🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38221 ترقیم الشثری: -- 39849
٣٩٨٤٩ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن ابن (ميناء) (١) عن (المسور) (٢) بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (إحدى) (٣) اصابعي في جرحه هذه او هذه او هذه، وهو يقول: يا معشر قريش! إني لا اخاف الناس عليكم، إنما اخافكم على الناس، إني قد تركت فيكم ثنتين (لن) (٤) تبرحوا بخير ما (لزمتموهما) (٥) : العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم (على ⦗١٦٤⦘ مثل) (٦) (مخرفة) (٧) النعم إلا ان يتعوج (قوم فيعوج) (٨) بهم (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أمينًا).
(٢) في [أ، ب]: (المستور).
(٣) في [ع]: (أحد).
(٤) في [ع]: (لم).
(٥) في [ع]: (مالزمتموها).
(٦) في [ي]: بياض.
(٧) في [أ، ب، س، هـ]: (محرقة)، وفي [جـ]: (محرفة)، وفي [ع]: (مخرقة).
(٨) سقط من: [ب].
(٩) صحيح؛ أخرجه البيهقي ١٠/ ١٣٤.

حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر کو کہتے سُنا…جبکہ میری انگلیوں میں سے ایک انگلی ان کے زخم کے اندر تھی … اے گروہ قریش! میں تمہارے خلاف لوگوں سے خوف نہیں رکھتا بلکہ مجھے تو صرف لوگوں کے خلاف تم سے خوف ہے۔ یقینا میں دو چیزیں تم میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو لازم پکڑو گے تب تک مسلسل خیر پر رہو گے۔ فیصلہ کرنے میں عدل اور تقسیم کرنے میں عدل۔ اور یقینا میں تمہیں بالکل سیدھا چھوڑ کر جا رہا ہوں البتہ اگر کسی قوم نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو وہ ٹیڑھے راستے پر چل پڑیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39849]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39849، ترقيم محمد عوامة 38221)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38222 ترقیم الشثری: -- 39850
٣٩٨٥٠ - حدثنا ابو اسامة عن هشام بن (عروة) (١) عن ابيه عن سليمان بن يسار عن المسور بن مخرمة قال: دخلت انا وابن عباس على عمر بعد ما طعن وقد اغمي عليه، فقلنا لا ينتبه [ (لشيء) (٢) (افزع) (٣) له من الصلاة، فقلنا: الصلاة يا امير المؤمنين] (٤) ، فانتبه وقال: (الصلاة) (٥) ، ولا حظ في الإسلام لامرئ قرك الصلاة، فصلى و (إن) (٦) جرحه ليثعب (٧) دما (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: بياض.
(٢) في [س]: (بشيء).
(٣) في [أ، هـ]: (أفرغ).
(٤) في [ب]: ما بين المعكوفين بياض.
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [ي]: زيادة (لينبعث).
(٨) صحيح؛ أخرجه مالك في الموطأ ١/ ٣٩ (٨٢)، وابن سعد ٣/ ٣٥١، والطبراني في الأوسط (٨١٨١)، والبيهقي ١/ ٣٥٧، وابن عساكر ٤٤/ ٤١٩، والمروزي في تعظيم الصلاة (٩٢٣)، واللالكائي (١٥٢٨)، وابن أبي عمر في الإيمان (٣٢)، والآجري (٢٧١).

حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت عمر پر حملہ ہونے کے بعد جبکہ ان پر بےہوشی طاری تھی۔ داخل ہوئے۔ تو ہم نے کہا۔ ان کو نماز سے زیادہ گھبراہٹ میں ڈالنے والی کسی چیز سے نہیں بیدار کیا جاسکے گا۔ چناچہ ہم نے کہا۔ اے امیر المؤمنین! نماز! پس حضرت عمر متنبہ ہوئے اور فرمایا: نماز! ایسے آدمی کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو نماز کو چھوڑ دے۔ پھر حضرت عمر نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ ان کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39850]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39850، ترقيم محمد عوامة 38222)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38223 ترقیم الشثری: -- 39851
٣٩٨٥١ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن عمرو بن ميمون قال: كنت ادع الصف الاول هيبة لعمر، وكنت في الصف الثاني يوم اصيب؛ فجاء فقال: الصلاة (عباد) (١) الله، استووا، قال: فصلى بنا فطعنه ابو لؤلؤة طعنتين او ⦗١٦٥⦘ (ثلاثا) (٢) ، قال: وعلى عمر ثوب (اصفر) (٣) ، قال: (فجمعه) (٤) على صدره ثم اهوى وهو يقول: ﴿وكان امر الله قدرا مقدورا﴾ [الاحزاب: ٣٨] ، فقتل وطعن اثني عشر او ثلاثة عشر، قال: (ومال) (٥) الناس عليه فاتكا على خنجره فقتل نفسه (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يا عباد).
(٢) في [ع]: (ثلاث).
(٣) في [ع]: (الصفر).
(٤) في [ع]: (جمعه)، وفي [أ، ب، هـ]: (فجعله).
(٥) في [هـ]: (وما).
(٦) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٤٨، وابن شبه (١٥٢١).

حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کی ہیبت کی وجہ سے پہلی صف کو چھوڑ دیتا تھا۔ جس دن حضرت عمر پر حملہ ہوا اس دن میں دوسری صف میں تھا۔ حضرت عمر تشریف لائے اور فرمایا۔ اے بندگانِ خدا! نماز، (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی۔ کہ ابو لؤلؤ نے آپ پر دو یا تین وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے زرد کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ نے اس کپڑے کو اپنے سینے کی طرف اکٹھا کرلیا پھر آپ نے اشارہ کیا اور آپ فرما رہے تھے۔ { وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا } پھر اس نے مزید بارہ یا تیرہ لوگوں کو قتل کیا اور وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ اس قاتل کی طرف بڑھے تو اس نے اپنے خنجر پر تکیہ لگا کر اپنے آپ کو قتل کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39851]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39851، ترقيم محمد عوامة 38223)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38224 ترقیم الشثری: -- 39852
٣٩٨٥٢ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن الاسود بن قيس عن عبد الله بن الحارث الخزاعي قال: سمعت عمم يقول في خطبته: إني رايت البارحة ديكا نقرني، ورايته (يجليه) (١) الناس عني، وإني اقسم بالله لئن بقيت لاجعلن سفلة المهاجرين في العطاء على الفين الفين، فلم يمكث إلا ثلاثا حتى قتله غلام المغيرة: ابو لؤلؤة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يخليه).
(٢) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن الحارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کو ان کے خطبہ میں یہ کہتے سُنا کہ: میں نے گزشتہ رات (خواب میں) ایک مرغ کو دیکھا کہ وہ مجھے ٹھونگ مار رہا ہے اور میں نے اس کو دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں۔ اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر میں باقی رہا تو میں ضرور بالضرور عام مہاجرین کو بھی دو دو ہزار عطیہ دوں گا۔ لیکن تین دن ہی گزرے تھے کہ آپ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ نے قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39852]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39852، ترقيم محمد عوامة 38224)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38225 ترقیم الشثری: -- 39853
٣٩٨٥٣ - حدثنا جعفر بن عون عن محمد بت شريك عن ابن ابي مليكة قال: ما خص عمر احدا من اهل الشورى دون احد إلا انه خلا بعلي وعثمان، كل واحد منهما على حدة، فقال: يا فلان! (اتق) (١) الله فإن ابتلاك الله بهذا الامر فلا ترفع بني فلان على رقاب الناس، وقال: للآخر مثل ذلك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (أين).
(٢) منقطع؛ ابن أبي مليكة لا يروي عن عمر، أخرجه ابن عساكر ٣٩/ ١٩١.

حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل شوریٰ میں سے کسی کو خاص نہیں کیا لیکن آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان سے علیحدگی (میں کوئی بات) کی۔ اور ان میں سے بھی ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ کیا۔ آپ نے فرمایا۔ اے فلاں! اللہ سے ڈر اور اگر تجھے اس معاملہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ آزمائے تو تُو بنی فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ اور (اسی طرح) آپ دوسرے (علی رضی اللہ عنہ و عثمان میں) سے بھی ایسا کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39853]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39853، ترقيم محمد عوامة 38225)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38226 ترقیم الشثری: -- 39854
٣٩٨٥٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن حسن (بن) (١) محمد قال: قال عمر لعثمان: اتق الله! وإن وليت شيئا من امور الناس فلا (تحمل) (٢) (بني ابي معيط على رقاب الناس، وقال لعلي: اتق الله وإن وليت شيئا من امور الناس فلا تحمل بني هاشم) (٣) على رقاب الناس (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عن).
(٢) في [س]: (تحتمل).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) منقطع؛ حسن بن محمد لم يدرك عمر.

حضرت حسن بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اللہ سے ڈر اور اگر تجھے لوگوں کے معاملا ت میں سے کسی کی ولایت مل جائے تو تُو بنو ابی معیط کے لوگوں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ اور حضرت عمر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ اللہ سے ڈر۔ اور اگر تجھے لوگوں کے معاملات میں سے کسی کا اختیار مل جائے تو تُو بنو ہاشم کو دیگر لوگوں کی گردن پر بلند نہ کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39854]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39854، ترقيم محمد عوامة 38226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38227 ترقیم الشثری: -- 39855
٣٩٨٥٥ - حدثنا ابن إدريس عن عبد العزيز بن عمر عن إبراهيم بن زرعة عالم من علماء اهل الشام قال: قلت له: من صلى على عمر؟ قال: صهيب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ إبراهيم بن زرعة لا يعرف.
اہل شام کے علماء میں سے ایک عامل حضرت ابراہیم بن زرعہ سے عبد العزیز بن عمر نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابن زرعہ سے پوچھا۔ حضرت عمر کا جنازہ کس نے پڑھا یا تھا؟ انہوں نے جواب دیا۔ صہیب نے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39855]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39855، ترقيم محمد عوامة 38227)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38228 ترقیم الشثری: -- 39856
٣٩٨٥٦ - حدثنا ابن نمير عن يحيى (بن سعيد) (١) عن القاسم ان عمر حيث طعن جاء الناس يثنون عليه ويدعون له، فقال عمر ﵀: (ابالإمارة) (٢) (تزكونني؟) (٣) لقد صحبت رسول الله ﷺ فقبض وهو عني راض، (وصحبت) (٤) ابا بكر فسمعت واطعت، فتوفي ابو بكر وانا سامع مطيع، وما اصبحت اخاف على نفسي إلا إمارتكم (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) في [ب]: (أبا إمارة).
(٣) في [ع]: (تذكوني).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [ق، هـ]: زيادة (هذه).
(٦) منقطع؛ القاسم لم يدرك عمر، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٥٥.

حضرت قاسم سے روایت ہے۔ کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو لوگ (آپ کے پاس) آ کر آپ کی تعریف کرنے لگے اور آپ کے لئے دعا کرنے لگے تو حضرت عمر نے ان سے کہا۔ کیا تم لوگ خلافت کی بنیاد پر مجھے پاکیزہ سمجھ رہے ہو؟ تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختاکر کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے خوش تھے پھر میں نے حضرت ابوبکر کی صحبت اختیار کی اور میں نے آپ کا حکم سُنا اور مانا پھر آپ کی وفات بھی اس حالت میں ہوئی کہ میں آپ کی بات سننے اور ماننے والا تھا۔ اور مجھے تو اپنے آپ پر صرف تمہاری امارت ہی کا خوف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39856]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39856، ترقيم محمد عوامة 38228)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38229 ترقیم الشثری: -- 39857
٣٩٨٥٧ - حدثنا محمد بن بشر، (حدثنا) (١) محمد بن عمرو، (حدثنا) (٢) ابو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب واشياخ، قالوا: راى عمر بن الخطاب في المنام (فقال) (٣) : رايت ديكا احمر نقرني ثلاث نقرات بين (الثنة) (٤) والسرة، قالت اسماء بنت (عميس) (٥) ام عبد الله بن جعفر: قولوا له: فليوص، وكانت تعبر الرؤيا، فلا ادري ابلغه (ذلك) (٦) ام لا. فجاءه ابو لؤلؤة الكافر المجوسي (عبد) (٧) المغيرة بن شعبة، فقال: إن المغيرة قد جعل علي من الخراج (مالا) (٨) (٩) ، قال: كم جعل عليك؟ قال: كذا وكذا، قال: وما عملك؛ قال: (اجوب) (١٠) الارحاء، قال: وما ذاك (عليك) (١١) (بكثير) (١٢) ، ليس بارضنا احد يعملها غيرك، الا تصنع لي (رحى؟) (١٣) قال: بلى والله، لاجعلن لك (رحى) (١٤) (يسمع) (١٥) بها اهل الآفاق. ⦗١٦٨⦘ فخرج عمر إلى الحج فلما صدر اضطجع (بالمحصب) (١٦) ، وجعل رداءه تحت راسه، فنظر إلى القمر فاعجبه استواؤه وحسنه، فقال: بدا (ضعيفا) (١٧) ثم لم يزل الله يزيده وينميه حتى استوى، فكان احسن ما كان، ثم هو ينقص حتى يرجع كما كان، وكذلك الخلق كله، ثم رفع يديه فقال: اللهم رعيتي قد كثرت وانتشرت فاقبضني إليك غير عاجز ولا مضيع. فصدر إلى المدينة فذكر له ان امراة من المسلمين ماتت بالبيداء مطروحة على الارض يمر بها الناس لا يكفنها احد، ولا يواريها احد، حتى مر بها كليب بن البكير الليثي، فاقام عليها حتى كفنها وواراها فذكر ذلك لعمر، فقال: من مر عليها من المسلمين؟ فقالوا: لقد مر عليها عبد الله بن عمر فيمن مر عليها من (المسلمين) (١٨) فدعاه، وقال: ويحك مررت على امراة من المسلمين مطروحة على ظهر الطريق، فلم توارها ولم تكفنها؟ قال: (والله) (١٩) (ما شعرت) (٢٠) بها ولا ذكرها لي احد، فقال: لقد خشيت ان لا يكون فيك خير، فقال: من (واراها وكفنها؟ قالوا: كليب ابن بكير الليثي) (٢١) قال: والله (لحري) (٢٢) ان يصيب كليب خيرا. فخرج عمر (يوقظ الناس بدرته) (٢٣) لصلاة الصبح، فلقيه الكافر ابو لؤلؤة فطعنه (ثلاث طعنات بين الثنة والسرة، وطعن كليب بن بكير فاجهز عليه) (٢٤) ، ⦗١٦٩⦘ (وتصايح) (٢٥) الناس، فرمى رجل على راسه ببرنس ثم (اصطعنه) (٢٦) إليه. وحمل عمر إلى الدار فصلى عبد الرحمن بن عوف بالناس، وقيل لعمر: الصلاة، (فصلى) (٢٧) (وجرحه) (٢٨) (يثعب) (٢٩) ، (وقال) (٣٠) : لا حظ (في الإسلام) (٣١) لمن لا صلاة له، فصلى ودمه (يثعب) (٣٢) . ثم انصرف الناس عليه فقالوا: يا امير المؤمنين، إنه ليس بك باس، وإنا لنرجو ان (ينسي) (٣٣) الله في اثرك ويؤخرك إلى حين، او إلى خير، فدخل عليه ابن عباس وكان يعجب به، فقال: اخرج فانظر من صاحبي ثم خرج فجاء، فقال: ابشر يا امير المؤمنين! صاحبك ابو لؤلؤة المجوسي (عبد) (٣٤) المغيرة بن شعبة، فكبر حتى خرج صوته من الباب، ثم قال: الحمد لله الذي لم يجعله رجلا من المسلمين (يحاجني) (٣٥) (سجد سجدة) (٣٦) لله يوم القيامة. ثم اقبل على القوم فقال: (اكان) (٣٧) هذا عن ملا منكم؟ فقالوا: معاذ الله؛ ⦗١٧٠⦘ والله لوددنا انا فديناك بآبائنا، (وزدنا) (٣٨) في عمرك من اعمارنا، إنه ليس بك باس. قال: اي يرفا؛ (ويحك) (٣٩) ، اسقني، فجاءه بقدح فيه نبيذ حلو فشربه، فالصق رداءه ببطنه، قال: فلما وقع الشراب في بطنه خرج من الطعنات، قالوا: الحمد لله، هذا دم استكن في جوفك، فاخرجه الله من جوفك، قال: اي يرفا، (ويحك) (٤٠) (اسقني) (٤١) لبنا، فجاء بلبن فشربه فلما (٤٢) وقع في جوفه خرج (من) (٤٣) الطعنات. فلما (راوا) (٤٤) ذلك علموا انه هالك، قالوا: جزاك الله خيرا (قد) (٤٥) كنت تعمل فينا بكتاب الله وتتبع سنة (صاحبيك) (٤٦) ؛ لا تعدل عنها إلى غيرها، جزاك الله احسن الجزاء، قال: بالإمارة (تغبطونني) (٤٧) ، فوالله لوددت (اني) (٤٨) انجو منها كفافا لا علي ولا لي، قوموا فتشاوروا في امركم، امروا عليكم رجلا منكم، فمن خالفه فاضربوا راسه. ⦗١٧١⦘ قال: فقاموا وعبد الله بن عمر مسنده إلى صدره، فقال عبد الله: (اتؤمرون) (٤٩) وامير المؤمنين حي؟ فقال عمر: (لا) (٥٠) ، وليصل صهيب ثلاثا، وانتظروا طلحة، وتشاوروا في امركم، فامروا عليكم رجلا منكم، فإن خالفكم فاضربوا راسه. قال: اذهب إلى (عائشة) (٥١) فاقرا عليها مني السلام، وقل: إن عمر يقول: إن كان ذلك ولا يضر بك ولا يضيق عليك فإني احب ان ادفن مع صاحبي، وإن كان يضر بك ويضيق عليك، فلعمري لقد دفن في هذا البقيع من اصحاب رسول الله ﷺ وامهات المؤمنين من هو خير من عمر، فجاءها الرسول فقالت: إن ذلك لا يضر (بي) (٥٢) ولا يضيق علي، قال: فادفنوني معهما. قال عبد الله بن عمر: فجعل الموت يغشاه وانا امسكه إلى صدري، قال: ويحك ضع راسي بالارض، قال: فاخذته غشية فوجدت من ذلك، فافاق فقال: (ويحك) (٥٣) ضع راسي بالارض، فوضعت راسه بالارض فعفره بالتراب فقال: ويل عمر، وويل امه: إن لم يغفر الله له. قال محمد بن عمرو: واهل الشورى: علي وعثمان وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف (٥٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (قال).
(٤) في [أ، ب]: (الثنية).
(٥) في [ع]: (عميش).
(٦) في [س، ع]: (ذاك)، وسقط من: [هـ].
(٧) في [أ، ب]: (عند).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (ما لا).
(٩) في [هـ]: زيادة (أطيق) أخذًا من كنز العمال ١٢/ ٣٠٧، وفي المحن ص ٦٨: (ما لا أطيق حمله).
(١٠) في [ع]: (أجرب)، أي: أقطع الحصى ليكون رمحًا لطحن الدقيق.
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) في [أ، ب، س]: (بكبير).
(١٣) في [ع]: (رحا).
(١٤) في [ع]: (رحا).
(١٥) في [ع]: (تسمع).
(١٦) في [س]: (الحصب).
(١٧) في [ب]: (ضعفًا).
(١٨) هكذا في: [ق، هـ]، وفي باقي النسخ: (الناس).
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) في [ي]: بياض.
(٢١) سقط من: [ي].
(٢٢) في [أ]: (مجرى)، وفي [ب]: (لجري).
(٢٣) في [ي]: بياض.
(٢٤) في [ى]: بياض.
(٢٥) في [جـ، س، ي]: (تصالح)، وفي [ب]: (ولصالح).
(٢٦) في [ف]: (اصلعنه)، وفي [ق، هـ]: (اضطبعه)، وفي المحسن: (اضغطه).
(٢٧) سقط من: [ع].
(٢٨) في [جـ]: (جرحه).
(٢٩) في [س]: (ينشعب).
(٣٠) في [ع]: (قال).
(٣١) سقط من: [ع].
(٣٢) في [ع]: (ينبعث).
(٣٣) في [س]: (ينبي).
(٣٤) في [س، ع]: (غلام).
(٣٥) في [ع]: (فجاء حتى).
(٣٦) في [ق، هـ]: (بسجدة سجدها).
(٣٧) في [جـ، ي]: (لقد كان).
(٣٨) في [ع]: (وزودناك).
(٣٩) سقط من: [ع].
(٤٠) سقط من: [ع].
(٤١) سقط من: [أ، ب، جـ، ي].
(٤٢) في [ي]: زيادة (خرج).
(٤٣) في [هـ]: (منه).
(٤٤) في [هـ]: (رأوه).
(٤٥) في [جـ]: (لقد).
(٤٦) في [أ، ب، ط]: (صاحبك).
(٤٧) في [ع]: (تغبطوني).
(٤٨) في [جـ]: (أن).
(٤٩) في [أ، جـ، س، ع]: (أبومرون) وفي [ي]: (أيومرون)، وفي [ب]: (أبومروان).
(٥٠) سقط من: [أ، ب]، والمعنى: أن عمر لم يعد أميرًا.
(٥١) في [ي]: بياض.
(٥٢) سقط من: [هـ].
(٥٣) سقط من: [هـ].
(٥٤) منقطع؛ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب لا يرويان عن عمر، أخرجه أبو العرب ابن تميم في كتاب المحن ص ٦٧.

حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغے نے ان کی ناف اور سینے کے درمیان چونچ ماری ہے۔ حضرت اسماء بنت عمیس تعبیر کی ماہر تھیں، انہوں نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ وصیت کردیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تعبیر ان تک پہنچی یا نہیں۔ کچھ دنوں بعد مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ، حضرت عمر کے پاس آیا اور حضرت عمر نے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا میں چکیاں بناتا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر تو بہت زیادہ نہیں کیونکہ یہاں تمہارے علاوہ کوئی یہ کام نہیں کرتا، کیا تم مجھے ایک چکی بنا کردو گے؟ اس نے کہا میں آپ کو ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ اس کی شہرت سارے عالم میں ہوگی۔ ٢۔ پھر حضرت عمر حج کے لئے چل پڑے پس جب آپ پہنچے تو آپ رمی جمار کی جگہ لیٹ گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔ آپ نے چاند کی طرف دیکھا تو آپ کو اس کی خوبصورتی اور برابری بہت پیاری لگی اس پر آپ نے فرمایا۔ یہ ابتداء میں کمزور ساظاہر ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور اس کو بڑھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ برابر ہوجاتا ہے۔ اور پھر یہ کمال حسن تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک دوبارہ ویسا ہی (پہلے جیسا) ہوجاتا ہے۔ ساری مخلوق کی حالت ایسی ہی ہے۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔ اے اللہ! میری رعایا بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بہت پھیل گئی ہے پس تو مجھے اپنی طرف واپس بلا لے عاجز اور ضائع کیے بغیر۔ ٣۔ پھر حضرت عمر مدینہ واپس آئے تو ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک عورت مقام بیداء میں مرگئی تھی، وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور لوگ اس کے پاس سے گزرتے جا رہے تھے۔ کسی نے بھی اس کو کفن نہ دیا اور نہ ہی اس کو دفنایا یہاں تک کہ حضرت کلیب بن بکیر لیثی اس عورت کے پاس سے گزرے تو وہ اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اس کو کفنایا اور دفنایا۔ یہ بات حضرت عمر کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے پوچھا۔ مسلمانوں میں سے کون لوگ اس کے پا س سے گزرے تھے؟ لوگوں نے جواب دیا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگوں میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ چناچہ آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا۔ تو ہلاک ہوجائے۔ تو ایک مسلمان عورت پر سے جو راستہ میں زمین پر گری پڑی تھی گزرا اور تو نے اس کو کفنایا، دفنایا کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں ذکر کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو خیر سے خالی نہ ہو۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ اس عورت کو کس نے کفنایا اور دفنایا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ کلیب بن بکیر لیثی نے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! کلیب اس بات کا حق دار ہے کہ اس کو خیر پہنچے۔ ٤۔ پھر حضرت عمر لوگوں کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کرنے کے لئے نکلے تھے کہ آپ کو ابو لؤلؤ کافر ملا اور اس نے آپ کی ناف اور سینے کے درمیان تین وار کئے۔ اور حضرت کلیب بن بکیر کو مارا اور ان کا کام تمام کردیا۔ لوگوں نے آوازیں بلند کیں تو ایک آدمی نے اس پر بڑی چادر پھینک دی۔ اور حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور حضرت عمر سے کہا گیا۔ نماز! تو آپ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ اور آپ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کی نماز نہیں، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ پس آپ نے اس حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ اے امیر المؤمنین! آپ کو کوئی زخم نہیں ہیں۔ اور یقینا ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو مزید باقی رکھے گا اور آپ کو مزید ایک وقت تک یا ایک خیر (کے کام) تک مہلت دے گا۔ ٥۔ پھر حضرت عمر کی خدمت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے … حضرت عمر کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے محبت تھی … حضرت عمر نے فرمایا۔ تم دیکھو کہ مجھے قتل کرنے والا کون ہے؟ چناچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما باہر چلے گئے پھر واپس آئے تو فرمایا۔ اے امیر المؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کا قاتل حضرت مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ مجوسی ہے۔ اس پر حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ یہاں تک (بلند آواز میں کہا کہ) آپ کی آواز دروازے سے باہر نکل گئی پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے قاتل کو مسلمان آدمی نہیں بنایا کہ بروز قیامت وہ میرے ساتھ کسی ایسے سجدہ کی وجہ سے مخاصمت کرتا جو اس سے صرف خدا کے لئے کیا ہوتا۔ پھر حضرت عمر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کیا یہ آدمی تمہارے قوم میں سے ہے؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ کی پناہ! ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اپنے آباء کو فداء کردیں اور آپ کی عمر میں اپنی عمروں سے اضافہ کردیں۔ آپ کو کوئی ز [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39857]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39857، ترقيم محمد عوامة 38229)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں