🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. وذكر أن أبا حنيفة قال: إذا تزوجها ليحللها فرغب فيها فلا بأس أن يمسكها
حلالہ کرنے والے کے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37348 ترقیم الشثری: -- 38948
٣٨٩٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن الراي عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني قال: سئل رسول الله ﷺ عن اللقطة فقال:"عرفها سنة، فإن جاء صاحبها وإلا فاستنفقها" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٩١)، ومسلم (١٧٢٢).
حضرت زید بن خالد جُہنی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوا ل کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کرواؤ۔ پس اگر اس کا مالک آجائے (تو اسے دے دو) وگرنہ اس کو تم خرچ کر ڈالو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38948، ترقيم محمد عوامة 37348)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37349 ترقیم الشثری: -- 38949
٣٨٩٤٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن سويد بن غفلة قال: خرجت انا وزيد بن صوحان وسلمان بن ربيعة حتى إذا كنا بالعذيب التقطت سوطا فقالا لي: القه، فابيت، فلما اتينا المدينة اتيت ابي بن كعب فسالته فقال: التقطت مائة دينار على (عهد) (١) النبي ﷺ فذكرت ذلك له فقال:"عرفها سنة"، فعرفتها سنة فلم اجد احدا يعرفها، فاتيته فقال:"عرفها سنة" فإن وجدت صاحبها فادفعها إليه وإلا فاعرف عددها ووعاءها ووكاءها ثم تكون كسبيل مالك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٢٦)، ومسلم (١٧٢٣)، وأحمد (٢١١٦٦).

حضرت سوید بن غفلہ بیان فرماتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عذیب مقام پر پہنچے تو میں نے ایک لاٹھی گری ہوئی اُٹھالی۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ اس لاٹھی کو پھینک دو۔ میں نے انکار کیا۔ پس جب ہم مدینہ پہنچے تو میں ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سو دینار گرے ہوئے اٹھائے تھے اور یہ بات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان فرمائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک سال تک اس کی پہچان (لوگوں میں اعلان) کرواؤ۔ پس میں نے ان دیناروں کا ایک سال تک اعلان کروایا لیکن میں نے ان دیناروں کو پہچاننے والا کوئی نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ایک سال تک پہچان کرواؤ۔ پھر اگر تم اس کے مالک کے پالو تو یہ اس کو دے دو وگرنہ تم اس کی تعداد، اس کا برتن اور اس کی رسی کی پہچان کرواؤ۔ پھر تم اس کے مالک کی طرح ہو جاؤ گے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: اگر لقطہ کا مالک آجائے تو اس کا تاوان بھرا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38949، ترقيم محمد عوامة 37349)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں