🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يأخذ من ماله إلا أن يكون محتاجا فينفق عليه
والد کا اپنی اولاد کے مال میں سے اپنی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37371 ترقیم الشثری: -- 38971
٣٨٩٧١ - حدثنا هشيم عن عبد العزيز بن صهيب عن انس بن مالك قال: قدم ناس من عرينة المدينة (فاجتووها) (١) فقال لهم النبي ﷺ:"إن شئتم ان تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من ابوالها والبانها فافعلوا" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: أصابهم مرض في أجوافهم.
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٨٥)، ومسلم (١٦٧١).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیا ن فرماتے ہیں کہ عرینہ سے کچھ لوگ مدینہ میں حاضر ہوئے۔ تو انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اگر تم صدقہ کے اونٹوں کی طرف نکلنا اور ان کا دودھ اور پیشاب پینا چاہتے ہو تو ایسا کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38971]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38971، ترقيم محمد عوامة 37371)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37372 ترقیم الشثری: -- 38972
٣٨٩٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن حجاج بن ابي عثمان قال: حدثنا ابو رجاء مولى ابي قلابة عن ابي قلابة عن انس ان نفرا من عكل ثمانية قدموا على النبي ﷺ فبايعوه على الإسلام فاستوخموا الارض وسقمت اجسامهم، فشكوا ذلك إلى النبي ﷺ فقال:"الا تخرجون مع راعينا في إبله فتصيبوا من ابوالها والبانها"، قالوا: بلى، فخرجوا فشربوا من ابوالها والبانها (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٩٣)، ومسلم (١٦٧١).
حضرت انس سے روایت ہے کہ عکل سے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ انہیں مدینہ کی زمین موافق نہ آئی اور ان کے جسم بیمار ہوگئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں نہیں چلے جاتے تاکہ تم اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! پس وہ لوگ چلے گئے اور انہوں نے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کو پیا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: وہ اونٹوں کے پیشاب کو مکروہ جانتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38972]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38972، ترقيم محمد عوامة 37372)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں