مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
22. كلام عبد الله بن عمرو ﵁
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35858 ترقیم الشثری: -- 37440
٣٧٤٤٠ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كان عبد الله بن عمرو يقول: دع ما لست منه في شيء (ولا) (١) تنطق فيما لا ⦗٣٩٥⦘ يعنيك، واخزن لسانك كما تخزن نفقتك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (ألا).
(٢) منقطع؛ حميد بن هلال لم يسمع من عبد اللَّه بن عمرو، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٨٩)، وابن أبي عاصم (٤١)، وابن وهب في الجامع ٢/ ٥٦٠، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٨، وابن حبان في روضة العقلاء (ص ٥٥)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٢٤)، والبيهقي في الشعب (٥٠٠٧)، وابن عساكر ٣١/ ٢٧٠.
حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کہا کرتے تھے کہ جس کام سے تمہیں غرض نہیں ہے اس کو چھوڑ دو اور غیر متعلق معاملات میں گفتگو نہ کرو اور تم اپنی زبان کو یونہی خزانہ رکھو جس طرح تم اپنے خرچوں کو خزانہ رکھتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37440]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37440، ترقيم محمد عوامة 35858)
ترقیم عوامۃ: 35859 ترقیم الشثری: -- 37441
٣٧٤٤١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: اخبرنا (يحيى ابن (سعيد) (١) الكلاعي عن عمرو بن عائذ) (٢) الازدي عن غطيف بن الحارث الكندي قال: جلست انا واصحاب لي إلى عبد الله بن (عمرو) (٣) ، قال: فسمعته يقول: إن العبد إذا وضع في القبر كلمه فقال: يا ابن آدم الم تعلم اني بيت الوحدة وبيت الظلمة وبيت الحق، يا ابن آدم ما غرك بي، قد كنت تمشي حولي (فدادا) (٤) قال: فقلت لغطيف: يا ابا اسماء ما (فدادا) (٥) قال: احيانا (٦) ، فقال له صاحبي وكان اسن مني: فإذا كان مؤمنا؟ قال: وسع له وجعل منزله اخضر وعرج بنفسه إلى الجنة (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، ع، هـ]: (سعد).
(٢) كذا في النسخ، وفي التمهيد لابن عبد البر ١٨/ ١٤٥: (يحيى بن جابر الطائي عن ابن عائذ).
(٣) في [س]: (عمر).
(٤) أي: كثير الأمل، وفي [أ، ب]: (قدرًا)، وفي [جـ، ع]: (وفردًا)، وفي [س]: (قددًا).
(٥) أي: كثير الأمل، وفي [أ، ب]: (قدرًا)، وفي [جـ، ع]: (وفردًا)، وفي [س]: (قددًا).
(٦) في التمهيد ١٨/ ١٤٥: (كبعض مشيتك يا ابن أخي أحيانًا).
(٧) مجهول؛ لجهالة يحيى وعمرو.
حضرت غطیف بن حارث کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے کچھ ساتھی حضرت عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اس سے کلام کرتی ہے۔ اور کہتی ہے: اے آدم کے بیٹے! کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں تنہائی کا گھر ہوں اور ظلمت کا گھر ہوں اور حقیقت کا گھر ہوں؟ اے آدم کے بیٹے! تجھے کس چیز نے میرے ساتھ دھوکہ میں ڈالا تھا؟ تم میرے گرد فداداً چلتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت غطیف سے پوچھا: اے ابواسمائ! فداداً کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یعنی تکبر کے ساتھ۔ حضرت غطیف سے میرے ساتھی نے … جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا … کہا۔ اگر وہ شخص مومن ہو؟ غطیف نے کہا: اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کردیا جاتا ہے اور اس کی منزل کو سرسبز کردیا جاتا ہے اور اس کے نفس کو جنت کی طرف بلند کردیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37441]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37441، ترقيم محمد عوامة 35859)
ترقیم عوامۃ: 35860 ترقیم الشثری: -- 37442
٣٧٤٤٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن الحارث عن ابي كثير عن عبد الله بن عمرو قال: تجمعون جميعا فيقال: اين فقراء هذه الامة ومساكينها؟ فيبرزون، قال: فيقال: ما عندكم؟ قال: فيقولون: يا ربنا ابتلينا فصبرنا وانت اعلم، قال: واراه قال: ووليت الاموال والسلطان غيرنا، قال: ⦗٣٩٦⦘ فيقال: صدقتم، قال: فيدخلون الجنة قبل سائر الناس بزمان، وتبقى شدة الحساب على ذوي الاموال والسلطان، قال: (قلت) (١) : فاين المؤمنون يومئذ؟ قال: يوضع لهم كراسي من نور ويظلل عليهم (الغمام) (٢) ، ويكون ذلك اليوم اقصر عليهم من ساعة من نهار (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (فقلت).
(٢) في [س]: (الغمائم).
(٣) صحيح؛ أبو كثير هو زهير بن الأقمر وثفه النسائي، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٦٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٩ و ٦/ ٢٠٧، والدينوري في المجالسة (٢٠٣٧)، وورد مرفوعًا، أخرجه ابن حبان (٧٤١٩)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ١٠/ ٣٣٧.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تم سب لوگوں کو اکٹھا جمع کیا جائے گا پھر کہا جائے گا۔ اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں؟ چناچہ وہ لوگ ظاہر ہوں گے کہا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے؟ وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہمیں آزمائش میں ڈالا گیا لیکن ہم نے صبر کیا اور تو خوب جانتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے مال اور سلطنت ہمارے علاوہ دیگر لوگوں کو دی۔ اس پر کہا جائے گا تم نے سچ کہا ہے۔ پس وہ لوگ باقی لوگوں سے کافی دیر پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور مال و سلطنت کے مالک حساب کی شدت میں باقی رہیں گے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا: اس دن اہل ایمان کہاں ہوں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادل سایہ فگن ہوں گے اور یہ دن ان پر دن کی ایک گھڑی سے بھی چھوٹا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37442]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37442، ترقيم محمد عوامة 35860)
ترقیم عوامۃ: 35861 ترقیم الشثری: -- 37443
٣٧٤٤٣ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو قال: ما من ملا يجتمعون فيذكرون (الله) (١) إلا ذكرهم الله في ملا اعز من ملاهم واكرم، وما من ملا يتفرقون لم يذكروا الله إلا كان مجلسهم حسرة عليهم يوم القيامة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن فضيل في الدعاء (٨٤)، وأحمد في الزهد (ص ١٤٩)، والسمرقندي في التفسير ١/ ١٣٠.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی جماعت بھی ایسی نہیں ہے جو جمع ہو اور اللہ کا ذکر کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جماعت میں یاد کرتا ہے جو ان کی جماعت سے معزز اور مکرم ہوتی ہے اور کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو جدا ہو جبکہ اس نے خدا کا ذکر نہ کیا ہو مگر یہ کہ یہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت کا ذریعہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37443]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37443، ترقيم محمد عوامة 35861)
ترقیم عوامۃ: 35862 ترقیم الشثری: -- 37444
٣٧٤٤٤ - حدثنا (معاوية) (١) بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سليمان التيمي عن ابي عثمان النهدي قال: ارسلنا امراة إلى عبد الله بن عمرو تساله: ما الذنب الذي لا يغفره الله؟ قال: ما من ذنب او عمل مما بين السماء يتوب منه العبد إلى الله تعالى قبل الموت إلا تاب عليه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (معاذ).
(٢) حسن؛ معاوية صدوق.
حضرت ابوعثمان نہدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک عورت کو حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس یہ سوال کرنے بھیجا کہ وہ کون سا گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا؟ انہوں نے فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان کوئی گناہ یا عمل ایسا نہیں ہے کہ جس پر آدمی موت سے پہلے اللہ سے توبہ کرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37444]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37444، ترقيم محمد عوامة 35862)
ترقیم عوامۃ: 35863 ترقیم الشثری: -- 37445
٣٧٤٤٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عبد الله بن عمرو قال: ما من احد إلا يلقى الله بذنب إلا يحيى بن زكريا ثم تلا: ⦗٣٩٧⦘ ﴿وسيدا وحصورا﴾ [آل عمران: ٣٩] ثم رفع شيئا صغيرا من الارض فقال: ما كان معه مثل هذا ثم ذبح ذبحا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه ابن عساكر ٦٤/ ٩٥، وورد مرفوعًا بنحوه، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٠٤، وابن عساكر ٦٤/ ١٧٤، وابن جرير ٣/ ٢٥٥.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہر آدمی اللہ تعالیٰ سے کسی گناہ کے ساتھ ملاقات کرے گا مگر یحییٰ بن زکریا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } پھر آپ رضی اللہ عنہ نے زمین سے ایک چھوٹی سی چیز اٹھائی اور فرمایا: ان کے پاس اس کے بقدر بھی (جرم) نہ تھا پھر بھی انہیں ذبح کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37445، ترقيم محمد عوامة 35863)
ترقیم عوامۃ: 35864 ترقیم الشثری: -- 37446
٣٧٤٤٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن خيثمة عن عبد الله بن عمرو قال: انتهيت إليه وهو ينظر إلى المصحف قال: قلت: اي شيء (١) تقرا؟ قال: حزبي الذي اقوم به الليل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: زيادة (الذي).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٤/ ٢٦٥، وابن عساكر ٣١/ ٢٦٩.
حضرت خیثمہ، حضرت عبداللہ بن عمرو کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جبکہ آپ قرآن مجید کو دیکھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنا وہ پارہ جو میں نے آج رات قیام میں پڑھنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37446، ترقيم محمد عوامة 35864)
ترقیم عوامۃ: 35865 ترقیم الشثری: -- 37447
٣٧٤٤٧ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ابي عمران الجوني ان عبد الله بن (عمرو) (٢) بينما هو جالس وبين لديه نار إذ شهقت فقال: والذي نفسي بيده إنها لتعوذ بالله من النار الكبرى، او قال: من نار جهنم، قال: فراى القمر حين جنح للغروب فقالوا: والله إنه ليبكي الآن (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) منقطع؛ أبو عمران يروي عن عبد اللَّه بن عمرو بواسطة، أخرجه أبو نعيم ١/ ٢٨٩، وابن أبي الدنيا في صفة النار (١٥٠).
حضرت ابوعمران سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آگ تھی کہ اچانک میرا سانس گھٹنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہ آگ بھی اللہ تعالیٰ سے بڑی آگ … یا فرمایا جہنم کی آگ … سے پناہ مانگتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے چاند کو غروب ہوتے وقت جھک کر دیکھا تو فرمایا: بخدا! یہ اس وقت رو رہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37447، ترقيم محمد عوامة 35865)
ترقیم عوامۃ: 35866 ترقیم الشثری: -- 37448
٣٧٤٤٨ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن زياد بن (علاقة) (١) عن عبد الله ابن (عمرو) (٢) قال: [لوددت اني هذه الشجرة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (علقمة).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) منقطع؛ زياد لا يروي عن عبد اللَّه بن عمرو.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں یہ درخت ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37448، ترقيم محمد عوامة 35866)
ترقیم عوامۃ: 35867 ترقیم الشثری: -- 37449
٣٧٤٤٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلي بن (عبيد) (١) عن يحيى بن قمطة ⦗٣٩٨⦘ عن عبد الله بن عمرو قال] (٢) : (الدنيا) (٣) سجن المؤمن وجنة الكافر، فإذا مات المؤمن يخلى (سربه) (٤) يسرح حيث شاء (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولعل الصواب: (يعلي بن عطاء)، كما في التاريخ الكبير ٨/ ٢٩٩، والثقات ٥/ ٥٢٩.
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٣) في [أ]: (الدنى).
(٤) في [ط، هـ]: (به)، قال الخطابي: سربه: أي طريقه ومذهبه.
(٥) في [هـ]: زيادة (واللَّه تعالى أعلم).
(٦) مجهول؛ لجهالة يحيى بن قمطة، أخرجه الخطيب ١٢/ ٤٣٢، والخطابي في غريب الحديث ٢/ ٤٩٢.
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ پس جب مومن کو موت آتی ہے تو اس کو آزاد کردیا جاتا ہے کہ وہ جہاں چاہے، سیر کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37449]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37449، ترقيم محمد عوامة 35867)