🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. ما (حفظ) أبو بكر في غزوة تبوك
غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38160 ترقیم الشثری: -- 39780
٣٩٧٨٠ - حدثنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب (بن مالك) (١) عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا اراد غزوة (ورى) (٢) بغيرها ⦗١١٠⦘ حتى كان غزوة تبوك، سافر رسول الله ﷺ في حر شديد واستقبل سفرا بعيدا، فجلى للمسلمين عن امرهم واخبرهم بذلك ليتاهبوا اهبة (عدوهم) (٣) واخبرهم بالوجه الذي يريد (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (وسمى).
(٣) في [ع]: (غدوهم).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٩)، ومسلم (٢٧٦٩).

حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی عادت یہ تھی کہ) جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے کے ساتھ توریہ فرما لیتے حتی کہ غزوہ تبوک پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک کا سفر سخت گرمی میں کیا اور اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دور جگہ جانا تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کے معاملہ (یعنی غزوہ) کے بارے میں وضاحت فرما دی اور انہیں اس کی خبر دے دی تاکہ لوگ دشمن کے سامان کی شایان شان تیاری کرلیں۔ اور جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو بتادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39780]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39780، ترقيم محمد عوامة 38160)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38161 ترقیم الشثری: -- 39781
٣٩٧٨١ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن العباس ابن سهل بن سعد الساعدي عن ابي حميد الساعدي قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه اوسلم عام تبوك حتى (جئنا) (٣) وادي القرى، وإذا امراة في حديقة لها، (فقال) (٤) رسول الله ﷺ (٥) :"اخرصوا"، (قال) (٦) : (فخرص) (٧) القوم، (وخرص) (٨) رسول الله ﷺ عشرة اوسق، وقال للمراة:"احصي ما يخرج منها حتى ارجع إليك إن شاء الله". (قال) (٩) : فخرج رسول الله ﷺ حتى قدم تبوك، فقال:"إنها ستهب عليكم الليلة ريح شديدة، فلا يقومن (رجل فيها) (١٠) ، فمن كان له بعير فليوثق عقاله"، قال: قال ابو حميد: فعقلناها، فلما كان من الليل هبت ريح شديدة، فقام ⦗١١١⦘ فيها رجل فالقته في (جبلي) (١١) طيء. ثم جاء رسول الله ﷺ إلى ملك ايلة، فاهدى إلى رسول الله ﷺ بغلة بيضاء، فكساه رسول الله ﷺ بردا، (وكتب) (١٢) له رسول الله ﷺ (١٣) ببحرهم، قال: ثم اقبل واقبلنا معه حتى جئنا وادي القرى، فقال (للمراة) (١٤) :"كم حديقتك؟" قالت: عشرة اوسق، خرص رسول الله ﷺ. (قال) (١٥) (رسول الله) (١٦) ﷺ (١٧) :"إني متعجل فمن احب منكم ان يتعجل فليفعل"، قال: فخرج رسول الله ﷺ وخرجنا معه، حتى إذا (اوفى) (١٨) على المدينة قال:"هذه طابة"، فلما راى احدا قال:"هذا جبل يحبنا ونحبه" (١٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [س]: (جاء)، وفي [ط]: (أتى).
(٤) في [ب، جـ، ع، ي]: (قال).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [أ]: (فحرض).
(٨) في [أ، ب]: (وحرض).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) في [جـ، ع، ي]: (فيها رجل).
(١١) في [ق، هـ]: (جبل).
(١٢) في [ع]: (فكتب).
(١٣) سقط من: [ع].
(١٤) سقط من: [ع].
(١٥) في [ع]: (فقال).
(١٦) في [أ، ب]: (يا رسول اللَّه).
(١٧) سقط من: [ع].
(١٨) في [ع]: (وافا).
(١٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٤٨١)، ومسلم (١٣٩٢).

حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تبوک کے سال (غزوہ کے لئے) نکلے یہاں تک کہ جب ہم وادی قُریٰ میں پہنچے تو ایک عورت (کو ہم نے دیکھاجو) اپنے باغ میں کھڑی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا: ”(کھجوروں کا) اندازہ لگاؤ۔“ راوی کہتے ہیں۔ لوگوں نے (کھجوروں کا) اندازہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کھجوروں کا اندازہ لگایا اور دس وسق کا اندازہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت سے فرمایا: ”ان کھجوروں سے جتنی (زکوۃ) نکلتی ہے اس کا حساب کرلینا۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک میں تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”آج کی رات تم پر شدید ہوا چلے گی۔ پس کوئی آدمی اس ہوا میں کھڑا نہ ہو۔ اور جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس اونٹ کی رسی باندھ دے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوحمید بیان کرتے ہں ز۔ ہم نے اونٹوں کو باندھ لیا۔ پس جب رات ہوئی تو خوب تیز ہوا چلی۔ اور اس ہوا میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا نے اس کو طَیْ کے دو پہاڑوں میں دے مارا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شاہ ایلہ حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک چادر عطا فرمائی اور اس کو ان کے سمندر کے بارے میں تحریر لکھ دی۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم وادی قُریٰ میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا۔ تمہارے باغ (کی زکوۃ کتنی) ہے؟ عورت نے جواب دیا۔ آپ کے اندازہ کے مطابق دس وسق ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو جلدی چلوں گا۔ تم میں سے جو آدمی جلدی چلنا چاہے وہ بھی (میرے ساتھ) چلے“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے سامنے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاکیزہ جگہ ہے“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احدپہاڑ کو دیکھا تو فرمایا ”یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39781]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39781، ترقيم محمد عوامة 38161)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38162 ترقیم الشثری: -- 39782
٣٩٧٨٢ - حدثنا خالد بن مخلد (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن عبد العزيز الانصاري قال: حدثني ابن شهاب قال: حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك (٢) عن ابيه كعب قال: إن رسول الله ﷺ لما هم ببني الاصفر ان (يغزوهم) (٣) (جلى) (٤) ⦗١١٢⦘ للناس امرهم؟ وكان قل ما اراد غزوة إلا ورى عنها بغيرها، حتى كانت (تلك) (٥) الغزوة، فاستقبل حرا شديدا وسفرا (بعيدا) (٦) وعدوا (حديدا) (٧) ، فكشف للناس الوجه الذي (خرج) (٨) بهم إليه ليتاهبوا اهبة (عدوهم) (٩) . فتجهز رسول الله ﷺ وتجهز الناس معه، (وطفقت) (١٠) اغدو لاتجهز فارجع ولم اقض شيئا؛ حتى فرغ الناس وقيل: إن رسول الله ﷺ غاد وخارج إلى وجهه، فقلت: (اتجهز) (١١) بعده (بيوم) (١٢) او (يومين) (١٣) ثم ادركهم، وعندي راحلتان، ما اجتمعت عندي راحلتان (قط قبلهما) (١٤) فانا قادر في نفسي، قوي بعدتي. فما زلت اغدو بعده وارجع ولم اقض شيئا حتى امعن القوم واسرعوا، وطفقت اغدو للحديث، (وشغلني) (١٥) (الرجال) (١٦) ، فاجمعت القعود حتى سبقني القوم، وطفقت اغدو فلا ارى ( (الاسي) (١٧) ، لا ارى) (١٨) إلا رجلا ممن عذر الله او رجلا مغموصا عليه في النفاق، فيحزنني ذلك، فطفقت اعد العذر ⦗١١٣⦘ لرسول الله ﷺ إذا (جاء) (١٩) واهيئ الكلام. وقدر (برسول) (٢٠) الله ﷺ ان لا يذكرني حتى نزل تبوك، فقال في الناس بتبوك وهو جالس:"ما فعل كعب بن مالك؟" فقام إليه رجل من قومي فقال: شغله برداه والنظر في عطفيه، (قال) (٢١) : فتكلم رجل آخر فقال: والله -يا رسول الله- إن علمنا (٢٢) إلا خيرا، (فصمت) (٢٣) رسول الله ﷺ. فلما قيل: إن رسول الله ﷺ (قد اظل) (٢٤) قادما (زاغ) (٢٥) عني الباطل وما كنت اجمع من الكذب والعذر، وعرفت انه لن ينجيني منه إلا الصدق، فاجمعت صدقه. وصبح رسول الله ﷺ المدينة فقدم، فغدوت إليه فإذا هو في الناس جالس في المسجد، وكان إذا قدم من سفر دخل المسجد [ (فركع) (٢٦) فيه ركعتين، ثم دخل على اهله فوجدته جالسا في المسجد] (٢٧) ، فلما نظر إلي دعاني فقال:"هلم يا كعب ما خلفك عني؟" وتبسم تبسم المغضب قال: قلت: يا رسول الله لا عذر لي، ما كنت قط اقوى ولا ايسر مني حين تخلفت عنك، وقد (جاءه) (٢٨) المتخلفون يحلفون فيقبل منهم ويستغفر لهم ويكل سرائرهم في ذلك إلى الله ﷿، فلما صدقته قال:"اما هذا فقد صدق، فقم حتى يقضى الله فيك ما هو قاض". ⦗١١٤⦘ فقمت فقام إلي رجال من بني سلمة فقالوا: والله ما صنعت شيئا، والله (٢٩) (إن) (٣٠) كان (لكافيك) (٣١) من ذنبك الذي اذنبت استغفار رسول الله ﷺ لك كما صنع (٣٢) ذلك (لغيرك) (٣٣) ، (فقد) (٣٤) قبل منهم عذرهم واستغفر لهم، فما زالوا يلومونني حتى هممت ان ارجع فاكذب نفسي، ثم قلت لهم: هل قال هذه المقالة (احد) (٣٥) او (اعتذر) (٣٦) بمثل ما اعتذرت به؟ قالوا: نعم، قلت: من؟ قالوا: هلال بن امية الواقفي، (وربيعة بن مرارة العمري) (٣٧) ، (وذكروا) (٣٨) لي رجلين صالحين قد شهدا بدرا قد اعتذرا بمثل الذي اعتذرت به، (وقيل) (٣٩) لهما مثل الذي قيل لك. قال: ونهى رسول الله ﷺ عن كلامنا فطفقنا نغدو في الناس، لا يكلمنا احد ولا يسلم علينا احد ولا يرد علينا سلاما، حتى إذا (وفت) (٤٠) اربعون ليلة جاءنا ⦗١١٥⦘ (رسول) (٤١) رسول الله ﷺ ان اعتزلوا نساءكم، فاما هلال بن امية فجاءت امراته إلى رسول الله فقالت له: إنه شيخ قد ضعف بصره فهل تكره ان اصنع له طعامه؟ قال:"لا، ولكن لا يقربنك"، قالت: إنه والله ما به حركة إلى شيء، والله ما زال يبكي منذ كان من امره ما كان إلى (يومه) (٤٢) هذا. قال: فقال لي بعض اهلي: لو استاذنت رسول الله ﷺ في امراتك كما استاذنت امراة هلال بن امية فقد اذن لها ان تخدمه، قال: (فقلت) (٤٣) : (والله) (٤٤) لا استاذنه فيها، وما ادري ما يقول (٤٥) رسول الله ﷺ إن استاذنته، وهو شيخ كبير وانا رجل شاب، فقلت لامراتي: الحقي باهلك حتى يقضي الله ما هو قاض. وطفقنا نمشي في الناس ولا يكلمنا احد ولا يرد علينا سلاما، قال: فاقبلت حتى تسورت جدارا لابن عم لي في حائطه، فسلمت فما حرك شفتيه يرد علي السلام، فقلت: انشدك (بالله) (٤٦) اتعلم اني احب الله ورسوله؟ فما كلمني كلمة، ثم (عدت) (٤٧) فلم يكلمني حتى إذا كان في الثالثة او الرابعة قال: الله ورسوله اعلم، فخرجت. فإني لامشي في السوق إذا الناس يشيرون (إلي) (٤٨) بايديهم، وإذا نبطي من نبط الشام يسال عني، فطفقوا يشيرون له إلي حتى جاءني فدفع إلي كتابا من بعض ⦗١١٦⦘ قومي بالشام: انه قد بلغنا ما صنع بك صاحبك وجفوته عنك فالحق بنا، فإن الله لم يجعلك بدار هوان ولا دار مضيعة، (نواسك) (٤٩) في اموالنا، قال: قلت: إنا لله (٥٠) ، قد طمع في اهل الكفر، فيممت به تنورا فسجرته (به) (٥١) . فوالله (إني) (٥٢) لعلى تلك الحال التي قد ذكر الله، قد ضاقت علينا الارض بما رحبت، وضاقت علينا انفسنا، (صباحية) (٥٣) خمسين ليلة (منذ) (٥٤) نهي عن كلامنا، انزلت التوبة على رسول الله ﷺ، (ثم آذن رسول الله ﷺ) (٥٥) بتوبة الله علينا حين صلى الفجر. فذهب الناس يبشروننا، وركض رجل إلي فرسا وسعى ساع من اسلم (فاوفى) (٥٦) على الجبل، وكان الصوت اسرع من الفرس، فنادى: يا كعب بن مالك ابشر، فخررت ساجدا وعرفت ان قد جاء الفرج، فلما جاءني الذي سمعت صوته (خففت) (٥٧) له ثوبين ببشراه، والله ما املك يومئذ ثوبين غيرهما واستعرت ثوبين. فخرجت قبل رسول الله ﷺ (فلقيني) (٥٨) الناس فوجا فوجا (يهنئونني) (٥٩) بتوبة الله علي حتى دخلت المسجد، فقام إلي طلحة بن عبيد الله يهرول حتى ⦗١١٧⦘ (صافحني) (٦٠) وهناني، ما قام إلي من المهاجرين غيره، فكان كعب لا ينساها لطلحة. ثم اقبلت حتى وقفت على رسول الله ﷺ كان وجهه قطعة قمر، (و) (٦١) كان إذا سر (استنار) (٦٢) وجهه كذلك، فناداني:"هلم يا كعب ابشر بخير يوم مر عليك منذ ولدتك امك"، قال: (فقلت) (٦٣) : امن عند الله (ام) (٦٤) من عندك؟ قال:"لا، بل من عند الله، إنكم صدقتم الله (فصدقكم) (٦٥) (٦٦) "، قال: (قلت) (٦٧) : إن من توبتي اليوم ان اخرج من مالي صدقة إلى الله (وإلى رسوله) (٦٨) ، قال (رسول الله ﷺ) (٦٩) :"امسك عليك بعض مالك"، قلت: امسك سهمي بخيبر، قال كعب: فوالله ما ابلى الله رجلا في صدق الحديث ما ابلاني (٧٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: زيادة (حدثني عبد اللَّه بن كعب بن مالك).
(٣) في [أ، ب]: (يقروهم).
(٤) في [ع]: (حكى).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [هـ]: (جديدًا).
(٨) في [أ، ب]: (جرى)، وفي [ط، ق، هـ]: (يخرج).
(٩) في [ع]: (غزوهم).
(١٠) في [س]: (وطننت).
(١١) في [ع]: (تجهز).
(١٢) في [ع]: (يومًا).
(١٣) في [جـ]: (بيومين).
(١٤) في [ع]: (قلبهما قط).
(١٥) في [س، ي]: (ويشغلني)، وفي [ع]: (تشغلني).
(١٦) في [س، ط، هـ]: (الرحال).
(١٧) في [جـ]: (شيء)، وفي [ق]: (شيئًا)، وفي [ي]: (الأسى).
(١٨) سقط من: [س].
(١٩) في [ع]: (جاه).
(٢٠) في [ب، ط، هـ]: (رسول).
(٢١) سقط من: [ع].
(٢٢) في [ق، هـ]: زيادة (عليه).
(٢٣) في [أ، ب]: (وصمت).
(٢٤) سقط من: [ع].
(٢٥) في [ق، هـ]: (زاح).
(٢٦) في [ي]: (ركع).
(٢٧) ما بين المعكوفين سقط من: [جـ، ق].
(٢٨) في [جـ]: (جا).
(٢٩) في [ق]: زيادة (قال).
(٣٠) في [ع]: (لئن).
(٣١) في [ع]: (كافيك).
(٣٢) في [أ، ب]: زيادة (لك).
(٣٣) في [جـ]: (بغيرك).
(٣٤) في [أ، ب]: (وقد).
(٣٥) في [أ، ب، جـ، ي]: (أحدًا).
(٣٦) في [أ، جـ]: (واعتذر).
(٣٧) في [أ، ب]: (ربيعة بن بدار العمري)، وفي [هـ]: (سرارة بن ربيعة العامري)، وفي [جـ]: (ربيعة بن مرارة اليعمري)، وفي [ق]: (مرارة بن الربيع العامري)، وفي [ع]: (ربعية بن مرار العمري)، والذي في البخاري: (مرارة بن الربيع العمري)، وعند مسلم: (العامري)، والمثبت موافق لما في المعجم الكبير ١٩/ (٩٥).
(٣٨) في [أ، ب]: (فذكروا).
(٣٩) في [أ، ب]: (فقيل).
(٤٠) في [ق، هـ]: (مضت).
(٤١) سقط من: [أ، ط، هـ]، وفي [ق]: زيادة (أمر).
(٤٢) في [هـ]: (يوم).
(٤٣) في [ع]: (قلت).
(٤٤) في [ع]: (فواللَّه).
(٤٥) في [ي]: زيادة (فيها).
(٤٦) في [ع]: (اللَّه).
(٤٧) في [أ، ب، ق]: (عددت).
(٤٨) سقط من: [ع].
(٤٩) في [ع]: (نواسيك).
(٥٠) في [هـ]: زيادة (وإنا إليه راجعون).
(٥١) في [س، ع]: (بها).
(٥٢) في [جـ]: (إنه).
(٥٣) في [ق]: (صباح)، وفي [س]: (صباحته)، وفي [أ، هـ]: (صاحبته).
(٥٤) في [أ، ب، س، ي]: (مذ)، وفي [ق، هـ]: (من).
(٥٥) سقط من: [ي].
(٥٦) في [ع]: (فأوفى).
(٥٧) في [ي]: (خفضت)، وفي [س]: (خصصت)، وفي [هـ]: (خصضت).
(٥٨) في [ع]: (فلقاني).
(٥٩) في [ع]: (يهنئوني).
(٦٠) في [ع]: (صالحني).
(٦١) سقط من: [هـ].
(٦٢) في [ع]: (استنات).
(٦٣) في [ع]: (قلت).
(٦٤) في [ع]: (أو).
(٦٥) في [أ، ب]: (وصدقكم).
(٦٦) في [ع]: زيادة (اللَّه).
(٦٧) في [ق، هـ]: (فقلت).
(٦٨) في [ع]: (ورسوله).
(٦٩) سقط من: [ع].
(٧٠) حسن؛ خالد بن مخلد صدوق، وعبد الرحمن سمع من جده، والحديث أخرجه البخاري (٤٦٧٦)، ومسلم (٢٧٦٩).

حضرت عبد الرحمان بن عبد اللہ بن کعب بن مالک، اپنے والد حضرت کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بنو الاصفر کا ارادہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ لڑائی کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے ان کے معاملہ کو کھول کر بیان فرمایا… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جب بھی کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے سفر سے توریہ فرما لیتے … تاآنکہ یہ غزوہ پیش آیا۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید گرمی، دور کے سفر اور نئے دشمن سے سابقہ پیش آیا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو وہ مقصد کھول کر بیان کردیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں لے کر جا رہے تھے تاکہ مسلمان، دشمن کے شایانِ شان تیاری کرلیں۔ ٢۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیاری فرمائی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تیاری کرلی۔ میں نے صبح کے وقت تیاری کرنا چاہی لیکن میں تیاری نہ کرسکا یہاں تک کہ لوگ (تیار ہو کر) فارغ ہوگئے اور کہا جانے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح ہوتے ہی اپنے سفر پر روانہ ہوجائیں گے۔ میں نے (دل میں) کہا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک دو دن میں تیاری کرلوں گا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پالوں گا۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں۔ جبکہ میرے پاس اس سے پہلے کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں۔ پس میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی قادر تھا اور اپنے زاد راہ کے حوالہ سے بھی قوی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلسل دن گزرتے رہے اور میں کچھ بھی نہ کرسکا یہاں تک کہ لشکر کے لوگ تیزی سے سفر کرنے لگے۔ پھر مجھ پر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے (پیچھے رہنے والوں میں) صرف ایسے آدمی کو دیکھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دے رکھا تھا۔ یا ایسے آدمی کو دیکھا جس کے بارے میں نفاق کا چرچا تھا۔ اس بات نے مجھے بہت غمگین کردیا۔ ٣۔ اب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واپس آجانے کے وقت کے لئے عذر تیار کرنا شروع کیا اور باتیں بنانے کی کوشش شروع کی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی تقدیر پیش آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبوک کے مقام پر پہنچنے تک میری یاد ہی نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا۔ کعب بن مالک نے کیا کیا؟“ میری قوم کے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اسے کچھ چیزوں نے مصروف رکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ ایک دوسرا آدمی بولا اور اس نے کہا۔ خدا کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم تو اچھی بات ہی کو جانتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ ٤۔ پھر جب کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پہنچنے والے ہیں۔ تو مجھ سے ہر باطل اور جو کچھ میں نے جھوٹ، عذر گھڑے تھے وہ سب دور ہوگئے۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ مجھے اس حالت میں صرف سچ ہی نجات دے سکتا ہے۔ چناچہ میں نے سچ کو اکٹھا کیا۔ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ میں) تشریف لائے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور مسجد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی فرماتے تو مسجد میں آتے اور وہاں دو رکعات ادا کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے جاتے۔ چناچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں بیٹھا ہوا پایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا۔ اے کعب! ادھر آؤ تمہیں کس چیز نے میرے ساتھ سے پیچھے رکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ والے آدمی کی طرح مسکرائے۔ کعب کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ میں آپ کے ساتھ سے پیچھے رہنے کے وقت جس قدر وسعت اور قدرت میں تھا اتنا میں کبھی نہیں ہوا۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر قسمیں کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قسموں کا اعتبار کر کے ان کے لئے مغفرت طلب کر رہے تھے۔ اور ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ کی طرف سپرد فرما رہے تھے۔ پس جب مں و نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچ بات کہہ ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رہا یہ آدمی! تو اس نے سچ بولا ہے۔ پس تم کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے وہ کر دے۔“ چناچہ میں (وہاں سے) ا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39782]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39782، ترقيم محمد عوامة 38162)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38163 ترقیم الشثری: -- 39783
٣٩٧٨٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مصعب بن سعد (عن سعد) (١) قال: لما خرج رسول الله ﷺ في غزوة تبوك خلف عليا في النساء والصبيان، فقال: يا رسول الله تخلفني في النساء والصبيان، فقال:"اما ترضى ان ⦗١١٨⦘ تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا انه (لا) (٢) (٣) نبي بعدي" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب]: زيادة (منه).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤١٦)، ومسلم (٢٤٠٤).

حضرت سعد سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لئے بمنزلہ موسیٰ سے ہارون کے ہو، مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39783]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39783، ترقيم محمد عوامة 38163)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38164 ترقیم الشثری: -- 39784
٣٩٧٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون (اخبرنا) (١) سعيد بن ابي عروبة عن موسى عن (الحسن) (٢) (ان) (٣) عثمان اتى رسول الله ﷺ بدنانير في غزوة تبوك، فجعل رسول الله ﷺ (يقلبها) (٤) في حجره (ويقول) (٥) :"ما على عثمان بن عفان ما (عمل) (٦) بعد هذا" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) كذا في النسخ، وفي فضائل الصحابة لأحمد: (يونس) هو ابن عبيد.
(٣) في [أ، ب]: (عن).
(٤) في [أ، ب، ع]: (يقبلها).
(٥) في [ب]: (يقول).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٧٨٧)، وابن عساكر ٣٩/ ٦٩، والخلال في السنة (٤١٧)، وأخرجه الطبراني في الأوسط (٢٠١٣): عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس.

حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت عثمان، غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دینار لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دیناروں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا اور ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور ارشاد فرمایا۔ ”اس (خیر کے کام) کے بعد عثمان بن عفان جو کچھ بھی کرے اس کو نقصان نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39784]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39784، ترقيم محمد عوامة 38164)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38165 ترقیم الشثری: -- 39785
٣٩٧٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون (اخبرنا) (١) حميد عن انس ان رسول الله ﷺ لما رجع من غزوة تبوك ودنا من المدينة قال:"إن بالمدينة لاقواما ما سرتم مسيرا، ولا قطعتم من واد إلا كانوا معكم فيه" قالوا: يا رسول الله وهم بالمدينة؟ [قال:" (نعم) (٢) ] (٣) (وهم بالمدينة) (٤) حبسهم العذر" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٣٨)، وأحمد (١٢٠٢٨).

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”بلاشبہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ تم نے جو بھی سفر کیا یا جو وادی بھی قطع مسافت کی تو وہ لوگ اس میں (ثواب کے اعتبار سے) تمہارے ساتھ شریک تھے۔“ صحابہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ لوگ مدینہ میں تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! وہ مدینہ میں تھے اور ان کو عذر نے (وہاں) روک رکھا تھا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39785]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39785، ترقيم محمد عوامة 38165)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38166 ترقیم الشثری: -- 39786
٣٩٧٨٦ - حدثنا (هشيم) (١) (اخبرنا) (٢) داود بن (عمرو) (٣) عن (بسر) (٤) بن عبيد الله الحضرمي عن ابي إدريس الخولاني (حدثنا) (٥) عوف بن مالك الاشجعي ان رسول الله ﷺ امر بالمسح على الخفين في غزوة تبوك ثلاثة ايام ولياليهن للمسافر، ويوما وليلة للمقيم (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هشام).
(٢) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٣) في [ع]: (عمر).
(٤) في [أ، ب، ع، هـ]: (بشر).
(٥) في [ع]: (أخبرنا).
(٦) حسن؛ داود صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٩٩٥)، والبزار (٢٧٥٧)، والطحاوي ١/ ٨٢، والطبراني ١٨/ (٦٩)، والدارقطني ١/ ١٩٧، والبيهقي ١/ ٢٧٥.

حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں مسافر کے لئے تین دن، رات اور مقیم کے لئے ایک دن رات تک موزوں پر مسح کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39786]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39786، ترقيم محمد عوامة 38166)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38167 ترقیم الشثری: -- 39787
٣٩٧٨٧ - حدثنا جعفر بن عون (اخبرنا) (١) المسعودي عن إسماعيل بن اوسط عن محمد بن ابي كبشة الانماري عن ابيه قال: لما كان في غزوة تبوك سارع (ناس إلى) (٢) اصحاب الحجر، فدخلوا عليهم، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فامر فنودي: إن الصلاة جامعة، قال: فاتيته وهو ممسك ببعيره وهو يقول:"علام تدخلون على قوم غضب الله عليهم؟" (قال) (٣) : فناداه رجل تعجبا (منهم) (٤) : يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"افلا انبئكم بما هو اعجب من ذلك؟ رجل من انفسكم يحدثكم بما كان قبلكم وبما يكون بعدكم، (استقيموا) (٥) (و) (٦) سددوا فإن الله لا يعبا بعذابكم ⦗١٢٠⦘ شيئا، وسياتي الله بقوم لا يدفعون عن انفسهم (بشيء) (٧) " (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (ناسل أفي).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [أ، ب]: (منها).
(٥) في [س]: (تميقوا).
(٦) في [ي]: (أو).
(٧) في [جـ]: (بشيء).
(٨) مجهول؛ محمد بن أبي كبشة مجهول، أخرجه أحمد (١٨٠٢٩)، والطبراني ٢٢/ (٨٥٢)، والدولابي في الكنى ١/ ٥٠، والطحاوي في شرح المشكل (٢٧٤١)، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ٢٣٥.

حضرت محمد بن کبشہ انماری، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (ہم لوگ) جب غزوہ تبوک (میں) تھے تو کچھ لوگ جلدی جلدی اصحاب الحجر (کے کھنڈرات) میں داخل ہونے لگے تو یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تو آواز لگائی گئی۔ ان الصلاۃ جامعۃ … راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ”خدا کی غضب شدہ قوم پر تم کیوں داخل ہوئے؟“ راوی کہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ن سے تعجب میں پڑ کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں؟ ایک آدمی تمہیں میں سے ہے اور وہ تم کو پہلوں کی باتیں بیان کرتا ہے اور آنے والی بھی بیان کرتا ہے۔ استقامت کا مظاہرہ کرو اور سیدھے ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں عذاب دینے میں کسی شئی کی پروا نہیں ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائیں گے جو خود سے کسی شئی کو دور نہیں کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39787]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39787، ترقيم محمد عوامة 38167)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں