🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. حديث عبد الله بن أبى (حدرد) الأسلمي
سیدنا عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38168 ترقیم الشثری: -- 39788
٣٩٧٨٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن (ابن) (١) إسحاق عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن القعقاع بن عبد الله بن ابي حدرد الاسلمي عن ابيه عبد الله بن (ابي) (٢) حدرد قال: بعثنا رسول الله ﷺ في سرية ( (إلى) (٣) إضم) (٤) قال: فلقينا عامر بن الاضبط، قال: فحيا بتحية الإسلام، فنزعنا عنه، وحمل عليه محلم بن جثامة فقتله، فلما قتله سلبه بعيرا له (واهبا) (٥) ، (ومتيعا) (٦) كان له، فلما قدمنا جئنا بشانه إلى رسول الله ﷺ فاخبرناه بامره فنزلت هذه الآية: ﴿ياايها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا (ولا) (٧) (تقولوا) (٨) ...﴾ [النساء: ٩٤] الآية (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أبي).
(٢) هكذا في [ق، هـ]، وسقط من باقي النسخ.
(٣) في [هـ]: (أن).
(٤) في [ع]: (إلى أنعم)، وفي [س]: (إلى أختم).
(٥) في [ع]: (واهب)، وسقط من: [أ، ب، ط، ق، هـ].
(٦) في [ع]: (ومتبع).
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [ع]: زيادة ﴿لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ﴾.
(٩) مجهول؛ لجهالة القعقاع بن عبد اللَّه، أخرجه أحمد (٢٣٨٨١)، وابن هشام ٤/ ٢٧٥، وابن الجارود (٧٧٧)، وابن سعد ٤/ ٢٨٢، وابن جرير في التفسير ٥/ ٢٢٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٣٠٥.

حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اضم کی طرف ایک لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: پس ہم عامر بن اضبط کو ملے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے ہمیں مسلمانوں والا سلام کیا۔ لیکن ہم نے ان سے اسلحہ چھین لیا۔ اور محلم بن جثامہ نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں قتل کردیا۔ پھر جب اس کو قتل کردیا تو اس کا ایک اونٹ، سازوسامان قبضہ کرلیا۔ پس جب ہم واپس آئے تو ہم نے ان کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے معاملہ کی خبر سنائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں جہاد کرلو تو تحقیق کرلو اور ایسے شخص کو جو اسلام کا اظہار کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں ہے۔ ٢۔ ابن اسحق کہتے ہیں۔ مجھے محمد بن جعفر نے زید بن ضمرہ سے روایت کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں … مجھے میرے والد اور چچا نے بیان کیا … اور یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین میں شریک تھے … یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ تو قبیلہ خندف کے سردار حضرت اقرع بن حابس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور یہ محلم کے خون سے مانع بن رہے تھے۔ اور حضرت عیینہ بن حصن کھڑے ہوئے اور عامر بن اضبط قیسی کا خون بہا طلب کرنے لگے … اور یہ اشجعی تھے … راوی کہتے ہیں: مں ل نے عیینہ بن حصن کو کہتے ہوئے سُنا کہ میں اس کی عورتوں کو غم و حزن کی وہ کیفیت ضرور چکھاؤں گا جو اس نے میری عورتوں کو چکھائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تم لوگ دیت قبول کرلو؟ انہوں نے انکار کیا۔ تو بنو لیث میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کو مُکَیْتَلْ کہا جاتا تھا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! خدا کی قسم! میں اسلام کے روشن زمانے میں اس مقتول کو تشبیہ نہیں دوں گا مگر ایسی بکری سے جو بکری کہیں آگئی ہو اور اس کو تیر لگ گیا تو اس نے دوسروں کو بھی بھگا دیا۔ آپ آج کے دن ہی کوئی راستہ متعین کردیں اور کل (آنے والے حالات) کو بدل دیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا: ہمارے اس سفر میں تمہیں پچاس ملیں گے اور پچاس تب ملیں گے جب ہم واپس پلٹ آئیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پس انہوں نے دیت قبول کرلی۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: تم اپنے آدمی کو لے آؤ تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لئے استغفار کریں۔ پس اس آدمی کو لایا گیا۔ راوی اس کی حالت بیان کرتے ہیں کہ اس پر وہی جوڑا تھا جس میں اس نے قتل کیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس سے) پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ ا س آدمی نے جواب دیا: محلَّم بن جثامہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (اور کہا) اے اللہ! محلم بن جثامہ کی مغفرت نہ فرمانا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس شخص نے ہمیں بیان کیا کہ یہ (بد دعاء والی) بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہراً فرمائی تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے تنہائی میں استغفار کیا تھا۔ ٤۔ ابن اسحاق کہتے ہیں۔ عمرو بن عبید نے مجھے حضرت حسن کے حوالہ سے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلم سے کہا۔ تم نے اس کو (پہلے) خدا کے نام پر پناہ دے دی اور پھر اس کو قتل کردیا۔ خدا کی قسم! محلم سات دن بھی نہ رہا کہ مرگیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت حسن کو خدا کی قسم کھاتے ہوئے سُنا کہ: محلم کو تین مرتبہ دفن کیا گیا لیکن ہر مرتبہ زمین اس کو باہر پھینک دیتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: چناچہ لوگوں نے انہیں دو پہاڑوں کے درمیان رکھا اور ان پر بڑے بڑے پتھر رکھ دیئے پھر ان کو درندوں نے کھالیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان صاحب کا معاملہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال خدا کی قسم! زمین تو اس سے بھی زیادہ شریر لوگوں کو چھپا لیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو آپس کی حرمت کے بارے میں خبر دے (اس لئے یہ واقعہ رونما ہوا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39788]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39788، ترقيم محمد عوامة 38168)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39789
٣٩٧٨٩ - قال ابن إسحاق: فاخبرني محمد بن جعفر، عن زيد بن ضميرة، قال: حدثني ابي وعمي - (وكانا) (١) شهدا حنينا مع رسول الله ﷺ، قالا: صلى رسول الله ﷺ الظهر، ثم جلس تحت شجرة فقام (إليه) (٢) (الاقرع) (٣) بن حابس وهو سيد خندف، يرد (عن) (٤) (دم) (٥) محلم، وقام عيينة بن حصن يطلب بدم عامر بن الاضبط القيسي وكان (اشجعيا) (٦) ، قال: فسمعت عيينة بن حصن يقول: لاذيقن نساءه من الحزن مثل ما (ذاق) (٧) نسائي (٨) ، فقال النبي ﷺ:"تقبلون الدية؟" فابوا فقام رجل من بني ليث يقال له: (مكيتل) (٩) (١٠) : والله يا رسول الله (١١) ما شبهت (هذا) (١٢) (القتيل) (١٣) في (غرة) (١٤) الإسلام إلا (كغنم) (١٥) وردت فرميت فنفر ⦗١٢٢⦘ آخرها، (اسلل) (١٦) (اليوم) (١٧) (وغير) (١٨) غدا، قال: فقال النبي ﷺ بيديه:"لكم خمسون في سفرنا هذا، وخمسون إذا رجعنا"، قال: فقبلوا الدية، قال: فقالوا: ائتوا بصاحبكم يستغفر له رسول الله ﷺ (١٩) قال: فجيء به (فوصف) (٢٠) حليته، وعليه (حلة) (٢١) قد تهيا فيها للقتل حتى اجلس بين يدي النبي ﷺ فقال:"ما اسمك؟" (قال) (٢٢) : محلم بن جثامة، فقال النبي ﷺ (بيديه ووصف انه رفعهما) (٢٣) :"اللهم لا تغفر لمحلم بن جثامة"، قال: فتحدثنا بيننا انه إنما اظهر هذا وقد استغفر له في السر (٢٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وكانوا).
(٢) في [ق]: (إليهم).
(٣) في [س]: (الأفذع).
(٤) في [أ، ب]: (على).
(٥) في [ط، هـ]: (أم).
(٦) في [ع]: (أشجعنا).
(٧) في [ق، هـ]: (أذاق).
(٨) في [ع]: زيادة (قال).
(٩) في [أ، ب]: (مكيبل)، وفي [جـ، ق]: (مكتبل)، وفي [س]: (مكيتل).
(١٠) في [ق، هـ]: زيادة (فقال).
(١١) في [ع]: زيادة (واللَّه).
(١٢) في [ع]: (بهذا).
(١٣) في [أ، ب]: (القيل).
(١٤) في [أ]: (عزره)، وفي [ب]: (غزوة)، وفي [ط، هـ]: (عزة).
(١٥) في [س]: (كغم)، وفي [ع]: (لغنم).
(١٦) في [أ، ب]: (أسي)، وفي [ق، هـ]: (أسير).
(١٧) في [أ، ب]: (القوم).
(١٨) في [جـ، س، ع]: (وغد).
(١٩) سقط من: [ع].
(٢٠) في [ق، هـ]: (فوصلت).
(٢١) في [أ، ب]: (جلت).
(٢٢) في [س، ع]: (فقال).
(٢٣) سقط من: [أ، ب].
(٢٤) مجهول؛ لجهالة زيد بن ضميرة، أخرجه أحمد (٢٣٨٧٩)، وابنه (٢١٠٨١)، وأبو داود (٤٥٠٣)، وابن ماجه (٢٦٢٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٧٨)، وابن الجارود (٧٧٧)، والبيهقي ٩/ ١١٦، والطبراني (٥٤٥٧).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39789، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39790
٣٩٧٩٠ - قال ابن إسحاق: فاخبرني عمرو بن عبيد عن الحسن قال: قال له رسول الله ﷺ:"امنته بالله ثم قتلته، فوالله ما مكث إلا سبعا حتى مات محلم"، قال: فسمعت الحسن (يحلف) (١) بالله: لدفن ثلاث مرات كل ذلك (تلفظه) (٢) ⦗١٢٣⦘ الارض، قال: فجعلوه بين (صدى) (٣) جبل (وضموا) (٤) عليه من الحجارة، فاكلته السباع فذكروا امره لرسول الله ﷺ (٥) فقال:"اما والله إن الارض (لتطبق) (٦) على من هو (شر) (٧) منه، ولكن الله اراد ان (يخبركم) (٨) (بحرمتكم) (٩) فيما بينكم" (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يخلف).
(٢) في [ي]: بياض.
(٣) في: [ق، هـ]: (سدي).
(٤) في [هـ]: (ورصوا)، وفي [ص]: (وهموا).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) في [ب]: (ليطبق)، وفي [س]: (التطبين).
(٧) في [ع]: (أشر).
(٨) في [ع]: بياض.
(٩) في [أ]: (لحرمتكم).
(١٠) مرسل؛ الحسن تابعي.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39790، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں