سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
18. بَابُ السِّوَاكِ
باب: مسواک کا بیان
ترقیم العلمیہ : 156 ترقیم الرسالہ : -- 160
نا عثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الأَنْطَاكِيُّ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فِي السِّوَاكِ عَشْرُ خِصَالٍ: مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ تَعَالَى، وَمَسْخَطَةٌ لِلشَّيْطَانِ، وَمَفْرَحَةٌ لِلْمَلائِكَةِ، جَيِّدٌ لِلَّثَةِ، وَمُذْهِبٌ بِالْحَفَرِ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُطَيِّبُ الْفَمَ، وَيُقَلِّلُ الْبَلْغَمَ، وَهُوَ مِنَ السُّنَّةِ، وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ" . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ: مُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: ”مسواک میں دس خوبیاں ہیں: یہ پروردگار کی رضامندی کا باعث ہے، شیطان کی ناراضگی کا باعث ہے، فرشتوں کو خوش کرنے کا باعث ہے، مسوڑھوں کی صحت اور خوبصورتی کا باعث ہے، دانتوں کی میل کو ختم کر دیتی ہے، بصارت کو تیز کرتی ہے، منہ میں خوشبو پیدا کرتی ہے، بلغم کو کم کرتی ہے، مسواک کرنا سنت ہے اور یہ نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے۔“ شیخ ابوالحسن بیان کرتے ہیں: اس روایت کے راوی معلی بن میمون ضعیف اور متروک ہیں۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 160]
ترقیم العلمیہ: 156
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 160»
«قال الدارقطني: معلى بن ميمون ضعيف متروك»
«قال الدارقطني: معلى بن ميمون ضعيف متروك»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف