مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
23. كلام النعمان بن بشير ﵁
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35868 ترقیم الشثری: -- 37450
٣٧٤٥٠ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) (عن سماك) (٢) عن النعمان بن بشير قال: سمعته يقول: مثل ابن آدم ومثل الموت مثل رجل كان له ثلاثة اخلاء، فقال لاحدهم: ما عندك؟ فقال: عندي مالك فخذ منه ما شئت، وما لم تاخذ فليس لك، ثم قال للآخر: ما عندك؟ قال: اقوم عليك فإذا مت دفنتك وخليتك، ثم قال للثالث: ما عندك؟ فقال: انا معك حيثما كنت، قال: فاما الاول فماله، ما اخذ فله، وما لم ياخذ فليس له، واما الثاني فعشيرته إذا مات قاموا عليه ثم خلوه، واما الثالث (فعمله) (٣) حيثما (وإن كان معه، وحيثما) (٤) دخل، دخل معه (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص، ع]: (الأخواص).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [س]: (فعلمه).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) حسن؛ سماك صدوق، وورد مرفوعًا، أخرجه الحاكم ١/ ٥٢٧، والبزار (٣٢٧٢)، والطبراني في الأوسط (٧٣٩٦).
حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہتے سنا۔ ابن آدم اور موت کی مثال یہ ہے جیسے ایک آدمی کے تین دوست ہوں۔ وہ ان میں سے ایک دوست سے کہے۔ تیرے پاس کیا ہے؟ وہ دوست کہے۔ میرے پاس تیرا مال ہے۔ پس تو اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو تو نہ لے سکے تو پھر وہ تیرا نہیں ہے۔ پھر اس آدمی نے دوسرے سے پوچھا۔ تیرے پاس کیا ہے؟ اس نے کہا جب تو مرجائے گا تو میں تجھے دفن کروں گا اور تجھے اکیلا چھوڑ دوں گا۔ پھر اس آدمی نے تیسرے سے کہا۔ تیرے پاس کیا ہے؟ اس نے کہا: تم جہاں ہو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ حضرت نعمان نے فرمایا: پس پہلا دوست اس کا مال ہے کہ جو اس نے لے لیا وہ اس کا ہے اور جو اس نے نہ لیا وہ اس کا نہیں ہے اور جو دوسرا ہے وہ اس کا قبیلہ، برادری ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو یہ اس کے پاس رہیں گے پھر اس کو اکیلا چھوڑ دیں گے اور تیسرا اس کا عمل ہے جو اس کے ساتھ ہوگا وہ جہاں بھی ہو اور جہاں وہ جائے گا یہ بھی ساتھ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37450، ترقيم محمد عوامة 35868)
ترقیم عوامۃ: 35869 ترقیم الشثری: -- 37451
٣٧٤٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا جرير قال: حدثني من سمع النعمان بن بشير يقول: إن الهلكة كل الهلكة ان (تعمل) (١) عمل السوء في زمان البلاء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (يعمل).
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي عن النعمان، أخرجه ابن عساكر ٦٢/ ١٢٥.
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں بیشک مکمل ہلاکت ہے یہ بات کہ تم آزمائش کے زمانہ میں عمل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37451، ترقيم محمد عوامة 35869)
ترقیم عوامۃ: 35870 ترقیم الشثری: -- 37452
٣٧٤٥٢ - حدثنا يزيد قال: اخبرنا حريز بن عثمان قال: حدثني حبان بن زيد الشرعبي (١) قال: وكان (ودا) (٢) للنعمان، وكان النعمان استعمله على (النبك) (٣) قال: فسمع النعمان يقول: الا إن عمال الله ضامنون على الله، الا إن عمال بني آدم لا يملكون ضمانهم، قال: فلما نزل النعمان (عن) (٤) منبره اتاه فاستعفى فقال: مالك؟ قال: سمعتك تقول كذا وكذا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في ابن عساكر ٣٨/ ١٦٠: زيادة (عن عبيدة الشرعبي).
(٢) في [جـ]: (ودي).
(٣) في [جـ، ع]: (البنى)، وفي [ط، هـ]: (النبل).
(٤) في [س]: (على).
(٥) مجهول؛ لجهالة حبان.
حضرت حبان بن زید بیان کرتے ہیں … یہ حضرت نعمان کے بہت دوست تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مقام نبک پر عامل مقرر کیا تھا … کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت نعمان کو کہتے سنا خبردار! خدا کے عمال خدا پر ضامن ہوں گے۔ خبردار! بنی آدم کے عمال۔ اپنے ضمان کے مالک نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر جب حضرت نعمان اپنے منبر سے اترے تو یہ ان کے پاس آئے اور ان کو استعفیٰ دینا چاہا انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا میں نے آپ کو یوں یوں کہتے سنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37452، ترقيم محمد عوامة 35870)