🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38192 ترقیم الشثری: -- 39818
٣٩٨١٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (انيس) (١) بن ابي يحيى عن ابيه عن ابي سعيد الخدري قال: خرج علينا رسول الله ﷺ يوما ونحن في المسجد وهو عاصب ⦗١٣٤⦘ راسه بخرقة في المرض الذي مات فيه، فاهوى قبل المنبر حتى استوى عليه فاتبعناه، (فقال) (٢) :"والذي نفسي بيده إني لقائم على (الحوض) (٣) الساعة"، وقال:"إن عبدا عرضت عليه الدنيا وزينتها فاختار الآخرة"، فلم يفطن (لها) (٤) احد إلا ابو بكر، (فذرفت) (٥) عيناه فبكى (وقال) (٦) : بابي (٧) وامي بل (نفديك) (٨) بآبائنا وامهاتنا (وانفسنا) (٩) واموالنا، قال: (ثم هبط فما قام عليه حتى) (١٠) الساعة ﷺ (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنس).
(٢) في [ع]: (وقال).
(٣) سقط من: [ي].
(٤) في [أ، ب، ق، هـ]: (بها).
(٥) في [س]: (قد رقت).
(٦) في [جـ، ع]: (قال).
(٧) في [هـ]: زيادة (أنت).
(٨) في [هـ]: (نفد بك).
(٩) سقط من: [ي].
(١٠) في [ي]: بياض.
(١١) حسن؛ أبو يحيى صدوق، أخرجه أحمد (١١٨٨٢)، وابن حبان (٦٥٩٣)، والحاكم ٤/ ٢٨٢، وابن سعد ٢/ ٢٣٠، وعبد بن حميد (٩٦٤)، وأبو يعلى (١١٥٥)، وابن عساكر ٣٠/ ٢٤٧.

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں اپنے سر مبارک کو ایک پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی جانب بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں اس وقت حوض کوثر پر کھڑا ہوں“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت کو پیش کیا گیا لیکن اس نے آخرت کو پسند کیا“۔ یہ بات حضرت ابوبکر کے سوا کوئی اور آدمی نہیں سمجھ سکا۔ چناچہ ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اور وہ رونے لگے۔ اور حضرت ابوبکر نے کہا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ بلکہ ہم تو آپ پر اپنے آبائ، امہات، جانیں اور اموال بھی فدا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے تشریف لے آئے۔ پھر (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر (موت تک دوبارہ) تشریف فرما نہیں ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39818، ترقيم محمد عوامة 38192)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38193 ترقیم الشثری: -- 39819
٣٩٨١٩ - حدثنا حاتم عن جعفر عن ابيه قال: لما ثقل النبي ﷺ قال:"اين اكون غدا؟" قالوا: عند فلانة، قال:"اين اكون بعد غد؟" قالوا: عند فلانة، فعرفن ازواجه انه إنما يزيد عائشة، فقلن: يا رسول الله قد وهبنا ايامنا لاختنا عائشة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ أبو جعفر محمد بن علي الباقر تابعي.
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہں ج کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”میں کل کہاں ہوں گا۔؟“ لوگوں نے کہا: فلانی زوجہ کے ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) پوچھا۔ میں اس کے بعد کہاں ہوں گا؟“ لوگوں نے کہا۔ فلانی زوجہ کے پاس۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے معلوم کرلیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے۔ تو تمام ازواج نے کہا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم نے اپنی باریاں اپنی بہن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کردی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39819]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39819، ترقيم محمد عوامة 38193)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38194 ترقیم الشثری: -- 39820
٣٩٨٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن ابي عائشة قال: ⦗١٣٥⦘ حدثني (عبيد الله) (١) بن عبد الله بن عتبة قال: اتيت عائشة فقلت: حدثيني عن مرض رسول الله ﷺ (٢) ، قالت: نعم، مرض رسول الله ﷺ فثقل فاغمي عليه (٣) (فافاق) (٤) (فقال) (٥) :"ضعوا لي ماء في المخضب"، ففعلنا، قالت: فاغتسل (فذهب) (٦) (لينوء) (٧) ، فاغمي عليه، (قالت) (٨) : (ثم افاق) (٩) فقال:"ضعوا لي ماء في المخضب (١٠) "، ففعلنا، قالت: فاغتسل (ثم ذهب) (١١) لينوء، فاغمي عليه، [ (قالت) (١٢) : ثم افاق] (١٣) فقال: ["ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: (قلت: قد) (١٤) (فعلنا) (١٥) ، قالت: فاغتسل ثم ذهب لينوء فاغمي عليه، ثم افاق، فقال] (١٦) :"اصلى الناس بعد؟" فقلنا: لا يا رسول الله هم ينتظرونك، قالت: ⦗١٣٦⦘ والناس عكوف ينتظرون رسول الله ﷺ ليصلي بهم عشاء الآخرة، قالت: فاغتسل (رسول الله ﷺ) (١٧) ، ثم ذهب لينوء فاغمي عليه ثم افاق فقال:"اصلى الناس بعد؟" قلت: لا، فارسل رسول الله ﷺ إلى ابي بكر ان يصلي بالناس، قالت: فاتاه الرسول فقال (١٨) : إن رسول الله ﷺ (١٩) يامرك ان تصلي بالناس، فقال: يا عمر صل بالناس، (قال) (٢٠) : فقال: انت احق، إنما ارسل إليك رسول الله ﷺ، قالت: فصلى بهم ابو بكر تلك (الايام) (٢١) ، ثم إن رسول الله ﷺ (٢٢) وجد خفة من نفسه، فخرج لصلاة الظهر بين العباس ورجل آخر، فقال لهما:"اجلساني (عن يمينه) (٢٣) "، فلما سمع ابو بكر حسه ذهب يتاخر، فامره ان يثبت مكانه، قالت: فاجلساه عن يمينه، فكان ابو بكر يصلي بصلاة رسول الله ﷺ وهو جالس، والناس يصلون بصلاة ابي بكر (٢٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة (قالت).
(٤) في [ع]: (فاتاق).
(٥) في [ي]: (قال).
(٦) في [أ، ب]: (فذهبت)، وفي [هـ]: (ثم ذهبت).
(٧) في [ع]: (لتبوء).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقط من: [ب، ع].
(١٠) في [أ، ب]: زيادة (قالت: قد)، وفي [س]: (قالت: قلت)، وفي [جـ]: (قال: قلت: قد).
(١١) في [ق، هـ]: (فذهب).
(١٢) سقط من: [جـ، س، ع، ي].
(١٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٤) سقط من: [أ، ب].
(١٥) في [أ، ب]: (ففعلنا).
(١٦) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ، س، ع، ي].
(١٧) سقط من: [ع].
(١٨) في [ع]: زيادة (إن اللَّه يأمرك أن تصلي بالناس قالت).
(١٩) سقط من: [س].
(٢٠) سقط من: [ق، هـ].
(٢١) في [ع]: (الصلاة).
(٢٢) سقط من: [ع].
(٢٣) كذا، وفي بقية المصادر: (عن يساره) أو (جنبه).
(٢٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٧)، ومسلم (٤١٨).

حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا۔ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں بیان کریں۔ انہوں نے کہا: ہاں (بیان کرتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو۔“ چناچہ ہم نے یہ حکم پورا کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنے لگے تھے کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ”میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ ہم نے یہ حکم پورا کردیا۔ فرماتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور اٹھنے لگے تھے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔؟“ ہم نے عرض کیا۔ نہیں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ لوگ خوب جھک کر (متوجہ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائیں۔ ٢۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔؟“ میں نے عرض کیا: نہیں! چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت ابوبکر کے پاس قاصدآیا اور آ کر کہا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے عمر! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ حضرت عمر نے کہا۔ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ ہی کی طر ف قاصد بھیجا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے ان دنوں میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔ ٣۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس اور ایک اور آدمی کے درمیان نماز ظہر کے لئے باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا۔ مجھے ابوبکر کے دائیں طرف بٹھا دو۔ پس جب حضرت ابوبکر نے یہ بات سنی تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسوس ہوئے وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ چناچہ ان دونوں صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر کے دائیں جانب بٹھا دیا۔ پس حضرت ابوبکر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے اور باقی لوگ حضرت ابوبکر (کی اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے۔ ٤۔ روای کہتے ہیں: پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ کیا میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھ سے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا۔ لاؤ۔ پس میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر پیش کی تو انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا مگر انہوں نے یہ کہا۔ کیا انہوں نے تمہیں بتایا کہ دوسرا آدمی کون تھا؟ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ نیں و! انہوں نے فرمایا: یہ دوسرا آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39820]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39820، ترقيم محمد عوامة 38194)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39821
٣٩٨٢١ - قال: فاتيت ابن عباس فقلت: الا اعرض عليك ما حدثتني عائشة؟ قال: هات، فعرضت عليه هذا، فلم ينكر منه شيئا إلا انه قال: اخبرتك من الرجل الآخر؟ قال: (قلت) (١) : لا، فقال: هو علي ﵀ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا في: [هـ]، وفي بقية النسخ: (فقلت).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٩٥)، ومسلم (٤١٨).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39821، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38195 ترقیم الشثری: -- 39822
٣٩٨٢٢ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (٢) (حدثنا) (٣) داود عن ابي نضرة عن ابي سعيد قال: لما توفي رسول الله ﷺ (٤) قام خطباء الانصار، فجعل الرجل منهم يقول: يا معشر المهاجرين! إن رسول الله ﷺ كان إذا استعمل رجلا منكم قرن معه رجلا منا، فنرى ان (يلي) (٥) هذا الامر رجلان احدهما منكم والآخر منا، قال: (فتتابعت) (٦) خطباء الانصار على ذلك، فقام زيد بن ثابت فقال: إن رسول الله ﷺ (٧) كان من المهاجرين (٨) ، ونحن انصاره كما كنا انصار رسول الله ﷺ (٩) ، فقام ابو بكر فقال: جزاكم الله خيرا يا معشر الانصار وثبت قائلكم، ثم قال: والله لو فعلتم غير ذلك لما صالحتكم (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (حدثنا عفان).
(٣) في [ع]: (أخبرنا).
(٤) سقط من: [ب، ع].
(٥) في [ع]: (يل).
(٦) في [أ، ب، س]: (فتباينت).
(٧) سقط من: [ع].
(٨) في [هـ]: زيارة (وإن الإمام إنما يكون من المهاجرين) من مصادر التخريج.
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ١٨٥ (٢١٦٥٧)، وابن سعد ٣/ ٢١٢، والحاكم ٣/ ٨٦، والطبراني (٤٧٨٥)، والطيالسي (٦١٢)، والبيهقي ٨/ ١٤٣، وابن عساكر ١٩/ ٣١٤.

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کے خطیب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہنا شروع کیا۔ اے جماعت مہاجرین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تم میں سے کسی کو عادل (امیر) مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے بھی ایک آدمی کو ملا دیتے۔ پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ معاملہ (خلافت) بھی دو آدمیوں کو سونپ دیا جائے جن میں ایک تم سے ہو اور ایک ہم سے ہو۔ راوی کہتے ہیں: پس انصار کے بہت سے خطباء نے تسلسل سے یہ بات کہی۔ تو اس پر حضرت زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور فرمایا: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے۔ لہٰذا امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا۔ اور اہم اس امام کے بھی اسی طرح مدد گار ہوں گے جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مددگار تھے۔ پھر حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے جماعت انصار! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین بدلہ دے اور تمہارے قائل کو ثابت قدم رکھے پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم اس کے علاوہ (فیصلہ) کرتے تو ہم آپ سے مصالحت نہ کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39822]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39822، ترقيم محمد عوامة 38195)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38196 ترقیم الشثری: -- 39823
٣٩٨٢٣ - حدثنا خالد بن مخلد (حدثنا) (١) سليمان بن بلال قال: حدثني عبد الرحمن بن حرملة قال: سمعت سعيد بن المسيب قال: لما توفي رسول الله ﷺ وضع على سريره، فكان الناس يدخلون (عليه) (٢) زمرا (زمرا) (٣) يصلون ⦗١٣٨⦘ عليه ويخرجون ولم يؤمهم احد، وتوفي يوم (الاثنين) (٤) ودفن يوم الثلاثاء ﷺ (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ع]: (الثلاثاء).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢٨٨.

حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک تخت پر رکھ دیا گیا۔ اور لوگ جماعت، جماعت کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ میں داخل ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز پڑھتے اور باہر نکل آتے لیکن کوئی ان کی امامت نہ کرواتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پیر کے روز ہوئی اور منگل کے روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفنایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39823]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39823، ترقيم محمد عوامة 38196)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں