🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. (ما جاء) في غزوة (ذى) قرد
غزوہ ذی قرد کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38157 ترقیم الشثری: -- 39777
٣٩٧٧٧ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : (حدثنا) (٢) هاشم بن القاسم (ابو) (٣) (النضر) (٤) قال: (حدثنا) (٥) عكرمة بن عمار قال: حدثني إياس بن سلمة ⦗١٠٤⦘ عن ابيه قال: قدمت المدينة (من) (٦) الحديبية مع النبي ﷺ، فخرجت انا ورباح غلام (رسول الله ﷺ، بعثه رسول الله ﷺ مع الإبل وخرجت معه بفرس طلحة) (٧) (ابديه) (٨) مع الإبل. فلما كان بغلس اغار عبد الرحمن بن عيينة على ابل رسول الله ﷺ فقتل (راعيها) (٩) وخرج يطرد بها هو واناس معه في خيل، فقلت: يا رباح، اقعد على هذا الفرس فالحقه بطلحة واخبر رسول الله ﷺ انه قد اغير على سرحه، قال: فقمت على تل وجعلت وجهي من قبل المدينة ثم ناديت ثلاث مرات: يا صباحاه. ثم اتبعت القوم معي سيفي ونبلي فجعلت ارميهم واعقر بهم، وذاك حين يكثر (الشجر) (١٠) ، قال: فإذا رجع إلي فارس جلست له في اصل شجرة ثم رميت فلا يقبل علي فارس إلا عقرت به، فجعلت ارميهم واقول: انا ابن الاكوع … (واليوم) (١١) يوم الرضع (فالحق برجل فارميه وهو على رحله فيقع سهمي في الرجل، حتى انتظمت كتفه قلت: خذها) (١٢) : (انا ابن الاكوع … واليوم يوم الرضع) (١٣) ⦗١٠٥⦘ فإذا كنت في الشجرة احرقتهم بالنبل، وإذا (تضايقت) (١٤) الثنايا علوت الجبل (فرديتهم) (١٥) بالحجارة. فما زال ذلك شاني وشانهم: اتبعهم وارتجز حتى ما خلق الله شيئا من ظهر النبي ﷺ إلا خلفته وراء ظهري، واستنقذته من ايديهم، قال: ثم لم ازل ارميهم حتى القوا اكثر من ثلاثين رمحا واكثر من ثلاثين بردة، يستخفون منها، ولا يلقون من ذلك شيئا إلا جعلت عليه (١٦) (الحجارة) (١٧) وجمعته على طريق رسول الله ﷺ. حتى إذا امتد الضحى اتاهم عيينة بن بدر الفزاري ممدا لهم وهم في ثنية ضيقة، ثم علوت الجبل فانا فوقهم، قال عيينة: ما هذا الذي ارى؟ قالوا: لقينا من هذا البرح، ما (فارقنا) (١٨) (بسحر) (١٩) حتى الآن، واخذ كل شيء في ايدينا وجعله وراء ظهره، فقال عيينة: لولا ان هذا يرى ان وراءه طلبا لقد ترككم، قال: ليقم إليه نفر منكم. فقام إلي نفر منهم اربعة فصعدوا في الجبل، فلما اسمعتهم الصوت قلت لهم: اتعرفوني؟ قالوا: ومن انت؟ قلت: انا ابن الاكوع، والذي كرم وجه محمد (٢٠) لا يطلبني رجل منكم فيدركني، ولا اطلبه فيفوتني، قال رجل منهم: اظن. ⦗١٠٦⦘ قال: فما برحت مقعدي ذاك حتى نظرت إلى فوارس رسول الله ﷺ يتخللون الشجر، وإذا اولهم الاخرم الاسدي، وعلى اثره ابو قتادة فارس رسول الله ﷺ، وعلى اثر ابي قتادة: المقداد الكندي، قال: فولوا المشركين مدبرين، وانزل من الجبل فاعرض للاخرم فآخذ عنان فرسه، قلت: يا اخرم! انذر بالقوم -يعني احذرهم، فإني لا آمن ان يقطعوك، فاتئد حتى يلحق (رسول الله) (٢١)(٢٢) واصحابه، قال: يا سلمة! إن كنت تؤمن بالله واليوم الآخر، وتعلم ان الجنة حق والنار حق فلا تحل بيني وبين الشهادة. قال: فخليت عنان فرسه فيلحق بعبد الرحمن بن عيينة ويعطف عليه عبد الرحمن فاختلفا طعنتين فعقر الاخرم بعبد الرحمن، وطعنه عبد الرحمن فقتله، وتحول عبد الرحمن على فرس الاخرم، (فيلحق) (٢٣) ابو قتادة بعبد الرحمن واختلفا طعنتين فعقر بابي قتادة، وقتله ابو قتادة، وتحول ابو قتادة على فرس الاخرم. ثم إني خرجت اعدو في اثر القوم حتى ما ارى من غبار صحابة النبي ﷺ شيئا، ويعرضون قبل غيبوبة الشمس إلى شعب فيه ماء يقال له: ذو قرد، فارادوا ان يشربوا منه فابصروني اعدو وراءهم، فعطفوا عنه وشدوا في الثنية ثنية ذي (ثبير) (٢٤) وغربت الشمس فالحق (بهم) (٢٥) رجلا فارميه، فقلت: خذها: وانا ابن الاكوع … (اليوم) (٢٦) يوم الرضع ⦗١٠٧⦘ فقال: يا ثكلتني امي اكوعي بكرة، قلت: نعم اي عدو نفسه، وكان الذي رميته بكرة فاتبعته بسهم آخر، فعلق فيه سهمان (وتخلفوا) (٢٧) فرسين. فجئت بهما اسوقهما إلى رسول الله ﷺ وهو على الماء الذي (خلاتهم) (٢٨) عنه (ذي) (٢٩) قرد، فإذا نبي الله ﷺ في (خمسمائة) (٣٠) ، وإذا بلال قد نحر جزورا مما خلفت، فهو (يشوي) (٣١) لرسول الله ﷺ من كبدها وسنامها. فاتيت رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله خلني، فانتخب من اصحابك مائة رجل فآخذ على الكفار بالعشوة فلا يبقى منهم مخبر إلا قتلته، قال:"اكنت فاعلا ذاك يا سلمة؟" قال: نعم، والذي اكرم وجهك، فضحك رسول الله ﷺ حتى رايت نواجذه في ضوء (النار) (٣٢) ، قال: ثم قال:"يقرون الآن بارض غطفان"، فجاء رجل من غطفان قال: مروا على فلان الغطفاني، (فنحر) (٣٣) لهم جزورا، فلما اخذوا يكشطون جلدها راوا غبرة فتركوها وخرجوا هرابا. فلما اصبحنا قال رسول الله ﷺ:"خير فرساننا اليوم ابو قتادة، وخير رجالتنا سلمة"، فاعطاني رسول الله ﷺ سهم الفارس والراجل جميعا، ثم اردفني وراءه على العضباء راجعين إلى المدينة، فلما كان بيننا وبينها قريب من ضحوة وفي القوم رجل من الانصار، كان لا يسبق فجعل ينادي: (هل من مسابق) (٣٤) ، الا رجل ⦗١٠٨⦘ يسابق إلى المدينة، فعل ذلك مرارا، وانا وراء رسول الله ﷺ مردفا، قلت له: (اما) (٣٥) تكرم كريما ولا تهاب شريفا، قال: لا، إلا رسول الله (٣٦) ، قلت: يا رسول (الله) (٣٧) -بابي انت وامي- خلني، (فلاسابق) (٣٨) الرجل، قال:"إن شئت قلت: اذهب إليك"، (فطفر) (٣٩) عن راحلته وثنيت رجلي فطفرت عن الناقة، (ثم) (٤٠) إني ربطت (عليه) (٤١) شرفا او شرفين، يعني استبقيت نفسي، ثم إني (عدوت) (٤٢) حتى الحقه فاصك بين كتفيه بيدي، فقلت: سبقتك والله او كلمة نحوها، قال: فضحك (وقال: (إن) (٤٣) اظن) (٤٤) حتى قدمنا المدينة (٤٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ب]: (ابن).
(٤) في [أ، ب، ق، ع، هـ]: (النصر).
(٥) في [ع]: (أخبرنا).
(٦) في [هـ]: (زمن).
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ، ع، ي].
(٨) أي: أخرج به للبادية، وفي [س، ع]: (أنديه)، وفي [ي]: (أبذيه).
(٩) في [جـ]: (اعيها).
(١٠) في [أ، ب]: (السخر).
(١١) هكذا في: [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (اليوم).
(١٢) سقط من: [ع].
(١٣) سقط من: [ع].
(١٤) سقط من: [أ، ب].
(١٥) في [جـ]: (فرداتهم).
(١٦) في [هـ]: زيادة (آرامًا من).
(١٧) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ي].
(١٨) في [أ، ب]: (فارقت).
(١٩) في [أ، ب]: (السجر)، وفي [جـ]: (بشجر).
(٢٠) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [ع]: (برسول اللَّه).
(٢٢) سقط من: [ق، هـ].
(٢٣) في [جـ، ع]: (فلحق).
(٢٤) في [ط، ع]: (تبير)، وفي [هـ]: (بئر).
(٢٥) في [ع]: (منهم).
(٢٦) في [هـ]: (واليوم).
(٢٧) في [ع]: (ويخلفوا).
(٢٨) في [س، ق، ع، ي]: (جلاتهم)، وفي [هـ]: (جلينهم).
(٢٩) في [ع]: (ذو).
(٣٠) في [س]: (خمس ماية).
(٣١) في [أ، ب]: (نشوي).
(٣٢) في [ب، س]: (النيار)، وفي [هـ]: (النهار).
(٣٣) في [جـ]: (نحر).
(٣٤) في [أ، ب]: (هل يسابق).
(٣٥) في [ع]: (الماء).
(٣٦) في [أ، ب، س، ي]: زيادة ﷺ.
(٣٧) سقط من: [ط، ق، هـ].
(٣٨) في [ب]: (فلأسايق).
(٣٩) في [ي]: (فظفر).
(٤٠) سقط من: [ع].
(٤١) في [ق، هـ]: (عليها).
(٤٢) في [أ، ب]: (غدوت).
(٤٣) في [ع]: (أني).
(٤٤) في [أ، ب، جـ، ع، ي]: (إن أظن وقال).
(٤٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٧)، وابن حبان (٧١٧٥) من طريق المؤلف، وأخرجه أحمد ٤/ ٥٢ (١٦٥٣٩).

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں صلح حدیبیہ کے دنوں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ میں آیا تھا۔ پس (ایک مرتبہ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلام حضرت رباح باہر نکلے۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رباح کو اونٹوں کے ہمرا ہ بھیجا اور میں ان کے ساتھ حضرت طلحہ کا گھوڑا لے کر نکلا اور اونٹوں کے ساتھ میں گھوڑے کو ایڑ لگاتا رہا۔ پس جب صبح کا اندھیرا (چھایا ہوا) تھا تو عبد الرحمان بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کردیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کردیا۔ اور وہ اس کے ساتھ جو گھڑ سوار لوگ تھے وہ اونٹوں کو لے گئے۔ میں نے کہا۔ اے رباح! اس گھوڑے پر بیٹھ جاؤ اور یہ حضرت طلحہ تک پہنچا دو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دے دو کہ ان پر حملہ ہوگیا ہے۔ ٢۔ سلمہ کہتے ہیں: پھر میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوگیا اور اپنا منہ مدینہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ آواز لگائی۔ یا صباحاہ! اس کے بعد ان لوگوں کے پیچھے چل نکلا۔ میرے پاس میری تلوار اور تیر تھے۔ پس میں نے ان کی طرف تیر پھینکنے شروع کیے اور ان کو زخمی کر کے روکنے لگا۔ اور یہ بات تب ہوتی جب درخت زیادہ ہوتے… کہتے ہیں: جب میری طرف کوئی سوار آتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتا اور پھر تیر اندازی کرتا۔ چناچہ کوئی سوار میری طرف نہ بڑھتا مگر یہ کہ میں اس کو زخمی کر کے روک دیتا میں ان پر تیر برساتا اور یہ کہتا۔ میں ابن الاکوع ہوں اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ ٣۔ پھر میں ایک آدمی کے پاس پہنچا تو میں نے اس کو تیر مارا جبکہ وہ اپنی سواری پر تھا۔ میرا تیر اس آدمی کو لگا یہاں تک کہ وہ اس کے کندھے میں پیوست ہوگیا۔ میں نے کہا۔ اس کو پکڑ۔ اور میں ابن الاکوع ہوں۔ اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ ٤۔ جب میں درختوں (کے جھرمٹ) میں ہوتا تو میں ان لوگوں پر خوب تیر اندازی کرتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہوجاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر پھینکتا۔ میری اور ان کی یہی حالت رہی کہ میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور رجزیہ اشعار پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواریوں میں سے جو کچھ پیدا کیا ہو اتھا میں اس سب کو اپنے پیچھے چھوڑ آیا اور میں نے اس کو حملہ آوروں سے چھڑا لیا۔ ٥۔ سلمہ کہتے ہیں: پس میں ان پر تیر اندازی کرتا رہا یہاں تک کہ تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں گرا دیں جن کو وہ ہلکا (گھٹیا) سمجھتے تھے۔ وہ جو کچھ بھی پھینکتے تھے میں ان پر پتھروں کو رکھ دیتا تھا۔ اور میں اس کو رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ پر جمع کردیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چاشت کا وقت ہوا تو حملہ آوروں کے پاس عیینہ بن بدر فزاری مدد کرنے کے لئے آپہنچا اور یہ لوگ ایک تنگ گھاٹی میں تھے۔ میں پہاڑ پر چڑھ گیا چناچہ میں ان سے بلند ہوگیا۔ عیینہ نے کہا میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ حملہ آوروں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ مصیبت چمٹی ہوئی ہے۔ صبح سے ابھی تک اس نے ہما را ساتھ نہیں چھوڑا۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ اس نے ہم سے لے لیا ہے اور اس کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر عیینہ نے کہا۔ اگر اس کو اپنے پیچھے سے کسی طلب (کمک) کا خیال نہ ہوتا تو البتہ یہ تمہیں چھوڑ دیتا۔ عیینہ نے کہا۔ تم میں سے ایک جماعت اس کی طرف (لڑنے کے لئے) اٹھنی چاہیے۔ چناچہ میری جانب ایک جماعت اٹھی جس میں چار افراد تھے۔ انہوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا پس جب وہ میری آواز کے قریب پہنچے تو میں نے ان سے کہا۔ کیا تم مجھے جانتے ہو؟ انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ مں پ نے جواب دیا۔ میں ابن الاکوع ہوں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد کے چہرے کو عزت بخشی تم میں سے کوئی آدمی مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا اور میں جس کو پکڑنا چاہوں وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے بھی یہی گمان ہے۔ ٦۔ سلمہ کہتے ہیں: پھر میں اپنی اسی جگہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سواروں کو درختوں کے درمیان سے دیکھا کہ ان کے اول میں اخرم اسدی ہیں اور ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہسوار حضرت ابو قتادہ تھے اور ابو قتادہ کے پیچھے مقداد کندی تھے۔ سلمہ کہتے ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ میں پہاڑ سے اترا اور حضرت اخرم کے پاس پہنچا اور میں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ میں نے کہا۔ اے اخرم! ان لوگوں سے ڈرو (یعنی ابھی رک جاؤ) کیونکہ مجھے اس بات پر امن نہیں ہے کہ یہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے۔ پس تم رکو یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ (ہم تک) پہنچ جائیں۔ اخرم نے کہا۔ اے سلمہ! اگر تم [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39777]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39777، ترقيم محمد عوامة 38157)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38158 ترقیم الشثری: -- 39778
٣٩٧٧٨ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن ابي بكر بن ابي الجهم بن (صخير) (٢) العدوي عن عبيد الله بن عبد الله بن (عتبة) (٣) عن ابن عباس قال: ⦗١٠٩⦘ صلى رسول الله ﷺ صلاة الخوف بذي قرد ارض من (ارض) (٤) بني سليم، فصف الناس خلفه صفين: صف خلفه، وصف (موازي) (٥) العدو، فصلى بالصف الذي يليه ركعة، ثم نهض هؤلاء إلى مصاف هؤلاء، وهؤلاء إلى مصاف هؤلاء، فصلى بهم ركعة (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (صخيرة).
(٣) في [ع]: (عبتة).
(٤) في [ع]: (أرضًا).
(٥) في [ع]: (يوازي).
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠٦٣)، وابن حبان (٢٨٧١)، والحاكم ١/ ٣٣٥، والنسائي ٣/ ١٦٩، وعبد الرزاق (٤٢٥١)، وابن خزيمة (١٣٤٤)، والطحاوي ١/ ٣٠٩، والطبري ٥/ ٢٤٨، والبيهقي ٣/ ٢٦٢.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ذی قرد میں … بنو سلیم کے علاقہ میں …نماز خوف ادا فرمائی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لوگوں نے دو صفیں بنالیں۔ ایک صف نے آپ کے پیچھے (پہلے ایک رکعت) نماز پڑھی اور ایک صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صف کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39778]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39778، ترقيم محمد عوامة 38158)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38159 ترقیم الشثری: -- 39779
٣٩٧٧٩ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن الركين (الفزاري) (٢) عن القاسم بن حسان عن زيد بن ثابت ان رسول الله ﷺ صلى صلاة الخوف -فذكر مثل حديث ابن عباس (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (الفزازي).
(٣) حسن؛ القاسم بن حسان صدوق، أخرجه أحمد (٢١٥٩٣)، وابن خزيمة (١٣٤٥)، وابن حبان (٢٨٧٠)، وعبد الرزاق (٤٢٥٠)، والطحاوي ١/ ٣١٠، والطبراني (٤٩١٩)، والبيهقي ٣/ ٢٦٢.

حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز خوف ادا فرمائی … پھر اس کے بعد حضرت زید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت بیان فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39779]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39779، ترقيم محمد عوامة 38159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں