🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. كلام ربيع بن (خثيم)
سیدنا ربیع بن خثیم کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35986 ترقیم الشثری: -- 37570
٣٧٥٧٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابيه عن ابي يعلى قال: كان الربيع بن (خثيم) (١) إذا مر بالمجلس يقول: قولوا خيرا (و) (٢) افعلوا خيرا (و) (٣) دوموا على ⦗٤٣٩⦘ صالحة، ولا (تقس) (٤) قلوبكم، ولا يتطاول عليكم الامد: ﴿ولا تكونوا كالذين قالوا سمعنا وهم لا يسمعون﴾.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (خيثم)، وفي [ب، س]: زيادة ﵁.
(٢) سقط من: [جـ، س، ع].
(٣) سقط من: [أ، جـ].
(٤) في [أ]: (تقسوا).

حضرت ابویعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم جب کسی مجلس کے پاس سے گزرتے تھے تو کہتے تھے۔ خیر کی بات کہو خیر کا کام کرو۔ اچھے عمل پر مداومت رکھو۔ تمہارے دل سخت نہ ہوجائیں اور تمہاری مہلت زیادہ نہ ہوجائے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا حالانکہ انہوں نے نہیں سنا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37570، ترقيم محمد عوامة 35986)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35987 ترقیم الشثری: -- 37571
٣٧٥٧١ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابيه عن ابي يعلى قال: كان الربيع إذا قيل له: كيف اصبحت؟ يقول: اصبحنا ضعفاء مذنبين، ناكل ارزاقنا، وننتظر آجالنا.
حضرت ابویعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ربیع سے کہا جاتا آپ نے صبح کس طرح کی؟ تو آپ فرماتے: ہم نے ضعف اور گناہگاری کی حالت میں صبح کی کہ ہم اپنے رزق کھا رہے ہیں اور اپنی موتوں کا انتظار کررہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37571، ترقيم محمد عوامة 35987)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35988 ترقیم الشثری: -- 37572
٣٧٥٧٢ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابيه عن ابي يعلى عن ربيع قال: ما احب مناشدة العبد (ربه) (١) ، يقول: رب قضيت على نفسك الرحمة، قضيت على نفسك كذا، يستبطئ، وما رايت احدا يقول: رب قد اديت (ما علي) (٢) (فاد) (٣) ما عليك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (لربه).
(٢) في [جـ]: (الذي على).
(٣) في [أ، ب، س]: (وأدي).

حضرت ربیع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بندہ کی یہ دعا، اپنے رب سے کرنا پسند نہیں ہے کہ وہ کہے: اے اللہ! تو نے اپنے اوپر رحمت کا فیصلہ کرلیا ہے تو نے خود پر یہ فیصلہ کرلیا ہے۔ (یہ کہہ کر) بندہ سستی کا مظاہرہ کرے۔ میں نے کسی کو یہ کہتے نہیں دیکھا کہ اے میرے پروردگار! جو مجھ پر لازم تھا وہ میں نے اد ا کردیا ہے۔ پس جو تجھ پر لازم ہے وہ تو ادا کردے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37572]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37572، ترقيم محمد عوامة 35988)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35989 ترقیم الشثری: -- 37573
٣٧٥٧٣ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن ابيه عن ابي يعلى عن ربيع بن (خثيم) (١) قال: ما غائب ينتظره المؤمن خير من الموت] (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (خيثم).
(٢) سقط الخبر في: [ع].

حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ موت سے زیادہ بہتر کوئی غائب چیز ایسی نہیں جس کا مومن کو انتظار ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37573، ترقيم محمد عوامة 35989)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35990 ترقیم الشثری: -- 37574
٣٧٥٧٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابيه عن منذر عن الربيع بن (خثيم) (١) انه اوصى عند موته فقال: هذا ما اقر به الربيع بن خثيم على نفسه، واشهد (٢) ⦗٤٤٠⦘ عليه، وكفى بالله شهيدا، (وجازيا لعباده) (٣) الصالحين (ومثيبا) (٤) : اني رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، ورضيت لنفسي ولمن اطاعني ان اعبده في العابدين، وان احمده في الحامدين وان انصح لجماعة المسلمين.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (خيثم).
(٢) في [هـ]: زيادة (اللَّه).
(٣) في [س]: (وجاز بالعبادة).
(٤) سقط من: [أ، ب].

حضرت ربیع بن خثیم کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی موت کے وقت وصیت کی۔ فرمایا: یہ وہ باتیں ہیں جن کا ربیع بن خثیم اپنی ذات کے بارے میں اقرار کرتا ہے اور اس پر گواہی دیتا ہے اور گواہی کے لیے خدا ہی کافی ہے۔ اور اپنے نیک بندوں کو بدلہ دینے کے لیے کافی ہے اور ثواب دینے کے لیے کافی ہے۔ میں اللہ پر رب ہونے کے اعتبار سے راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد 5 کے نبی ہونے پر راضی ہوں اور اپنے نفس کے لیے اور اس کے لیے جو میری فرمانبرداری کرے اس بات پر راضی ہوں کہ میں عبادت کرنے والوں میں خدا کی عبادت کروں اور حمد کرنے والوں میں خدا کی حمد کروں اور میں مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37574، ترقيم محمد عوامة 35990)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35991 ترقیم الشثری: -- 37575
٣٧٥٧٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابي حيان عن ابيه قال: ما سمعت الربيع ابن خثيم يذكر شيئا من امر (الدنيا) (١) إلا اني سمعته (يقول) (٢) (مرة) (٣) : كم (للتيم) (٤) مسجدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (المدني).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ب]: (أمره).
(٤) أي: كلم لقبيلة تيم من مسجد، وهنا، وفي [س]: بياض، وفي [أ، ب، هـ]: (لليتيم).

حضرت ابوحیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بن خثیم کو دنیا کے معاملات میں سے کسی کا ذکر کرتے نہیں سنا۔ ہاں ایک مرتبہ میں نے انہیں کہتے سنا: یتیم کی کتنی ہی مسجدیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37575، ترقيم محمد عوامة 35991)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35992 ترقیم الشثری: -- 37576
٣٧٥٧٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سفيان الثوري عن ابيه عن بكر بن ماعز قال: قال (لي) (١) الربيع بن خثيم: يا بكر اخزن عليك لسانك إلا مما لك، ولا عليك (٢) ، فإني اتهمت الناس على ديني، (اطع) (٣) الله فيما علمت، وما استؤثر به عليك فكله إلى (عالمه) (٤) ؛ لانا عليكم في العمد اخوف مني عليكم في الخطا، وما خيركم اليوم بخيره، ولكنه خير من آخر شر منه، (ما تتبعون) (٥) الخير كل اتباعه، ولا تفرون من الشر حق (فراره) (٦) ، ما كل ما انزل الله على محمد ادركتم، ⦗٤٤١⦘ و (لا) (٧) (كل) (٨) ما تقرؤون تدرون (ما هو) (٩) ، السرائر اللاتي (يخفين) (١٠) على الناس (وهي) (١١) لله (بواد) (١٢) ابتغوا دواءها، ثم يقول لنفسه: وما دواءها؟ ان تتوب ثم لا تعود.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) أي: لن يضرك شيء.
(٣) في [س]: (أطيع).
(٤) في [أ، ب]: (علله).
(٥) في [س]: (ما تبعون).
(٦) في [س]: (قراره).
(٧) في [أ، ب]: (وبلا).
(٨) في [أ، ب]: تكررت.
(٩) في [س]: بياض.
(١٠) في [ع]: (تخفون).
(١١) في [هـ]: (هن).
(١٢) في [أ، ب]: (توآد)، وفي [س]: (لواد).

حضرت بکر بن ماعز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم نے مجھے کہا: اے بکر! اپنی زبان کو اپنی حفاظت میں رکھ مگر وہ بات جو تیرے فائدہ میں ہو۔ تیرے خلاف نہ ہو۔ کیونکہ میں نے اپنے دین کے بارے میں لوگوں کو متہم پایا ہے۔ جو تمہیں معلوم ہے اس میں اللہ کی اطاعت کر اور جو چیز تمہارے علم میں نہ ہو تو اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردے۔ مجھے تمہارے اوپر جان بوجھ کر کیے جانے والے عمل کا، غلطی سے ہونے والے عمل کی بہ نسبت زیادہ خوف ہے۔ تم میں سے جو آج خیر پر ہے وہ بہتر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اپنے آخری شر سے بہتر ہیں، تم لوگ خیر کی مکمل اتباع نہیں کرتے اور تم شر سے کماحقہ فرار اختیار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد 5 پر جو کچھ اتارا ہے تم نے اس کو سارا نہیں پایا۔ اور جو کچھ تم پڑھتے ہو اس سارے کو تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے۔ وہ پوشیدہ باتیں جو لوگوں پر مخفی ہوتی ہیں وہ اللہ کے لیے تو ظاہر ہیں۔ تم اس کا علاج تلاش کرو۔ پھر آپ نے اپنے آپ سے کہا: اس کا علاج کیا ہے؟ یہ کہ تم توبہ کرو اور پھر اس کی طرف عود نہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37576، ترقيم محمد عوامة 35992)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35993 ترقیم الشثری: -- 37577
٣٧٥٧٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن عجلان عن (نسير) (١) مولى الربيع قال: (كان الربيع) (٢) يصلي ليلة فمر بهذه الآية: ﴿ام حسب الذين اجترحوا السيئات﴾ [الجاثية: ٢١] ، فرددها حتى اصبح.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو نسير بن ذعلوق أبو طعمة كما تقدم ٢/ ٤٧٧ برقم [٨٥٩٣]، وانظر: معرفة الثقات للعجلي ٢/ ٣١٢، وطبقات ابن سعد ٦/ ١٨٧، وسيأتي مثله برقم [٣٧٥٩٣].
(٢) سقط من: [س].

حضرت ربیع کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ حضرت ربیع رات کو نماز پڑھ رہے تھے کہ اس آیت پر پہنچے { أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ } تو اس کو صبح تک دہراتے رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37577]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37577، ترقيم محمد عوامة 35993)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35994 ترقیم الشثری: -- 37578
٣٧٥٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن الاعمش عن إبراهيم قال: كان الربيع ياتي علقمة وكان في مسجده طريق، وإلى (جنبه) (١) نساء كن يمررن في المسجد، فلا يقول كذا وكذا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (جنة).
حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ربیع، حضرت علقمہ کے پاس آتے تھے اور ان کی مسجد میں راستہ تھا اور ان کے ہمراہ عورتیں بھی مسجد میں سے گزرتی تھیں لیکن وہ ایسی ویسی باتیں نہیں کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37578]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37578، ترقيم محمد عوامة 35994)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35995 ترقیم الشثری: -- 37579
٣٧٥٧٩ - [حدثنا (ابو) (١) معاوية (ووكيع) (٢) عن الاعمش عن ابي رزين عن الربيع بن خثيم: ﴿وإذا لا تمتعون إلا قليلا﴾ [الاحزاب: ١٦] قال: (القليل) (٣) ما ⦗٤٤٢⦘ بينهم وبين الاجل] (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في جميع نسخ المخطوطات إلا: [هـ]، وانظر: ما بعده، وتفسير ابن جرير ١٠/ ٢٠٢.
(٢) سقط من: [هـ]، وانظر: تفسير ابن جرير ٢١/ ١٣٨.
(٣) في [س]: (العليل).
(٤) سقط الخبر في: [أ، ب].

حضرت ربیع بن خثیم سے { وَإِذًا لاَ تُمَتَّعُونَ إِلاَّ قَلِیلاً } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا: قلیل سے مراد وہ مہلت ہے جو ان کی موت اور ان کے درمیان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37579]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37579، ترقيم محمد عوامة 35995)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں