🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

63. باب: كيفية من أحدث في الصلاة
باب: جس شخص کا نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے، اس کا طریقہ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 584 ترقیم الرسالہ : -- 595
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ، نا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِيُّ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، نا عُبَادَةُ بْنُ نُسِيٍّ ، وَهُبَيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا: نا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، نا ثَوْبَانُ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا مِنْ غَيْرِ رَمَضَانَ فَأَصَابَهُ غَمٌّ أَذَاهُ فَتَقَيَّأَ، فَقَاءَ فَدَعَانِي بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَفْطَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرِيضَةٌ الْوُضُوءُ مِنَ الْقَيْءِ؟ قَالَ:" لَوْ كَانَ فَرِيضَةً لَوَجَدْتُهُ فِي الْقُرْآنِ"، قَالَ: ثُمَّ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" هَذَا مَكَانُ إِفْطَارِي أَمْسَ" . لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، غَيْرُ عُتْبَةَ بْنِ السَّكَنِ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہ رمضان کے علاوہ کی بات ہے، آپ کو کوئی تکلیف لاحق ہوئی، جس نے آپ کو اذیت دی، جس کی وجہ سے آپ کو قے آ گئی، پھر آپ نے قے کی، پھر وضو کے لیے مجھے بلا کر وضو کیا اور روزے کو ختم کر دیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! قے کرنے کے بعد وضو کرنا فرض ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ فرض ہوتا، تو تمہیں پر آن میں اس کا حکم مل جاتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن روزہ رکھا تھا، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: یہ میرے گزشتہ کل کے روزہ توڑنے کی قضا ہے۔ اس روایت کو اوزاعی کے حوالے سے صرف عطیہ بن سکن نے نقل کیا ہے، یہ شخص منکر الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 595]
ترقیم العلمیہ: 584
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 8، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1956، 1958، 1959، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1097، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1558، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2381، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 87، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1769، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 681، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 590، 591، 592، 593، 595، 2258، 2272، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22114»
«قال الدارقطني: لم يروه عن الأوزاعي غير عتبة بن السكن وهو متروك الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 42)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں