مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. (ما ذكر عن داود ﵇
سیدنا داؤد علیہ السلام کا تذکرہ
ترقیم عوامۃ: 35397 ترقیم الشثری: -- 36973
٣٦٩٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا مبارك عن الحسن قال: كان داود النبي ﷺ (يقول) (١) : اللهم لا مرض (يضنيني) (٢) ولا صحة تنسيني (ولكن) (٣) بين ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (يصيبني).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (وذلك).
حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت داؤد نبی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! نہ تو مجھے ایسا مرض لاحق کیجئے جو مجھے بالکل بےکار کر دے، اور نہ ہی ایسی صحت عطا کیجئے جو مجھے (حق سے) غافل کر دے، بلکہ اعتدال والی کیفیت عطافرمائیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36973]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36973، ترقيم محمد عوامة 35397)
ترقیم عوامۃ: 35398 ترقیم الشثری: -- 36974
٣٦٩٧٤ - حدثنا ابو اسامة عن محمد بن سليم عن ثابت البناني عن صفوان بن محرز قال: كان لداود نبي الله ﷺ (١) يوم يتاوه (فيه) (٢) ، (فيقول) (٣) : اوه من عذاب الله، اوه من عذاب الله، اوه من عذاب الله، (اوه من عذاب الله) (٤) ، (و) (٥) لا اوه، قال: (فذكرها) (٦) ذات يوم في مجلس، فغلبه البكاء حتى قام.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ع]: (يقول).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [هـ]: (وقيل).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (فذكرهما).
حضرت صفوان بن محرز کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام کبھی بہت درد مند ہوجاتے تو فرمایا کرتے: میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، اس کے سوا مجھے اور کوئی غم نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن کسی مجلس میں آپ علیہ السلام کو عذاب اِلٰہی کا خیال آگیا تو آپ پر اس طرح آہ وزاری کا غلبہ ہوا کہ آپ کو وہاں سے اٹھنا پڑا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36974]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36974، ترقيم محمد عوامة 35398)
ترقیم عوامۃ: 35399 ترقیم الشثری: -- 36975
٣٦٩٧٥ - حدثنا ابو اسامة عن محمد بن سليم عن ثابت قال: كان داود نبي الله ﵇ (١) إذا ذكر عقاب الله تخلعت اوصاله لا يشدها (إلا (الاسر) ) (٢) (٣) ، فإذا ذكر رحمة الله (تراجعت) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: (الأشد)، وفي [س]: (الأسد).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [هـ]: (رجعت).
حضرت ثابت کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا خیال آجاتا تو آپ کا جوڑ جوڑ اپنی جگہ سے اس طرح کھسک جاتا کہ اسے باقاعدہ (ـفنِ جراحت کے زریعے) واپس بٹھانا پڑتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36975]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36975، ترقيم محمد عوامة 35399)
ترقیم عوامۃ: 35400 ترقیم الشثری: -- 36976
٣٦٩٧٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: حدثني علقمة بن مرثد عن (ابن) (١) بريدة قال: لو عدل بكاء اهل الارض ببكاء داود ما عدله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من النسخ، وتم استدراكه مما سيأتي في باب: (ما قالوا في البكاء من خشية اللَّه) رقم [٣٨٢٧٣]، وانظر: الكامل ١/ ١٦٦، تاريخ بغداد ٤/ ٤٧، تاريخ دمشق ٧/ ٤١٥، شعب الإيمان (٨٣٥)، وهو سليمان بن بريدة في كتب التراجم.
حضرت بریدہ کہتے ہیں: اگر روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کی آہ وزاری کا مقابلہ اکیلے حضرت داؤد علیہ السلام کی آہ وزاری سے کیا جائے، تو (ان لوگوں کی آہ وزاری حضرت داؤد علیہ السلام کی آہ وزاری کے) برابر نہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36976]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36976، ترقيم محمد عوامة 35400)
ترقیم عوامۃ: 35401 ترقیم الشثری: -- 36977
٣٦٩٧٧ - حدثنا عبد الله بن نمير عن مالك بن مغول قال: كان في زبور داود اني انا الله لا إله إلا انا، ملك الملوك، قلوب الملوك بيدي، فايما قوم كانوا على طاعة جعلت الملوك عليهم رحمة، وايما قوم كانوا على معصية جعلت الملوك عليهم نقمة، لا تشغلوا انفسكم (بسب) (١) الملوك ولا (تتوبوا) (٢) إليهم، توبوا إلي اعطف قلوب الملوك عليكم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (لسب)، وفي [أ]: (سب)، وفي [هـ]: (بسبب).
(٢) في [جـ، ع]: (تتولون).
حضرت مالک بن مغول کہتے ہیں: حضرت داؤد علیہ السلام (پر نازل) کی (گئی کتاب) زبور میں تھا: بیشک میں ہی سب کا معبود ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ (میں) بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں۔ بس جو قوم بھی (میری) طاعت گزاری پر (مداومت کرتی) ہوگی، میں بادشاہوں کو ان پر رحم کرنے والا بنا دوں گا۔ اور جو قوم بھی (میری) نافرمانی پر (ڈھٹائی کرتی) ہوگی، میں بادشاہوں کو ان سے انتقام لینے والا بنا دوں گا۔ (تو) بادشاہوں کو برا بھلا کہنے میں مت لگے رہو، نہ ہی (اپنی حاجتوں میں) ان کی طرف رجوع کرو، بلکہ میری طرف لوٹ آؤ، میں بادشاہوں کے دلوں کو بھی تمہارے لئے نرم کر دوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36977]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36977، ترقيم محمد عوامة 35401)
ترقیم عوامۃ: 35402 ترقیم الشثری: -- 36978
٣٦٩٧٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي إسحاق عن (عبد الرحمن) (١) ابن ابزى قال: قال: داود النبي ﵇ (٢) : خطبة الاحمق في نادي القوم كمثل الذي يتغنى عند راس الميت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: ﷺ، وسقط من: [هـ]
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حضرت عبد الرحمٰن ابنِ ابزی فرماتے ہیں: نبی داؤد علیہ السلام نے فرمایا: لوگوں کی مجلس میں بیوقوف شخص کا تقریر کر نا ایسا ہے جیسے کوئی شخص میت کے سرہانے کھڑا ہو کر گیت گانے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36978]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36978، ترقيم محمد عوامة 35402)
ترقیم عوامۃ: 35403 ترقیم الشثری: -- 36979
٣٦٩٧٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد (عن الحسن) (١) عن الاحنف بن قيس عن ( (النبي) (٢) ﷺ قال:"إن داود) (٣) ﵇ (٤) قال: يا رب إن بني إسرائيل يسالونك بإبراهيم وإسحاق ويعقوب، فاجعلني يا رب لهم رابعا، (قال) (٥) : فاوحى (الله) (٦) إليه (٧) يا داود إن إبراهيم القي في النار (في شيء) (٨) فصبر، (٩) وتلك بلية لم تنلك، وإن إسحاق بذل (مهجة دمه في شيء) (١٠) فصبر (١١) ، (وتلك) (١٢) بلية لم (تنلك) (١٣) ، [وإن يعقوب اخذت حبيبه حتى ابيضت عيناه (فصبر) (١٤) ، وتلك بلية لم تنلك] (١٥) " (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ]: (داود النبي ﵇، وفي [جـ]: (إن داود ﵇.
(٤) سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [ع].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أن).
(٨) سقط من: [س].
(٩) في [س]: زيادة (في).
(١٠) في [أ، ب، جـ، س]: (مهجة دمه في شيء)، وفي [ع]: (مهجته دمه في شيء).
(١١) في [هـ]: (من أجلي).
(١٢) في [هـ]: (فتلك).
(١٣) في [جـ]: (تلك).
(١٤) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٥) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٦) ضعيف مرسل؛ علي بن زيد هو ابن جدعان ضعيف، والأحنف ليس من الصحابة، وأخرجه الحاكم ٦/ ٦٠٢، والدولابي ٢/ ٥٨٧، وابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٢/ ٤٨٨، وابن عدي ٢/ ٢٩٩، وابن عساكر ٦/ ٢٢٢، وابن الجوزي في التبصرة ١/ ١٣٦.
حضرت احنف بن قیس نبی اکرم علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک داؤد علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے رب! بیشک بنی اسرائیل آپ سے ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب۔ (تین نبیوں) کے وسیلہ سے سوال کرتے ہیں، تو آپ مجھے بھی ان کے ساتھ چوتھا بنا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف (یہ) وحی نازل فرمائی: اے داؤد! ابراہیم کو میری (توحید بیان کرنے کی) وجہ سے آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے (اس پر) صبر کیا، اور آپ اس امتحان سے نہیں گزرے۔ اسحق 1 کو میری (رضا کی) خاطرنذرانہ جان پیش کرنا پڑا، تو انہوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ پر یہ آزمائش نہیں آئی۔ اور یعقوب ان کے تو محبوب کو میں نے ان سے جدا کئے رکھا، یہاں تک کہ (رو رو کر) ان کی آنکھوں میں سفیدی اتر آئی، تو انہوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ سے یہ ابتلا (بھی) دور رہی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36979]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36979، ترقيم محمد عوامة 35403)
ترقیم عوامۃ: 35404 ترقیم الشثری: -- 36980
٣٦٩٨٠ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن ابي (المصعب) (١) عن ابيه عن كعب قال: كان إذا افطر الصائم استقبل القبلة فقال: اللهم خلصني من كل مصيبة نزلت (الليلة) (٢) من السماء إلى الارض -ثلاثا، وإذا طلع حاجب الشمس قال: اللهم اجعل لي سهما في كل حسنة نزلت من السماء -ثلاثا، قال: فقيل له فقال: دعوة داود فلينوا بها السنتكم واشعروها قلوبكم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الصعب).
(٢) سقط من: [هـ].
حضرت کعب کہتے ہیں: جب افطار کا وقت آتا تو ایک روزہ دار قبلہ رو ہو کر کہتا: اے اللہ! مجھے ہر اس مصیبت سے خلاصی عطا فرما دیجئے جو آج کی رات میں آسمان سے زمین پر نازل ہونے والی ہے۔ (وہ ایسا) تین مرتبہ (کہتا)۔ اور جب سورج کی روشنی پھیلنے لگتی تو کہتا: اے اللہ! ہر اس بھلائی میں میرا حصہ بھی رکھئے جو آسمان سے نازل ہونے والی ہے۔ (وہ ایسا بھی) تین مرتبہ (کہتا) راوی کہتے ہیں: اس شخص سے (ان کلمات کے بارے میں) پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا: یہ داؤد علیہ السلام کی دعا ہے، اس سے اپنی زبانوں کو آسودگی بخشو، اور اپنے دلوں پر اسے چسپاں کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36980]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36980، ترقيم محمد عوامة 35404)
ترقیم عوامۃ: 35405 ترقیم الشثری: -- 36981
٣٦٩٨١ - حدثنا وكيع عن (يونس) (١) (بن) (٢) ابي إسحاق عن ابيه عن ابن ابزى (قال) (٣) : قال داود ﵇ (٤) : نعم العون اليسار على الدين (او الغنى) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ]: (عن).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ، ب]: (إذا الغني).
(٦) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حضرت ابن ابزی کہتے ہیں: حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا: بہترین امداد دین پر (چلنے میں) سہولت (ہو جانا) ہے۔ یا (پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا): (بہترین امداد) مالداری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36981]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36981، ترقيم محمد عوامة 35405)
ترقیم عوامۃ: 35406 ترقیم الشثری: -- 36982
٣٦٩٨٢ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن العلاء بن المسيب عن رجل عن مجاهد قال: قال داود ﵇ (١) : يا رب طال عمري وكبرت سني وضعف (ركني) (٢) (فاوحى) (٣) الله إليه: يا داود طوبى لمن طال عمره وحسن عمله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (زلتي).
(٣) في [ب]: (وأوحى).
حضرت مجاہد کہتے ہیں: حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے پروردگار! میری حیات طویل ہوگئی ہے، اور میں عمر رسیدہ ہوگیا ہوں، اور میری قوّت ماند پڑگئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی: اے داؤد! خوش بخت ہے وہ شخص جس کی عمر طویل ہوجائے اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 36982]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36982، ترقيم محمد عوامة 35406)