🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. كلام أبي عبيدة بن الجراح
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35762 ترقیم الشثری: -- 37342
٣٧٣٤٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن هشام عن ابيه قال: دخل عمر بن الخطاب على ابي عبيدة بن الجراح فإذا هو مضطجع على (طنفسة) (١) (رحله) (٢) متوسد الحقيبة، قال: (فقال) (٣) له عمر: الا (اتخذت) (٤) (ما اتخذت) (٥) اصحابك؟ فقال: يا امير المؤمنين هذا يبلغني (المقيل) (٦) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (طفسه).
(٢) في [أ، ب]: (رجله).
(٣) في [جـ]: (قال).
(٤) في [أ، ب، ط، ع، هـ]: (تحدث)، وانظر: الحلية ومرقاة المفاتيح ١١/ ٢٧٤، وصفة الصفوة ١/ ٣٦٨، والإصابة ٣/ ٥٨٩، وسير أعلام النبلاء ١/ ١٦.
(٥) في [ع]: (ما تحدث)، وفي [ط، هـ]: (أحدث)، وفي [أ، ب، س]: (ما يحدث).
(٦) في [س]: (المقبل).
(٧) منقطع؛ عروة لم يدرك عمر، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٦٢٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٠١، وابن عساكر ٢٥/ ٤٨٠، والبيهقي في الشعب (١٠٦٢٧).

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب، حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت ابوعبیدہ بن جراح اپنے کجاوہ پر لیٹے ہوئے تھیلے کو تکیہ بنائے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں انہیں حضرت عمر نے کہا آپ ان نئی چیزوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے جنھیں آپ کے ساتھی استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرا یہ بستر بھی میری نیند پوری کردیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37342]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37342، ترقيم محمد عوامة 35762)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35763 ترقیم الشثری: -- 37343
٣٧٣٤٣ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت البناني قال: كان ابو عبيدة بن الجراح اميرا على الشام فخطب الناس فقال: يا ايها الناس إني امرؤ من قريش، وإني والله ما اعلم احمر ولا اسود يفضلني بتقوى (الله) (١) إلا وددت اني في مسلاخه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ع].
(٢) منقطع؛ ثابت لم يدرك أبا عبيدة، أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٨٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٠١، وابن عساكر ٢٥/ ٤٨٢، وابن سعد ٣/ ٤١٣، وابن أبي الدنيا في المتمنين (٣٨).

حضرت ثابت بنانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح ملک شام کے امیر تھے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں ایک قریشی مرد ہوں اور خدا کی قسم! میں اپنے سے افضل کسی سرخ یا سیاہ کو نہیں جانتا جو خوف خدا کی وجہ سے مجھ پر فضیلت رکھتا ہو مگر یہ کہ میں اس کی سی زندگی گزارنا پسند کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37343]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37343، ترقيم محمد عوامة 35763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35764 ترقیم الشثری: -- 37344
٣٧٣٤٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا (حريز) (١) بن عثمان عن ⦗٣٦٣⦘ (نمران) (٢) ابن (مخمر) (٣) (الرحبي) (٤) قال: كان ابو عبيدة بن الجراح يسير في الجيش وهو يقول: الا رب مبيض لثيابه مدنس لدينه، الا رب مكرم لنفسه وهو لها مهين، الا بادروا السيئات القديمات بالحسنات الحديثات، فإن احدكم لو اساء ما بين السماء والارض ثم عمل حسنة لغلبت سيئاته حتى تقهرهن (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (جرير).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (نميران).
(٣) في [أ، ب، طـ، هـ]: (محمد)، وقد تقدم على الصواب في كتاب الجهاد.
(٤) في [طـ، هـ]: (الرجي).
(٥) مجهول؛ لجهالة نمران، أخرجه أبو نعيم ١/ ١٠٢.

حضرت نمران بن مخمر رحبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح لشکر میں چلے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ خبردار! بہت سے اپنے کپڑوں کو سفید رکھنے والے اپنے دین کو میلا کرنے والے ہوتے ہیں۔ خبردار! بہت سے لوگ جو اپنے نفس کا اکرام کرنے والے ہوتے ہیں وہ اس کو ذلیل کرنے والے ہوتے ہیں۔ خبردار! پرانی برائیوں کے لیے نئی نیکیاں کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی ایک زمین و آسمان کے درمیان کو برائی سے بھر دے پھر وہ ایک اچھا عمل کرلے تو یہ نیکی اس کی برائیوں پر غالب آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کو نیچا کردیتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37344]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37344، ترقيم محمد عوامة 35764)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35765 ترقیم الشثری: -- 37345
٣٧٣٤٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت عن انس قال: قدمت على ابي عبيدة بن الجراح فانزلني في ناحية بيته، وامراته في ناحية وبيننا ستر، فكان يحلب الناقة فيجيء بالإناء فيضعه في يدي، فقال له رجل من الطلقاء: اتنزل هذا (ناحية) (١) بيتك مع امراتك؟ فقال: [ (اراقب) (٢) به (غير) (٣) ] (٤) من لو لقيته سليبا (لا ستانى) (٥) على كل مركب (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ناحه).
(٢) في [ب]: (أراكب).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (قبر)، وفي [ط، هـ]: (غير)، والمراد جعلت اللَّه عليه رقيبًا وهو سبحانه قادر على تغيير الأحوال.
(٤) سقط ما بين المعكوفين في: [س].
(٥) في [جـ، س]: (ساءني).
(٦) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے گھر کے کنارے میں ٹھہرایا۔ جبکہ ان کی بیوی ایک دوسرے کنارے میں تھیں۔ اور ہمارے درمیان ایک پردہ تھا۔ پس آپ اونٹنی کا دودھ نکالتے اور برتن میں لے کر آتے پھر اس کو میرے ہاتھ میں رکھ دیتے۔ اس پر طلقاء میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر ٹھہراتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں اس آدمی کو مکمل طور پر پاکدامن سمجھتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37345]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37345، ترقيم محمد عوامة 35765)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35766 ترقیم الشثری: -- 37346
٣٧٣٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ثور عن خالد بن معدان عن ابي عبيدة ابن الجراح قال: مثل قلب المؤمن مثل العصفور يتقلب كذا مرة وكذا مرة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ خالد بن معدان لم يسمع من أبي عبيدة.
حضرت ابوعبیدہ بن جراح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کا دل چڑیا کی طرح ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ادھر اور ایک مرتبہ ادھر ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37346]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37346، ترقيم محمد عوامة 35766)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں