إليها فهو من اهلها، فقاسوا ما بينهما فوجدوه اقرب إلى القرية الصالحة فكان منهم (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فطال ما).
(٢) سقط من: [هـ]، وفي [أ، ب]: (هذه).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [هـ]: (قبض).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) صحيح؛ أخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (٣٤٦٦)، والمروزي في زوائد الزهد (١٠٥٧)، وورد في تفسير عبد الرزاق من كلام قيس ٣/ ٩٩.
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ تم سے پہلی امت میں ایک شخص کفار کی قوم میں تھا، اور ان میں کچھ نیک لوگ بھی تھے اس شخص نے کہا: میں ضرور اس نیک بستی میں آؤں گا تاکہ میں بھی نیکوں کاروں میں سے ہوجاؤں وہ اس بستی میں جانے کیلئے چلا تو اس کو موت آگئی، اس کے متعلق فرشتہ اور شیطان کا جھگڑا ہوگیا ایک کہنے لگا میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور دوسرا کہنے لگا کہ میں زیادہ مستحق ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اپنے بعض لشکر کے ذریعہ فیصلہ فرمایا اس نے ان سے کہا کہ دونوں بستیوں کا فاصلہ ماپ لو جس بستی کے قریب ہوگا اسی میں سے شمار ہوگا انہوں نے اس کا درمیانی فاصلہ ناپا تو اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب پایا پس وہ انہی میں سے ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36934]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36934، ترقيم محمد عوامة 35360)
ترقیم عوامۃ: 35361 ترقیم الشثری: -- 36935
٣٦٩٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن ابي الصديق (الناجي) (١) عن ابي سعيد الخدري قال: لا اخبركم إلا ما سمعت من في رسول الله ﷺ سمعته اذناي ووعاه قلبي:"ان عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة، فسال عن اعلم اهل الارض فدل على رجل، فاتاه فقال: إني قتلت تسعة وتسعين نفسا فهل لي من توبة؟ قال: بعدقتل تسعة وتسعين نفسا؟ قال: فانتضى سيفه فقتله، فاكمل به مائة، ثم عرضت له التوبة فسال عن اعلم اهل الارض، فدل على رجل فاتاه فقال: إني قتلت مائة نفس فهل لي من توبة؟ ⦗٢١٧⦘ قال: ومن يحول بينك وبين التوبة، اخرج من القرية الخبيثة التي انت فيها إلى القرية الصالحة قرية كذا وكذا، فاعبد ربك فيها، قال: فخرج يريد القرية الصالحة فعرض له اجله في الطريق، قال: فاختصم فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، فقال إبليس: انا اولى به (إنه) (٢) لم يعصني ساعة قط، فقالت ملائكة الرحمة: إنه خرج تائبا" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الناحي).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٧٠)، ومسلم (٢٧٦٦).
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: ایک شخص نے ایک کم سو بندوں کو قتل کیا پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے عالم کے متعلق دریافت کیا تو اس کو ایک عالم کے بارے میں خبر دی گئی تو وہ اس عالم کے پاس آیا اور کہا میں نے ننانوے قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں؟ عالم نے کہا ننانوے قتلوں کے بعد بھی توبہ؟ اس شخص نے اپنی تلوار نکال کر اس کو بھی قتل کر کے سو کی تعداد مکمل کردی۔ پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے کسی عالم کے متعلق دریافت کیا اس کو ایک عالم کا بتایا گیا تو وہ اس عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے سو قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں؟ عالم نے اس سے کہا کہ اس بستی سے نکل جا جس میں تو ہے اور کسی نیکو کاروں کی بستی میں چلا جا، فلاں بستی میں چلا جا اور اپنے رب کی عبادت کر وہاں جا کر وہ شخص اس بستی میں جانے کیلئے نکلا، راستے میں اس کی موت کا وقت آگیا اس کے متعلق رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کا مخاصمہ ہوگیا، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے کبھی ایک لمحہ بھی میری نافرمانی نہیں کی، رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ توبہ کے ارادہ سے نکلا تھا، اللہ نے ایک فرشتہ اور بھیجا وہ اپنا جھگڑا اس کے پاس لے گئے، اس فرشتہ نے کہا کہ دونوں بستیوں کو دیکھ لو کونسی بستی اس کے زیادہ قریب ہے جو قریب ہو اس کے ساتھ اس کو ملا دو، جب اس شخص کو اپنی موت کا علم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹا اس نیکو کاروں کی بستی کی طرف، اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب کردیا اور اس نے بروں کی بستی کو دور کردیا پس اس کو نیک لوگوں کی بستی کے ساتھ ملا دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36935]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36935، ترقيم محمد عوامة 35361)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36936
٣٦٩٣٦ - قال: همام فحدثني حميد الطويل عن بكر بن عبد الله المزني عن ابي رافع قال: (فبعث) (١) الله إليه ملكا فاختصموا إليه (٢) . - ثم رجع إلى حديث قتادة فقال: انظروا اي القريتين كانت اقرب إليه فالحقوه بها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بعث).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١١١٥٤)، وابن ماجه (٢٦٢٢)، واللالكائي (١٩٦٥)، وابن عساكر في التوبة (١)، وابن قدامة في التوابين (٣٧).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36936، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 36937
٣٦٩٣٧ - قال: فحدثني الحسن قال: (فلما) (١) عرف الموت (احتفز) (٢) بنفسه، فقرب الله منه القرية الصالحة وباعد منه القرية الخبيثة، فالحقه باهل القرية الصالحة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (لما).
(٢) في [أ، ب]: (أو حسر)، وفي [جـ]: (حشر)، وفي [هـ]: (احتقر).
(٣) مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36937، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 35362 ترقیم الشثری: -- 36938
٣٦٩٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن صفوان بن محرز قال: كنت آخذا بيد عبد الله بن عمر فاتاه رجل فقال: كيف ⦗٢١٨⦘ سمعت رسول الله ﷺ يقول في النجوى؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إن الله يدني المؤمن يوم القيامة حتى يضع عليه كنفه، يستره من الناس، فيقول: اي عبدي تعرف ذنب كذا وكذا؟ فيقول: (اي، نعم) (١) رب، حتى إذا قرره بذنوبه وراى في نفسه انه قد هلك قال: فإني قد سترتها عليك في الدنيا، وقد غفرتها لك اليوم، ثم يؤتى بكتاب حسناته، واما الكفار والمنافقون فيقول الاشهاد: ﴿هؤلاء الذين كذبوا على ربهم الا لعنة الله على الظالمين﴾ [هود: ١٨] " (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (نعم، أي).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٤١)، ومسلم (٢٧٦٨).
حضرت صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ان کے پاس ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم 5 سے النجویٰ کے متعلق کیا سنا ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم 5 سے سنا ہے کہ: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو قریب کریں گے یہاں تک کہ اس پر اپنا دست رحمت رکھ دیں گے اس کو لوگوں سے چھپا دیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے بندے! تو فلاں فلاں گناہوں کو جانتا ہے؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے رب پھر اللہ تعالیٰ وہی فرمائیں گے اور بندہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ جب وہ گناہوں کا اقرار کرے گا اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ پر دنیا میں ساری چادر ڈال رکھی اور آج ان کو معاف کرچکا ہوں پھر اس کو حسنات کا اعمال نامہ دیا جائے گا بہر حال کفار اور منافقین پس گواہ اس کے متعلق کہیں گے کہ { ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ، أَلاَ لَعَنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِینَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36938]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36938، ترقيم محمد عوامة 35362)
ترقیم عوامۃ: 35363 ترقیم الشثری: -- 36939
٣٦٩٣٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن مسعر عن عون قال: (يخبره) (١) بالعفو قبل الذنب: ﴿عفا الله عنك لم اذنت لهم﴾ [التوبة: ٤٣] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (نخبره).
حضرت عون فرماتے ہیں اس کو خبر دی جائے گی کہ گناہ سے پہلے ہی مغفرت کردی گئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36939]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36939، ترقيم محمد عوامة 35363)
ترقیم عوامۃ: 35364 ترقیم الشثری: -- 36940
٣٦٩٤٠ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن ابي رافع عن ابي هريرة عن النبي ﷺ قال:"خرج رجل من قرية يزور اخا له في قرية اخرى، قال: (فارسل) (١) الله له ملكا فجلس على طريقه (فقال) (٢) : اين تريد؟ فقال: اريد اخا لي ازوره في الله في هذه القرية، فقال: هل له عليك من نعمة تربها؟ قال: لا، ولكني احببته في الله، قال: (فإني) (٣) رسول ربك إليك، إنه قد احبك فيما احببته فيه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فأرصد).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [ط، س، هـ]: (إني).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٥٦٧)، وأحمد (٧٩١٩)، والبخاري في الأدب المفرد (٣٥٠).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: ایک شخص اپنی بستی سے دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کی نیت سے نکلا اللہ نے اس کیلئے ایک فرشتہ راستہ میں بٹھا دیا، فرشتہ نے اس سے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ اس شخص نے کہا کہ میرا ایک بھائی ہے اللہ کیلئے اس سے ملنے کیلئے اس بستی میں جا رہا ہوں فرشتہ نے کہا کہ کیا اس کے پاس تیری کوئی نعمت ہے جس کی وہ حفاظت کر رہا ہو؟ اس شخص نے عرض کیا کہ نہیں بلکہ مجھے اس سے اللہ تعالیٰ کیلئے محبت ہے، فرشتہ نے کہا تو سن میں اللہ کا فرشتہ اور قاصد ہوں تیرے پاس آیا ہوں بیشک اللہ پاک آپ سے محبت فرماتے ہیں اس محبت کی وجہ سے جو تم اپنے بھائی سے اس کیلئے کرتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36940]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36940، ترقيم محمد عوامة 35364)
ترقیم عوامۃ: 35365 ترقیم الشثری: -- 36941
٣٦٩٤١ - حدثنا بن مهدي عن سفيان عن حبيب عن عروة بن (عاصم) (١) قال: إن الرجل لتعرض عليه ذنوبه فيمر بالذنب فيقول: قد كنت منك مشفقا، فيغفر الله له.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وصوابه عروة بن عامر، وانظر: الزهد لهناد (٩١٤)، والزهد لابن المبارك (١٦١)، والمجالسة (٢٤٦٤).
حضرت عروہ بن عامر سے مروی ہے کہ ایک شخص پر اس کے گناہوں کو پیش کیا جائے گا وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ گزرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں تجھ پر بہت مہربان تھا پھر اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36941]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36941، ترقيم محمد عوامة 35365)
ترقیم عوامۃ: 35366 ترقیم الشثری: -- 36942
٣٦٩٤٢ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار قال: إن للمقنطين (حبسا) (١) يطا الناس (٢) اعناقهم يوم القيامة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سيأتي في ١٣/ ٥٦٠ رقم [٣٨١٦٣] بلفظ: (جسر).
(٢) في [هـ]: زيادة (على).
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ناامید لوگوں کو روک لیا جائے گا، لوگ ان کی گردنوں کو روندتے ہوئے گزریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36942]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36942، ترقيم محمد عوامة 35366)