🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَابُ مَا رُوِيَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالْبَدَاءَةِ بِهِمَا أَوَّلَ الْوُضُوءِ
باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ترغیب، وضو کا آغاز ان دونوں سے کیا جائے
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 270 ترقیم الرسالہ : -- 275
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مِهْرَانَ ، نا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَضْمَضَةُ وَالاسْتِنْشَاقُ مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لا بُدَّ مِنْهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو کا ایک ایسا حصہ ہے جو ضروری ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 275]
ترقیم العلمیہ: 270
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 275، 276، 281، 340»
«قال الدارقطني: وحديث عائشة قال فيه الدارقطني إرساله أصح، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (1 / 449) _x000D_»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 271 ترقیم الرسالہ : -- 276
نا محَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ النَّقَّاشُ ، قَالا: نا محَمَّدُ بْنُ حَمِّ بْنِ يُوسُفَ التِّرْمِذِيُّ ، نا إسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ ، نا عصَامُ بْنُ يُوسُفَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لا يَتِمُّ الْوُضُوءُ إِلا بِهِمَا. تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، مُرْسَلا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ"، وَأَحْسَبُ عِصَامًا حَدَّثَ بِهِ مِنْ حِفْظِهِ، فَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ فَاشْتَبَهَ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ"، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: یہ وضو کا ایک ایسا حصہ ہے، جس کے بغیر وضو مکمل نہیں ہوتا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں عصام نامی راوی منفرد ہیں اور انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے۔ صحیح روایت وہ ہے، جسے ابن جریج نامی راوی نے سلمان بن موسیٰ کے حوالے سے مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: میرا یہ خیال ہے، عصام نامی راوی نے اس حدیث کو اپنے حافظے کے حوالے سے بیان کیا اور یہ بات ان پر مختلط ہو گئی، اور ان پر اس روایت کی سند مشتبہ ہو گئی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہو گا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 276]
ترقیم العلمیہ: 271
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 275، 276، 281، 340»
«قال الدارقطني: وحديث عائشة قال فيه الدارقطني إرساله أصح، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (1 / 449) _x000D_»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 272 ترقیم الرسالہ : -- 277
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى فِي الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ، فَحَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ" .
جہاں تک ابن جریج کی سلیمان بن موسیٰ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کا تعلق ہے، جو کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے بارے میں ہے، تو وہ یہ ہے: ابن جریج بیان کرتے ہیں: سلیمان بن موسیٰ نے یہ بات بیان کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص وضو کرے، اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 277]
ترقیم العلمیہ: 272
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 240، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 277، 278، 279، 280، 335، 336، 337، 338، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 23، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 156»
«قال الدارقطني: أعله بالاضطراب وقال إنه وهم والصواب رواية ابن جريج عن سليمان بن موسى مرسلا،التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 158/1»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 273 ترقیم الرسالہ : -- 278
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ" .
سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 278]
ترقیم العلمیہ: 273
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 240، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 277، 278، 279، 280، 335، 336، 337، 338، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 23، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 156»
«قال الدارقطني: أعله بالاضطراب وقال إنه وهم والصواب رواية ابن جريج عن سليمان بن موسى مرسلا،التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 158/1»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 274 ترقیم الرسالہ : -- 279
نا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُؤَذِّنُ ، نا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، نا قَبِيصَةُ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ" .
سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 279]
ترقیم العلمیہ: 274
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 240، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 277، 278، 279، 280، 335، 336، 337، 338، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 23، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 156»
«قال الدارقطني: أعله بالاضطراب وقال إنه وهم والصواب رواية ابن جريج عن سليمان بن موسى مرسلا،التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 158/1»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 275 ترقیم الرسالہ : -- 280
نا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نا الْحُمَيْدِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الشَّامِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
سلیمان بن موسیٰ شامی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 280]
ترقیم العلمیہ: 275
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 240، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 277، 278، 279، 280، 335، 336، 337، 338، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 23، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 156»
«قال الدارقطني: أعله بالاضطراب وقال إنه وهم والصواب رواية ابن جريج عن سليمان بن موسى مرسلا،التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 158/1»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 276 ترقیم الرسالہ : -- 281
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَاهِرٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ ، بِبَلْخَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ الْجَوْزَجَانِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ" . مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ ضَعِيفٌ، وَهَذَا خَطَأٌ وَالَّذِي قَبْلَهُ وَالْجَوَابُ أَصَحُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنا چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔ اس روایت کا راوی محمد بن ازہر ضعیف ہے اور یہ روایت غلط ہے، اس سے پہلے جو مرسل روایت نقل کی گئی تھی، وہ زیادہ مستند ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 281]
ترقیم العلمیہ: 276
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 275، 276، 281، 340»
«قال ابن حجر: فيه محمد بن الأزهر وقد كذبه أحمد، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 158/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 277 ترقیم الرسالہ : -- 282
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، نا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ غَضٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَضْمَضَةُ وَالاسْتِنْشَاقُ سُنَّةٌ" . إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (وضو کے دوران) کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے۔ اس روایت کا راوی اسماعیل بن مسلم ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 282]
ترقیم العلمیہ: 277
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 282، 331، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 38، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 160، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10784»
«قال ابن حجر: وهو حديث ضعيف، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 131/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 278 ترقیم الرسالہ : -- 283
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَعَا يَوْمًا بِوُضُوءٍ ثُمَّ دَعَا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَغَسَلَهَا ثَلاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ رِجْلَيْهِ فَأَنْقَاهُمَا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مثل هَذَا الْوُضُوءِ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" ، ثُمَّ قَالَ: أَكَذَلِكَ يَا فُلانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أَكَذَلِكَ يَا فُلانُ؟ قَالَ: نَعَمْ حَتَّى اسْتَشْهَدَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَافَقْتُمُونِي عَلَى هَذَا.
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے ایک دن وضو کا پانی منگوایا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کچھ افراد کو بلایا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے تین مرتبہ دھویا۔ انہوں نے تین مرتبہ کلی کی، اس کے بعد ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین، تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور انہیں اچھی طرح صاف کیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح وضو کیا، جیسے ابھی آپ لوگوں نے مجھے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر اس کے بعد وہ دو رکعت نماز ادا کرے تو اپنے گناہوں کے حوالے سے وہ اس طرح ہو جاتا ہے، جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔‘ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 283]
ترقیم العلمیہ: 278
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 226، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 83، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2، 3، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 360، 1041، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 529، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 84، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 106، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 31، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 285، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 35،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 271، 283، 284، 285، 286، 287، 301، 302، 303، 304، 308، 367، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 407»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 279 ترقیم الرسالہ : -- 284
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نا ابْنُ الأَشْجَعِيِّ ، نا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَرِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا يَتَوَضَّأُ ، يَا هَؤُلاءِ أَكَذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. عِنْدَهُ صَحِيحٌ إِلا التَّأْخِيرُ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ فَإِنَّهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَهَذَا اللَّفْظِ. وَرَوَاهُ الْعَدَنِيَّانِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، وَالْفِرْيَابِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالُوا كُلُّهُمْ: إِنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، وَلَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا. وَخَالَفَهُمْ وَكِيعٌ، رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُثْمَانَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا". كَذَا قَالَ وَكِيعٌ، وَأَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ وَهُوَ مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ.
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ، مقاعد میں تشریف لائے، آپ نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا اور پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر سر کا مسح کیا اور یہ بات ارشاد فرمائی: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ یاد ہے، آپ نے اسی طرح وضو کیا۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے حضرات! کیا یہ اسی طرح ہے؟ تو ان حضرات نے جواب دیا: جی ہاں! یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہی تھی، جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ یہ روایت مستند ہے، البتہ سر کے مسح میں تاخیر ہونا یہ محفوظ نہیں ہے۔ اس کو نقل کرنے میں ایک راوی منفرد ہے جبکہ دیگر راویوں نے اپنی سند کے ہمراہ اس کو نقل کیا ہے۔ سب راویوں نے یہی بات نقل کی ہے: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تمام اعضاء کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان راویوں نے اس کے علاوہ مزید کوئی بات نقل نہیں کی۔ اس کے برخلاف وکیع نامی راوی نے اپنی سند کے ہمراہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو تین، تین مرتبہ دھویا۔ بعض دیگر راویوں نے بھی اس کو اسی حوالے سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 284]
ترقیم العلمیہ: 279
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 226، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 83، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2، 3، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 360، 1041، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 529، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 84، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 106، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 31، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 285، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 35،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 271، 283، 284، 285، 286، 287، 301، 302، 303، 304، 308، 367، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 407»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں