مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
45. (ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
ترقیم عوامۃ: 38230 ترقیم الشثری: -- 39858
٣٩٨٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن ابي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: حججت في إمارة عمر فلم يكونوا (يشكون) (١) (ان) (٢) الخلافة من بعده لعثمان (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (يشكوا).
(٢) في [أ، ب]: (لأن).
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق لم يصرح بالسماع، وأخرجه أبو نعيم في الإمامة (١٠٨)، واللالكائي (٢٥٥٤)، وابن عساكر ٣٩/ ١٨٧.
حضرت حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کے عہد امارت میں حج کیا تھا تو لوگوں کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ حضرت عمر کے بعد خلافت حضرت عثمان کے پاس ہوگی۔ (یعنی یقین تھا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39858]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39858، ترقيم محمد عوامة 38230)
ترقیم عوامۃ: 38231 ترقیم الشثری: -- 39859
٣٩٨٥٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عبد الله بن سنان قال: قال (عبد الله) (١) حين استخلف عثمان: ما الونا عن (اعلانا) (٢) ذا فوق (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أعلاها)، وفي [ق]: (أعلاء).
(٣) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٩٧، وأحمد في فضائل الصحابة (٧٣١)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٨٢ (٤٥٣٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٦)، والطبراني (١٤٠)، وابن عساكر ٣٩/ ٢١١، والخلال (٥٤٤)، والعسكري في جمهرة الأمثال ١/ ١٧٦.
حضرت عبد اللہ بن سنان سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو عبد اللہ نے کہا۔ مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39859]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39859، ترقيم محمد عوامة 38231)
ترقیم عوامۃ: 38232 ترقیم الشثری: -- 39860
٣٩٨٦٠ - حدثنا محمد بن بشر عن إسماعيل بن ابي خالد عن حكيم بن جابر قال: سمعت ابن مسعود يقول حين بويع عثمان: ما الونا عن (إعلانا) (١) (٢) (ذا) (٣) فوق (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أعلاها)، وفي [ق]: (أعلاء).
(٢) في [ع]: زيادة (وأعلاها).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) صحيح؛ أخرجه الطبراني (١٤١)، والخلال في السنة (٥٥٧)، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (١٣٢٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٧)، وأبو نعيم في الإمامة (١١٣).
حضرت حکیم بن جابر سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کی بیعت کی گئی تو ابن مسعود نے کہا۔ ہم نے مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39860]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39860، ترقيم محمد عوامة 38232)
ترقیم عوامۃ: 38233 ترقیم الشثری: -- 39861
٣٩٨٦١ - حدثنا ابو اسامة عن كهمس عن عبد الله بن شقيق قال: حدثني هرم بن الحارث واسامة بن (خريم) (١) قال: (وكانا) (٢) (يغازيان) (٣) فحدثاني (جميعا) (٤) ولا يشعر كل واحد منهما ان صاحبه حدثنيه، عن مرة (البهزي) (٥) ، قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ ذات يوم في طربق من طرق المدينة فقال:"كيف تصنعون في فتنة تثور في اقطار الارض كانها صياصي بقر؟" قالوا: فنصنع ماذا يا نبي الله؟ قال:"عليكم بهذا واصحابه"، قال: فاسرعت حتى عطفت على الرجل، فقلت: هذا (يا) (٦) نبي الله؟ قال:"هذا؟، فإذا هو عثمان (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حرث)، وفي [هـ]: (حريم).
(٢) في [ع]: (فكانا).
(٣) في [س]: (يناديان).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [ع]: (الهدي).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) مجهول؛ لجهالة هرم وأسامة بن خريم، وأخرجه أحمد (٢٠٣٥٣)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٩٦)، والترمذي (٣٧٠٤)، والحاكم ٣/ ١٠٢، وابن قانع ٣/ ٥٧، والخلال في السنة (٤٢٥)، والطبراني ٢٠/ (٧٥٢)، وابن عساكر ٣٩/ ٢٧١.
حضرت مرہ خریم سے روایت ہے کہ ہم ایک دن مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ”تم اس فتنہ میں کیا کرو گے جو زمین کے اطراف میں یوں پھیل جائے گا جیسے گائے کے سینگ ہوتے ہیں۔“ صحابہ نے پوچھا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پھر ہم کیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔“ راوی کہتے ہیں: پس میں (یہ سن کر) اس آدمی پر جلدی سے لپٹا اور میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہی“ اور یہ شخص حضرت عثمان تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39861]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39861، ترقيم محمد عوامة 38233)
ترقیم عوامۃ: 38234 ترقیم الشثری: -- 39862
٣٩٨٦٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن الحسن قال: انباني وثاب (وكان) (١) ممن ادركه عتق امير المؤمنين عمر، وكان (يكون) (٢) بعد بين يدي عثمان، قال: فرايت في حلقه (٣) طعنتين، كانهما كيتان طعنهما يوم الدار دار عثمان، قال: بعثني امير المؤمنين عثمان، قال: ادع لي الاشتر فجاء، قال ابن عون: اظنه قال: فطرحت لامير المؤمنين وسادة (٤) . ⦗١٧٤⦘ فقال: يا اشتر! ما يريد الناس مني؟ قال: ثلاثا ليس (٥) من إحداهن بد، يخيرونك بين ان تخلع لهم امرهم وتقول: هذا امركم، اختاروا له من شئتم، وبين ان تقص من نفسك، فإن ابيت (هاذين) (٦) فإن القوم (قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، قال: اما) (٧) ان اخلع لهم امرهم فما كنت اخلع سربالا (سربلنيه) (٨) الله ﷿ ابدا. قال ابن عون: وقال غير الحسن: لان اقدم فيضرب عنقي احب إلي من ان اخلع امر امة محمد (٩) بعضها عن بعض، قال ابن عون: (وهذا اشبه) (١٠) بكلامه. (ولان) (١١) اقص لهم من نفسي، فوالله لقد علمت، ان صاحبي بين يدي كانا يقصان من (انفسهما) (١٢) ، وما يقوم بدني بالقصاص، واما ان يقتلوني، فوالله لو قتلوني لا يتحابون بعدي ابدا، ولا يقاتلون بعدي عدوا جميعا ابدا، قال: فقام الاشتر وانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس. ثم جاء (رويجل) (١٣) كانه (ذئب) (١٤) (فاطلع) (١٥) من الباب، ثم رجع ⦗١٧٥⦘ (وقام) (١٦) محمد بن ابي بكر في ثلاثة عشر حتى انتهى إلى عثمان، فاخذ بلحيته فقال: بها حتى سمعت وقع اضراسه، وقال: ما اغنى عنك معاوية، ما اغنى عنك ابن عامر، ما (اغنت) (١٧) عنك كتبك، فقال: ارسل لي لحيتي ابن اخي، ارسل لي لحيتي ابن اخي، قال: فانا رايته (١٨) استعدى رجلا من القوم (يعينه) (١٩) ، فقام إليه بمشقص حتى وجا به في راسه (فاثبته) (٢٠) ، (قال) (٢١) : ثم (مه؟) (٢٢) (قال) (٢٣) : ثم دخلوا عليه حتى قتلوه (٢٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فكان).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ]: زيادة (أثر).
(٤) في [هـ]: زيادة (وله وسادة).
(٥) في [هـ]: زيادة (لك).
(٦) في [ق، هـ]: (هاتين).
(٧) في [هـ]: تكرر.
(٨) في [أ، ب]: (ستبنيه).
(٩) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١٠) سقط من: [هـ].
(١١) في [ع]: (ولين)، وفي [هـ]: (ولا اْن).
(١٢) في [ع]: (أنفسهم).
(١٣) في [أ، ب]: (ويجل).
(١٤) في [أ، ب]: (قلد).
(١٥) في [أ، ب]: (واطلع).
(١٦) في [جـ، ع]: (وقال).
(١٧) في [ع]: (أغنى).
(١٨) في [أ، ب]: زيادة (واللَّه).
(١٩) في [س]: (بعينه).
(٢٠) في [ع]: (فأثبت).
(٢١) سقط من: [ع].
(٢٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (مر).
(٢٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٢٤) مجهول؛ لجهالة وثاب، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧٢، وابن شبه (٢٣٥٩)، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ١٧٤، والطبراني (١١٦)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٤، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٤.
حضرت حسن سے روایت ہے کہ مجھے وثَّاب نے بیان کیا۔ اور یہ وثاب راوی کہتے ہیں۔ میں نے اس کے حلق میں تیر کے دو نشانات تھے۔ حضرت عثمان کے گھر میں محاصر ہ کے دن یہ نیزے انہیں مارے گئے تھے۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا اور فرمایا: اشتر کو میرے پاس لاؤ۔ ابن عون کہتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا۔ کہ اس نے امیر المؤمنین کے پاس تکیہ چھوڑ دیا۔ اور اس کے پاس تکیہ تھا۔ پس حضرت عثمان نے فرمایا۔ اے اشتر! (باغی) لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اشتر نے کہا۔ تین باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا کرنا ضروری ہے۔ وہ لوگ آپ کو اس بات کا اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ ان کی حکمرانی ان کے حوالہ کردیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ تمہاری حکمرانی ہے تم جس کو چاہو یہ حکمرانی سونپ دو۔ اور یا یہ ہے کہ آپ اپنے سے بدلہ لینے کا موقع دیں۔ پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو پھر لوگ آپ سے لڑیں گے۔ حضرت عثمان نے پوچھا۔ کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے؟ اشتر نے کہا (جی) ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ٢۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں ان کی حکمرانی کی ذمہ داری چھوڑ دوں۔ تو (سنو) میں وہ کبھی کرتا نہیں اتاروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنایا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں۔ حسن کے علاوہ دوسرا راوی بیان کرتا ہے کہ: اگر مجھے یوں پیش کیا جائے کہ میری گردن اڑا دی جائے تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ لوگوں کے درمیان چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں: یہ بات آپ کے کلام سے ملتی جلتی ہے۔ اور رہی یہ بات کہ میں لوگوں کو خود سے بدلہ لینے کا موقع دوں تو خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ مجھ سے پہلے میرے دو ساتھی (لوگوں کو) اپنے آپ سے بدلہ لینے کا موقع دیتے تھے۔ لیکن میرا جسم قصاص کے لئے کھڑا نہیں ہوگا۔ اور یہ بات کہ لوگ مجھے قتل کریں گے تو خدا کی قسم (یاد رکھو) اگر وہ لوگ مجھے قتل کردیں تو پھر میرے بعد کبھی آپس میں محبت نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ ہی میرے بعد دشمن کے خلاف کبھی سارے اکٹھے ہو کر جہاد کرسکیں گے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اشتر اٹھ کر چل پڑا۔ ہم وہیں ٹھہرے اور ہم کہنے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ واپس پیچھے چلے جائیں۔ پھر رویجل آیا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ بھیڑیا ہے۔ اور اس نے دروازے سے جھانکا اور واپس ہوگیا۔ پھر محمد بن ابی بکر تیرہ افراد کے ہمراہ کھڑا ہوا اور حضرت عثمان کے پاس پہنچا اور آپ کی داڑھی کو پکڑ لیا اور وہ کہہ رہا تھا۔ تمہیں معاویہ نے کوئی فائدہ نہیں دیا! تمہیں ابن عامر نے کوئی فائدہ نہیں دیا! تمہیں تمہارے لشکروں نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ اے بھتیجے! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ اے بھتیجے! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ ٤۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کو دیکھا کہ اس نے (اپنی) قوم میں سے ایک آدمی سے مدد مانگی تو اس کے پاس ایک آدمی چوڑے پھل والا نیزہ لے کر آیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عثمان کے سر پر زور لگا کر اس کو آپ کے سر میں اتار دیا۔ راوی (سے) پوچھا۔ پھر کیا ہوا؟ راوی نے جواب دیا۔ پھر یہ باغی حضر ت عثمان پر داخل ہوئے اورا نہیں قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39862]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39862، ترقيم محمد عوامة 38234)
ترقیم عوامۃ: 38235 ترقیم الشثری: -- 39863
٣٩٨٦٣ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الملك بن ابي سليمان قال: سمعت ابا ليلى الكندي قال: رايت عثمان اطلع إلى الناس وهو محصور فقال: ايها الناس! لا تقتلوني (واستعتبوني) (١) ، (فوالله) (٢) لئن قتلتموني لا (تقاتلون) (٣) جميعا ابدا، ولا تجاهدون عدوا ابدا، ولتختلفن حتى تصيروا هكذا -وشبك بين اصابعه، ﴿وياقوم لا يجرمنكم شقاقي ان يصيبكم مثل ما اصاب قوم نوح او (قوم) (٤) هود او قوم ⦗١٧٦⦘ صالح وما قوم لوط منكم ببعيد﴾ [هود: ٨٩] ، قال: وارسل إلى عبد الله بن سلام فساله فقال: الكف الكف، فإنه ابلغ لك في الحجة، فدخلوا عليه فقتلوه (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (واستعتبوا).
(٢) في [أ، ب]: (واللَّه).
(٣) في [هـ]: (تصلون).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) ضعيف؛ لضعف أبي ليلى، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧١، وابن شبه (٢٠٧٤)، والدولابي ٣/ ٩٤٣، وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (٣٩١٠ و ٤٣٧٩)، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٨.
حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کی طرف جھانکا … جبکہ وہ محصور تھے… اور فرمایا … اے لوگو! مجھے قتل نہ کرو بلکہ تم مجھ سے رضا مندی اور خوشنودی چاہو۔ خدا کی قسم! اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو پھر کبھی تم لوگ اکٹھے ہو کر جہاد نہیں کرو گے۔ اور کبھی دشمن کے خلاف اکٹھے ہو کر لڑ نہیں سکو گے۔ اور تم اس حالت میں پیچھے رہ جاؤ گے کہ تم یوں ہو جاؤ گے۔ حضرت عثمان نے اپنی انگلیاں، انگلیوں میں داخل کیں۔ اور آیت پڑھی { وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ } راوی کہتے ہیں: حضرت عثمان نے حضرت عبد اللہ بن سلام کی طرف قاصد بھیج کر ان سے (اس معاملہ) میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا۔ رُکے رہو۔ رُکے رہو۔ کیونکہ یہ رویہ تمہارے حق میں خوب حجت ہوگا۔ چناچہ یہ باغی لوگ حضرت عثمان کے پاس داخل ہوئے اور انہیں قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39863]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39863، ترقيم محمد عوامة 38235)
ترقیم عوامۃ: 38236 ترقیم الشثری: -- 39864
٣٩٨٦٤ - حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عبد الله بن عامر قال: سمعت عثمان يقول: إن اعظمكم عندي غنا من كف سلاحه ويده (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور (٣٢٠٣٨).
حضرت عبد اللہ بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو کہتے سُنا۔ بیشک میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ فائدہ والا شخص وہ ا ہے جو اپنے اسلحہ اور اپنے ہاتھ کو روک لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39864]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39864، ترقيم محمد عوامة 38236)
ترقیم عوامۃ: 38237 ترقیم الشثری: -- 39865
٣٩٨٦٥ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: جاء زيد بن ثابت إلى عثمان فقال: هذه الانصار بالباب، قالوا: إن شئت ان (نكون) (١) انصار الله مرتين، فقال: اما القتال فلا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (تكون).
(٢) منقطع، ابن سيرين كان ابن سنتين عند وفاة عثمان، أخزجه ابن شبه في أخبار المدينة (٢١١٠)، ونعيم بن حماد (٤٥٦)، والخلال (٤٣١)، وابن تميم في المحن ص ٨٢.
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت، حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے۔ یہ دروازے پر انصار (صحابہ) موجود ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو ہم دوسری مرتبہ اللہ کے (دین کے) مدد گار بنیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ اگر لڑنے کے بارے میں کہتے ہیں تو بالکل نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39865]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39865، ترقيم محمد عوامة 38237)
ترقیم عوامۃ: 38238 ترقیم الشثری: -- 39866
٣٩٨٦٦ - حدثنا ابو اسامة عن هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الزبير [قال: قلت لعثمان يوم الدار: اخرج فقاتلهم فإن معك من قد نصر الله باقل منه، والله (إن قتالهم) (١) لحلال، قال: فابى وقال: من كان لي عليه سمع وطاعة فليطع عبد (الله) (٢) بن الزبير] (٣) ، وكان امره يومئذ على الدار، وكان يومئذ صائما (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (أنه).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٤) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ میں نے محاصرہ کے دن حضرت عثمان سے کہا۔ آپ باہر آئیں اور ان لوگوں سے لڑائی کریں۔ کیونکہ آپ کے ہمراہ (آج اتنے) لوگ ہیں کہ جن سے کم تعداد کی اللہ پاک نے مدد کی تھی۔ اور خدا کی قسم! ان لوگوں سے لڑنا حلال ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عثمان نے انکار فرمایا اور حکم دیا۔ جو آدمی خود میر ی سمع وطاعت کو واجب سمجھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کی اطاعت کرے۔ حضرت عثمان نے اس (محاصرے کے) دن ان کو گھر میں امیر مقرر فرمایا تھا اور حضرت عثمان اس (محاصرہ کے) دن روزہ کی حالت میں تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39866]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39866، ترقيم محمد عوامة 38238)
ترقیم عوامۃ: 38239 ترقیم الشثری: -- 39867
٣٩٨٦٧ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن (عبيد الله) (١) بن عمر عن نافع ان رجلا يقال له: جهجاه، تناول محصاكانت في يد عثمان فكسرها بركبته، فرمى في ذلك الموضع باكلة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) منقطع؛ نافع لم يدرك عثمان، أخرجه ابن عساكر ٣٩/ ٣٣٠، وابن شبه (١٩٣٧)، والآجري في الشريعة (١٤٦٩)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٢.
حضرت نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کو جہجاہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت عثمان کے ہاتھ میں موجود عصا لیا اور اس کو اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا۔ پس (آخر میں) اس آدمی کے اس مقام پر نہ ختم ہونے والی خارش شروع ہوگئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39867]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39867، ترقيم محمد عوامة 38239)