🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. وذكر أن أبا حنيفة قال: إن جاء صاحبها غرم له
گری پڑی چیز کی پہچان کروانے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37350 ترقیم الشثری: -- 38950
٣٨٩٥٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: نهى النبي ﷺ عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٨٣)، ومسلم (١٥٣٤).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھل کو بُدوِّ صلاح سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے (بدو صلاح کا مفہوم چند احادیث کے بعد والی حدیث میں مرفوعاً بیان ہوگا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38950، ترقيم محمد عوامة 37350)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37351 ترقیم الشثری: -- 38951
٣٨٩٥١ - [حدثنا ابن عيينة عن ابن جريج عن عطاء عن جابر قال: نهى النبي ﷺ عن بيع (التمر) (١) حتى يبدو صلاحها] (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الثمر).
(٢) سقط الحديث في: [جـ].
(٣) صحيح؛ صرح ابن جريج بالسماع عند مسلم، وأخرجه البخاري (٢٣٨١)، ومسلم (١٥٣٦).

حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُدوِّ صلاح سے قبل پھلوں کی بیع کرنے سے منع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38951، ترقيم محمد عوامة 37351)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37352 ترقیم الشثری: -- 38952
٣٨٩٥٢ - حدثنا ابو الاحوص عن (زيد) (١) بن جبير قال: (سال) (٢) رجل ابن ⦗٢٥١⦘ عمر عن شراء الثمر فقال: نهى النبي ﷺ عن بيع (الثمر) (٣) حتى يبدو صلاحها (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (يزيد).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب، جـ، س]: (الثمرة).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥١٦)، ومسلم (١٥٣٥).

حضرت زید بن جبیر سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی خریداری سے بابت سوال کیا؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُدوِّ صلاح سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38952، ترقيم محمد عوامة 37352)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37353 ترقیم الشثری: -- 38953
٣٨٩٥٣ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (يزيد) (١) بن (خمير) (٢) عن مولى لقريش قال: سمعت ابا هريرة يحدث معاوية ان النبي ﷺ نهى عن بيع الثمرة حتى تحرز من كل عارض (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قلد).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (جبير).
(٣) مجهول، لإبهام المولى، وأخرجه أحمد (٩٠١٧)، وأبو داود (٣٣٦٩٠)، والبيهقي ٢/ ٢٤٠، والخطيب في الموضح ٢/ ٢٠.

حضرت ابوہریرہ، حضرت معاویہ کو بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ عارض (مصیبت) سے محفوظ ہوجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38953]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38953، ترقيم محمد عوامة 37353)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37354 ترقیم الشثری: -- 38954
٣٨٩٥٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن عطية عن ابي سعيد قال: نهى النبي ﷺ عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها، قالوا: وما بدو صلاحها؟ قالت: تذهب عاهاتها ويخلص طيبها (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف عطية وابن أبي ليلى.
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدو صلاح سے پہلے پھلوں کی بیع کو منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا۔ پھلوں کی بُدوِّ صلاح کیا ہے؟ انہوں نے ارشاد فرمایا: پھلوں کی آفات ختم ہوجائیں اور اس میں میوہ خلاصی پا جائے۔ (یعنی عادتاً آفات کا وقت گزر جائے اور حفاظت کا وقت شروع ہوجائے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38954]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38954، ترقيم محمد عوامة 37354)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37355 ترقیم الشثری: -- 38955
٣٨٩٥٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابي البختري قال: سالت ابن عباس عن بيع النخل فقال: نهى النبي ﷺ عن بيع النخل حتى ياكل منه او يؤكل منه وحتى يوزن، قلت: وما يوزن؟ فقال رجل عنده: حتى يحرز (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٥٠)، ومسلم (١٥٣٧).
حضرت ابو الجری فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجوروں کی بیع کے متعلق سوال کیا؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع کیا یہاں تک کہ آدمی اس میں سے کھائے یا (فرمایا) وہ کھائی جاسکے۔ اور یہاں تک کہ وہ وزن کی جاسکے۔ میں نے پوچھا۔ اس کے وزن کئے جانے سے کیا مراد ہے؟ تو ان کے پاس بیٹھے ایک آدمی نے جواب دیا: یہاں تک کہ وہ محفوظ ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38955]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38955، ترقيم محمد عوامة 37355)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37356 ترقیم الشثری: -- 38956
٣٨٩٥٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن انس قال: نهى النبي ﷺ عن بيع ثمر النخل حتى يزهو، فقيل لانس: ما زهوه؟ قال: يحمر او يصفر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٩٨)، ومسلم (١٥٥٥).
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا یہاں تک اس کی نشوو نما ہوجائے۔ حضرت انس سے پوچھا گیا کہ اس کی نشو و نما کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ سُرخ یا پیلا ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38956]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38956، ترقيم محمد عوامة 37356)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37357 ترقیم الشثری: -- 38957
٣٨٩٥٧ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: حدثنا القاسم ومكحول عن ابي امامة ان النبي ﷺ (نهى) (١) عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]
(٢) ضعيف؛ للتردد في ابن يزيد هل هو ابن جابر أو ابن تميم، وأخرجه الطبراني (٧٥٩٢)، وانظر: المطالب العالية (١٤٠٢).

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بد و صلاح سے قبل پھلوں کی بیع کرنے سے منع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38957]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38957، ترقيم محمد عوامة 37357)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37358 ترقیم الشثری: -- 38958
٣٨٩٥٨ - حدثنا يعلى بن عبيد حدثنا فضيل بن غزوان عن ابن ابي (نعم) (١) عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ نهى عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (نعيم).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٣٨)، وأحمد (٧٥٥٩).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدو صلاح سے قبل پھلوں کی فروخت سے منع فرمایا ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس کو کچا بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ بات حدیث کے خلاف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38958]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38958، ترقيم محمد عوامة 37358)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں