🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. (عون بن عبد الله)
حضرت عون بن عبد اللہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36106 ترقیم الشثری: -- 37690
٣٧٦٩٠ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن (ابن) (١) عجلان عن عون بن عبد الله قال: إن من كمال التقوى ان تبتغي إلى ما علمت منها علم ما (لم) (٢) تعلم، واعلم ان (النقص) (٣) فيما علمت ترك ابتغاء الزيادة فيه، وإنما يحمل الرجل على ترك ابتغاء الزيادة فيما قد علم قلة الانتفاع (بما قد علم) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أبي).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، ح، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب] وفي [هـ]: (مما قد علم).

حضرت عون بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کمال تقویٰ یہ ہے کہ تم اپنے علم کے ذریعہ اس بات کو جانو جس کو تم نہیں جانتے تھے اور جان لو کہ تمہارے علم کا نقص اس میں زیادتی کی تلاش کو ترک کرنا ہے۔ اپنے علم میں زیادتی کی تلاش کو ترک کرنے کی وجہ سے آدمی اپنے علم پر نفع کم حاصل کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37690، ترقيم محمد عوامة 36106)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36107 ترقیم الشثری: -- 37691
٣٧٦٩١ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن ابن عجلان (عن عون) (١) قال: بحسبك من الكبير: ان تاخذ بفضلك على غيرك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تیرے تکبر کے لیے یہی بات کافی ہے کہ تو اپنی فضیلت کی وجہ سے غیر پر پکڑکرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37691، ترقيم محمد عوامة 36107)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36108 ترقیم الشثری: -- 37692
٣٧٦٩٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابن عجلان عن عون قال: الذاكر في الغافلين كالمقاتل عن الفارين، وإن الغافل (في) (١) الذاكرين كالفار عن المقاتلين.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عن).
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ غافلین میں ذاکر ایسے ہے جیسے بھاگنے والوں میں لڑنے والا۔ اور ذاکرین میں غافل ایسا ہے جیسے لڑنے والوں میں بھاگنے والا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37692، ترقيم محمد عوامة 36108)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36109 ترقیم الشثری: -- 37693
٣٧٦٩٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن مسعر عن عون قال: (١) (اخبره) (٢) بالعفو قبل الذنب: ﴿عفا الله عنك لم اذنت لهم﴾ [التوبة: ٤٣] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (كان يقال: من أحسن اللَّه صورته).
(٢) في [س]: (آخره).

حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گناہ سے قبل ہی معافی کا بتادیا: اللہ نے آپ کو معاف کردیا آپ نے انہیں اجازت کیوں دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37693، ترقيم محمد عوامة 36109)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36110 ترقیم الشثری: -- 37694
٣٧٦٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا المسعودي عن عون بن عبد الله قال: ما احد ينزل الموت حق منزلته إلا عبد عد غدا ليس من (اجله، كم) (١) من مستقبل يوما لا يستكمله، (وراج) (٢) غدا لا يبلغه، إنك لو ترى الاجل ومسيره لابغضت الامل وغروره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أحلاكم).
(٢) في [أ، ب، س]: (وراح).

حضر ت عون بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کوئی بندہ موت میں کماحقہ نہیں اترتا مگر وہ شخص جو کل کے دن کو اپنی مہلت میں سے نہ سمجھے۔ کتنے لوگ دن کا استقبال کرنے والے ہیں جو اس کو پورا نہیں کرپاتے اور کتنے لوگ کل کی امید والے کل کو نہیں پہنچ پاتے۔ یقینا تم اگر مہلت اور اس کی رفتار کو دیکھ لیتے تو تم امیدوں اور دھوکوں سے نفرت کرنے لگتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37694، ترقيم محمد عوامة 36110)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36111 ترقیم الشثری: -- 37695
٣٧٦٩٥ - حدثنا شبابة بن سوار عن ليث بن سعد عن ابن عجلان عن عون قال: كان يقال: من احسن الله صورته وجعله في منصب صالح ثم تواضع لله كان من خالص الله.
حضرت عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے اچھی صورت دی ہو اور اس کو اچھے منصب میں پہنچائے پھر وہ اللہ کے لیے تواضع کرے تو یہ شخص خالص اللہ کے لیے عمل کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37695]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37695، ترقيم محمد عوامة 36111)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36112 ترقیم الشثری: -- 37696
٣٧٦٩٦ - حدثنا جرير عن ليث عن ابن سابط: ﴿للذين احسنوا الحسنى وزيادة﴾ [يونس: ٢٦] ، قال: النظر إلى وجه الله.
حضرت ابن سابط سے قرآن مجید کی آیت { لِلَّذِینَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ} کے بارے میں روایت ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد چہرہ خداوندی کی طرف دیکھنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37696، ترقيم محمد عوامة 36112)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36113 ترقیم الشثری: -- 37697
٣٧٦٩٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ليث عن ابن سابط قال: إن الله يقول: إنك يا ابن آدم ما عبدتني ورجوتني فإني غافر لك على ما كان، يسالني عبدي الهدى، وكيف اضل عبدي وهو يسالني الهدى وانا الحكم.
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! تو نے جتنی میری عبادت کی اور مجھ سے امید رکھی پس میں تجھے جو کچھ ہوچکا ہے اس پر معاف کرتا ہوں۔ میرا بندہ مجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہے اور میں کیسے اپنے بندہ کو گمراہ کروں جبکہ وہ مجھ سے ہدایت مانگتا ہے اور میں حکم ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37697، ترقيم محمد عوامة 36113)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36114 ترقیم الشثری: -- 37698
٣٧٦٩٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ليث عن ابن سابط قال: بشر (المشائين) (١) في ظلم الليل إلى الصلوات بنور تام يوم القيامة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (المشايين).
حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رات کے اندھیروں میں نمازوں کے لیے جانے والوں کو قیامت کے دن نور تام کی خوشخبری دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37698]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37698، ترقيم محمد عوامة 36114)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36115 ترقیم الشثری: -- 37699
٣٧٦٩٩ - حدثنا وكيع عن العلاء بن عبد الكريم سمعه من ابن سابط: ﴿وإنه في ام الكتاب لدينا لعلي حكيم﴾ [الزخرف: ٤] قال: في ام الكتاب كل شيء هو كائن إلى يوم القيامة.
حضرت علاء بن عبدالکریم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن سابط کو قرآن مجید کی آیت { وَإِنَّہُ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ} کے بارے میں کہتے سنا۔ آپ نے فرمایا: اُم الکتاب میں ہر وہ چیز ہے جو قیامت تک ہونے والی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37699، ترقيم محمد عوامة 36115)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں