🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ
جب کنویں میں کوئی جانور گرجائے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 61 ترقیم الرسالہ : -- 65
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ : أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ، يَعْنِي فَمَاتَ، فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ، قَالَ: فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ، فَأَمَرَ بِهَا فَدُسِمَتْ بِالْقُبَاطِيِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ" .
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک حبشی زم زم کے کنویں میں گر گیا، یعنی گر کے مر گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم کے تحت اس کی لاش کو باہر نکالا گیا اور کنویں کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ ہدایت دی کہ اسے صاف کر دیا جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لیکن چشمے کا پانی لوگوں کے قابومیں نہیں آیا، وہ رکن (حجر اسود) کی طرف سے آ گیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے بارے میں ہدایت کی: وہ پوری طرح سے کپڑوں کے ذریعے بند کیا جائے، یہاں تک کہ وہ مکمل بند ہو جائے، جب لوگوں نے اسے بند کیا تو پھر اس میں سے پانی باہر نکل آیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 65]
ترقیم العلمیہ: 61
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 65، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 275، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1734»
«قال البيهقي: وابن سيرين عن ابن عباس مرسل لم يلقه ولا سمع منه وإنما هو بلاغ بلغه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 129) _x000D_»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 62 ترقیم الرسالہ : -- 66
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا قَبِيصَةُ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ غُلامًا وَقَعَ فِي بِئْرِ زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ" .
سیدنا ابوطفیل بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک لڑکا زم زم کے کنویں میں گر گیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 66]
ترقیم العلمیہ: 62
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 66، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 32»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 63 ترقیم الرسالہ : -- 67
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" كُلُّ نَفْسٍ سَائِلَةٌ لا يُتَوَضَّأُ مِنْهَا، وَلَكِنْ رُخِّصَ فِي الْخُنْفِسَاءِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْجَرَادِ، وَالْجُدْجُدِ، إِذَا وَقَعْنَ فِي الرِّكَاءِ فَلا بَأْسَ" . قَالَ شُعْبَةُ: وَأَظُنُّهُ قَدْ ذَكَرَ الْوَزَغَةَ.
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ہر وہ جاندار جس کا خون بہتا ہوا (اگر وہ کنویں میں گر جائے) تو اس کنویں کے پانی سے وضو نہیں کیا جائے گا، البتہ خنفساء، بچھو، ٹڈی، جھینگر، اگر کنویں میں گر جاتے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے (یعنی ایسے کنویں کے پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے)۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے، انہوں نے گرگٹ کا بھی ذکر کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 67]
ترقیم العلمیہ: 63
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 67»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں